اذان کے بعد خرید و فروخت جاری رکھنا کیسا؟

الجواب

کیا جمعہ کی اذان کے علاوہ بقیہ اذان کے بعد خرید و فروخت جائز ہے؟ اور اگر اذان کے بعد کوئی معاہدہ ہوا تو اس کا کیا حکم ہے؟ اگر فریقین میں سے کوئی ایک یا دونوں غیر مسلم ہوں تو کیا حکم میں فرق ہے؟ ہمیں اپنا فتویٰ دیں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے!

اذان کے بعد خرید و فروخت کی ممانعت صرف نماز جمعہ تک ہی محدود ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

” اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن نماز کیلئے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔”

سورۃ الجمعہ، ایت # 9

کاروبار چھوڑنے کا یہ حکم جمعہ کی نماز کے لیے مخصوص ہے، جب کہ کسی دوسری نماز کی اذان کے بعد کاروبار کرنا جائز ہے۔ دوسری طرف، اگر یہ کاروبار کسی مسلمان کو نماز سے غافل ہے، تو کوئی خلفشار جائز نہیں ہے۔

کسی بھی صورت میں معاہدہ درست ہے اور فریقین میں سے ایک یا دونوں کے غیر مسلم ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Telegram
WhatsApp
Print
Pinterest
Tumblr

سوشل میڈیا پر ہماری موجودگی

معذرت ! مواد کاپی نہیں کیا جا سکتا