قضا نمازوں کا بیان

الجواب
يَجِبُ قَضَاءُ مَا فِي الذِّمَّةِ مِنَ الصَّلَوَاتِ وَلَا يَحِلُّ التَّفْرِيطُ فِيهَا ، وَمَنْ صَلَّى كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَةَ أَيَّامٍ فَلَيْسَ بِـمُفَرِّطٍ وَيَقْضِيهَا عَلَى نَحْوِ مَا فَاتَتْهُ إِنْ كَانَتْ حَضَرِيَّةً قَضَاهَا حَضَرِيَّةً وَ إِنْ كَانَتْ سَفَرِيَّةً قَضَاهَا سَفَرِيَّةً سَوَاءٌ كَانَ حِينَ الْقَضَاءِ فِي حَضَرٍ أْوْ فِي سَفَرٍ

تمام نمازوں کی قضا واجب ہے۔ اور اس میں غفلت برتنا جائز نہیں۔ اگر کوئی شخص ہر روز مسلسل پانچ دنوں کی قضا نمازوں کی ادائیگی کرتا ہےتو وہ شخص غافلوں میں شمار نہیں کیا جائے گا۔

نماز اسی انداز میں ادا کی جانی چاہئے جس انداز میں وہ قضا ہوئی تھی اگر نماز اس وقت قضا ہوئی جب وہ سفر میں تھا تو اسے اسی ہی طرح ادا کیا جائے گا۔ اور اگر تب قضا ہوئی  جب وہ اپنی رہائش گاہ میں تھا تو اسے اسی ہی طرح ادا کیا جائے گا۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ قضا کی ادائیگی کے وقت وہ رہائشی تھا یا مسافر۔

وَالتَّرْتِيبُ بَيْـنَ الْـحَاضِرَتَيْـنِ وَبَيْـنَ يَسِيرِ الْفَوَائِتِ مَعَ الْـحَاضِرَةِ وَاجِبٌ مَعَ الذِّكْرِ وَالْيَسِيرُ أَرْبَعُ صَلَوَاتٍ فَأَ دْنَى وَمَنْ كَانَتْ عَلَيْهِ أَرْبَعُ صَلَوَاتٍ فَأَقَلَّ صَلَاهَا قَبْلَ الْـحَاضِرَةِ وَلَوْ خَرَجَ وَقْتُهَا وَيَجُوزُ الْقَضَاءُ فِي كُلِّ وَقْتٍ  وَلَا يَتَنَقَّلُ مَنْ عَلَيْهِ الْقَضَاءُ وَلَا يُصَلِّي الضُّحَى وَلَا قِيَامَ رَمَضَانَ

دو موجودہ نمازوں (حاضرتین) کے درمیان ترتیب برقرار رکھنا واجب ہے۔ کیوں کہ یہ کچھ یاد شدہ نمازوں کے درمیان ہے اگر اسے یاد ہو ۔ کچھ سے مراد چار یا اس سے کم نمازیں ہیں۔

اگر کوئی چار یا اس سے کم نمازوں کا مقروض ہےتو اسے ان کو موجود نماز سے قبل ادا کرنا ہو گا۔ چاہے ان کی ادائیگی کی وجہ سے موجود نماز کا وقت ہی کیوں نہ گزر جائے۔ نمازوں کی قضا ہر وقت جائز ہے۔ جس کے پاس قضا نمازیں موجود ہوں وہ نوافل ادا نہیں کر سکتا اور نہ ہی صلوٰۃ الضحٰی پڑھ سکتا ہے نہ تراویح۔

وَلَا يَجُوزُ لَهُ إِلاَّالشَّفْعُ وَالْوِتْرُ وَالْفَجْرُ وَالْعِيدَانِ وَالْـخُسُوفُ وَالِاسْتِسْقَاءُ

 اس کو صرف شفع و وتر ، فجر، عیدین، نمازِ خسف اور نمازِ استسقاء کے سوا اور کوئی (نفل) نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں۔

وَمَنْ نَسِيَ عَدَدَ مَا عَلَيْهِ مِنَ الْقَضَاءِ صَلَّى عَدَدًا لَا يَبْقَى مَعَهُ شَكُّ

اگر کوئی شخص بھول جائے کہ اس کی کتنی نمازیں رہتی ہیں تو اسے چاہئے کہ وہ اتنی تعداد کو پورا کرے کہ اسے کوئی شبہ نہ رہے۔


مکمل کتاب پی ڈی ایف میں حاصل کریں

الگوہر العبقری علی متن الاخضری — اردو ترجمہ

Facebook
Twitter
LinkedIn
Telegram
WhatsApp
Print
Pinterest
Tumblr

سوشل میڈیا پر ہماری موجودگی

معذرت ! مواد کاپی نہیں کیا جا سکتا