اسلام کے پانچ ستون:
شہادت:
اللہ کی وحدانیت اور محمد ﷺ کی نبوت کا اقرار
نماز:
دن میں پانچ نمازوں کی ادائیگی
زکوٰۃ:
اپنی دولت سے اڑھائی فیصد ٹیکس
روزہ:
ماہِ رمضان میں فجر سے غروب آفتاب تک
حج:
طوافِ کعبہ اگر استطاعت رکھتا ہو تو
حدیثِ جبریل
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
“ایک دن ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ہمارے سامنے ایک شخص آیا جس کے کپڑے بہت زیادہ سفید اور اس کے بال بہت کالے تھے، اس پر سفر کا کوئی نشان نہیں تھا۔ اور ہم میں سے کوئی بندہ اس کو پہنچانتا بھی نہیں تھا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھ گیا، اپنے گھٹنوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور اپنے ہاتھوں کی ہتھیلیوں کو اپنی رانوں پر رکھتے ہوئے گویا ہوا:
اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اسلام کے بارے میں بتائیں۔.’
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اسلام یہ ہے کہ تو اپنی زبان سے کہہ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، اور نماز قائم کر، زکوٰۃ ادا کیاکر، رمضان کا روزہ رکھا کر اور اگر طاقت ہو تو بیت اللہ کا حج ادا کرنا۔ “
یہ بات سن کر اس آنے والے شخص نے کہا:
آپ نے سچ فرمایا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ہمیں بڑا تعجب ہوا کہ سوال بھی خود کرتا ہے اور ”صَدَقْتَ“ کہہ کر تصدیق بھی کرتا ہے۔
اس آنے والے نے فوراً دوسرا سوال کردیا
اللہ کے نبی بتائیں کہ ایمان کیا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
اللہ کے فرشتوں کو ماننا، خدا کی آسمانی کتابوں کو ماننا، اللہ کے رسولوں کو ماننا، آخرت کے دن کو ماننا اور اچھی یا بری تقدیر کو ماننا۔
اس آنے والے شخص نے کہا:
آپ نے سچ فرمایا۔
اس نے پھر پوچھا،
اللہ کےنبی! بتائیں احسان کیاہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
خداکی عبادت یوں کرگویا تواللہ کودیکھ رہاہے، اگریوں نہ کرسکے توپھر عبادت یوں کرکہ گویا خداتجھے دیکھ رہاہے۔
اسلامی عقیدہ کے چھ ستون
ایمان باللہ
اللہ تعالیٰ کے واحد و یکتا ہونے، اس کے خالق و مالک ہونے، اس کے پروردگار، حاجت روا ہونے کا اقرار اور اللہ تعالی کی ذات و صفات پر ایمان
ایمان بالملائکہ
فرشتے اللہ تعالیٰ کا پیغام اس کے مقبول بندوں تک پہنچانے کا فریضہ سر انجام دیتے ہیں۔ وہ لطیف اور نورانی مخلوق ہیں اور عام انسان انہیں نہیں دیکھ سکتے۔ ملائکہ احکامِ الٰہی کی تعمیل کرنے والی معزز مخلوق ہے۔ ان کے وجود اور ان سے متعلقہ تفصیلات کو ماننا ایمان بالملائکہ کہلاتا ہے۔
ایمان بالکتب
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت تک جتنے بھی انبیا کرام مبعوث ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان میں سے بعض پر کتابیں اور بعض پر صحائف اتارے، ان تمام صحیفوں اور کتابوں (یعنی ان کے منزل من اﷲ ہونے) پر ایمان لانا ایمان بالکتب ہے۔
ایمان بالرسالت
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کرخاتم الانبیاء سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات اقدس تک تمام انبیا و رسل کی نبوت اور رسالت کو برحق ماننا ہے، کیونکہ ہر نبی اور رسول اپنی اپنی جگہ اللہ کا بھیجا ہوا حق و صداقت کا کامل و اکمل نمونہ رہا ہے اور ان سب نے ایک ہی مشن اور مقصد کی تکمیل کے لیے ایک ہی لائحہ عمل کے تحت کام کیا ہے۔
ایمان بالآخرت
ہر شخص کوموت کے بعد زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے اعمال کا حساب دینا ہے، جس کے نتیجے میں وہ جہنم یا جنت( کی صورت میں سزا و جزا) سے ہمکنار ہو گا۔ اس زندگی کا نام آخرت یا اخروی زندگی ہے اور اس زندگی پر ایمان لانے کا نام ایمان بالآخرت ہے۔
ایمان بالقدر
ہر چیز کی تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کے فیصلے کے مطابق ہوتی ہے۔ ایسا کچھ نہیں ہوتا جس کا اس نے حکم نہ دیا ہو۔