مالکی مذہب برِصغیر میں خوش آمدید

امامِ دارالحجرۃ کون؟
پوری مسلم دنیا کے عظیم پیشوا، حضرت امام مالک بن اَنَس رحمۃُ اللہِ علیہ کا نام “ مالک “ اور کنیت “ ابو عبد اللہ “ ہے ۔ آپ امتِ مسلمہ کے عظیم ترین محدثین اور فقہاء میں سے ایک ہیں۔ آپ کی ولادت مشہور قول کے مطابق 93 ھ میں مدینہ شریف میں ہوئی اور مدینۂ پاک میں ہی آپ کاانتقال شریف ہوا۔

(تہذیب الاسماءواللغات ، 2 / 386۔ سیر اعلام النبلاء ، 7 / 382 ، رقم : 1180۔ الاعلام للزرکلی ، 5 / 257ملتقطا)
تازہ ترین مراسلہ جات
جون 14, 2026حضرت احمد زروق رحمہ اللہ کی زرّیں نصیحتیں مراکش کے عظیم محدث، فقیہ، صوفی اور مربی کے رہنما ارشادات حضرت احمد زروق رحمہ اللہ مراکش کے عظیم محدث، فقیہ، صوفی اور مربی تھے۔ آپ کا وصال لیبیا کے شہر مصراتہ میں ہوا۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ آپ کی تعلیمات کی خوشبو ان کے جسم کے مٹی میں مل جانے کے بہت بعد تک دنیا میں پھیلتی رہے گی۔ چنانچہ یہ آپ کی کرامتوں میں سے ہے کہ صدیوں گزر جانے کے باوجود آج بھی آپ کے ارشادات دلوں کو زندہ کرتے، نفوس کی اصلاح کرتے اور سالکانِ راہِ حق کی رہنمائی کرتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “جان لو! اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں اپنی توفیقِ خاص عطا فرمائے، ہماری دنیا و آخرت کی اصلاح فرمائے، اور سفر و حضر میں ہمیں راہِ حق پر ثابت قدم رکھے۔” 🔑 توبہ، تقویٰ اور نیکی کی بنیاد یاد رکھو کہ توبہ ہر خیر کی کنجی ہے، تقویٰ وسیع ترین زادِ راہ ہے، اور نیک عمل صحیح فکر و بصیرت کا سرچشمہ ہے۔ انسان لغزشوں، کوتاہیوں اور غفلتوں سے خالی نہیں۔ اس لیے کبھی توبہ سے غافل نہ ہونا، کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع سے منہ نہ موڑنا، اور کبھی ان اعمال کو ترک نہ کرنا جو تمہیں اللہ کے قریب کرتے ہیں۔ جب بھی گناہ سرزد ہو تو فوراً توبہ کرو، جب بھی خطا ہو تو اطاعت اور فرمانبرداری کی طرف لوٹ آؤ، اور جب بھی سستی یا کمزوری محسوس ہو تو کوشش اور مجاہدہ ترک نہ کرو۔ ✨ اصلاحِ ظاہر و باطن کا سفر تمہاری اولین فکر یہ ہونی چاہیے کہ اپنے ظاہر کو ہر اس چیز سے پاک کرو جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ پھر مسلسل محاسبہ اور نصیحت کے ذریعے اپنے اعمال کی اصلاح کرتے رہو، یہاں تک کہ معاصی سے نفرت اور حدودِ شرع کی حفاظت تمہاری عادت بن جائے۔ اس کے بعد اپنے دل کی طرف متوجہ ہو جاؤ، اسے ذکر و فکر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حضوری سے آراستہ کرو۔ ⏳ ابتدا اور انجام کا توازن انجام تک پہنچنے کی جلدی میں ابتدا کو ضائع نہ کرو، اور ابتدا کرتے وقت انجام سے غافل بھی نہ رہو۔ جو شخص ابتدا ہی میں انجام کا مطالبہ کرتا ہے وہ الٰہی عنایت سے محروم رہتا ہے، اور جو انجام کو نظر انداز کرکے سفر شروع کرتا ہے وہ راہنمائی سے محروم ہو جاتا ہے۔ 📜 اصولِ شریعت کی حاکمیت اپنے معاملات کو اصولِ شریعت کے مطابق قائم کرو، نہ کہ قصوں، خوابوں اور غیر مستند حکایات کے مطابق۔ صالحین کے حالات کو اپنے عزم کی تقویت کا ذریعہ بناؤ، نہ کہ ان کی ظاہری کیفیتوں کی محض نقالی کرو۔ ہمیشہ کسی واضح اور مضبوط بنیاد پر قائم رہو جس کی طرف ضرورت کے وقت رجوع کیا جا سکے۔ ⚖️ گفتگو اور نفس میں اعتدال فضول اور فحش گفتگو سے حتی المقدور اجتناب کرو۔ ایسی باتوں میں مشغول نہ ہو جن کا فائدہ تمہارے لیے واضح نہ ہو۔ اپنے نفس پر اس وقت تک بے جا سختی نہ کرو جب تک اس پر تمہاری گرفت مضبوط نہ ہو جائے، لیکن شرعی احکام کے معاملے میں اس کے ساتھ نرمی بھی نہ برتو۔ نفس ہمیشہ اعتدال سے بھاگتا اور افراط و تفریط کی طرف مائل رہتا ہے۔ 🤝 صالح رفاقت اور لوگوں سے معاملہ اپنے لیے ایک صالح ساتھی تلاش کرو جو تمہارے دینی سفر میں معاون ہو۔ اپنے ظاہری و باطنی معاملات میں اس سے مشورہ کرتے رہو۔ اس کے ساتھ اس کی استعداد اور حالات کے مطابق معاملہ کرو، کیونکہ کامل دوست بہت کم رہ گئے ہیں اور موافق ساتھی بھی نایاب ہو چکے ہیں۔ اپنے دینی و دنیاوی معاملات میں لوگوں سے محتاط رہو، الا یہ کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ وہ اپنے رب کے ساتھ سچے تعلق، خواہشاتِ نفس سے آزادی اور پاکیزہ نیت کا حامل ہے۔ 🌍 حکمتِ الٰہی اور وقت کی تنظیم لوگوں کے ظاہر و باطن، ان کے نسب و کردار، اور ان کے اعمال و اخلاق کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ ہر قوم اور ہر علاقے کی غالب صفات کو پہچانو، اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اس کی حکمتوں پر غور کرتے رہو۔ اپنے وقت کو اس کی ضروریات کے مطابق منظم کرو۔ نہ سختی اختیار کرو اور نہ سستی。 مباح چیزوں میں بے اعتدالی بھی دل کو اپنے سفر سے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ 🍂 دنیا اور آخرت کا عمل دنیا کے لیے ایسے عمل کرو گویا تم ہمیشہ زندہ رہو گے، اور آخرت کے لیے ایسے تیاری کرو گویا کل ہی اپنے رب سے ملاقات ہونے والی ہے۔ ظاہری اسباب کو اختیار کرو، مگر انجامِ کار اور آخرت کی جواب دہی کو کبھی نہ بھولو۔ 🛡️ شہرت سے دوری اور ثباتِ قدم قیادت، شہرت اور مناصب سے حتی الامکان دور رہو۔ لیکن اگر ان میں مبتلا کر دیے جاؤ تو اپنی حدود کو پہچانو۔ اللہ تعالیٰ کے لیے خالص نیت سے عمل کرو، اور اس کے فیصلوں کے سامنے مکمل سپردگی اختیار کرو۔ اپنے تمام معاملات کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرو، تم لغزشوں سے محفوظ رہو گے۔ اپنی عبادات کو منظم کرو، تمہارے اوقات میں برکت پیدا ہوگی۔ کسی چیز کے بارے میں تعصب اختیار نہ کرو، خواہ وہ حق ہی کیوں نہ ہو، اس سے تمہارا دل لوگوں کے بارے میں سلامت رہے گا۔ 💎 عاجزی، حقوق اور تحفظِ راز کبھی ایسے مقام یا مرتبے کا دعویٰ نہ کرو جس کے تم اہل نہیں۔ بلکہ جس کے اہل ہو، اس کے دعوے میں بھی احتیاط سے کام لو۔ جو شخص اپنے مقام سے بلند دعویٰ کرتا ہے وہ ذلیل ہوتا ہے، اور جو عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند فرما دیتا ہے۔ لوگوں سے اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کرو، خواہ وہ قریبی ہوں یا اجنبی۔ اجنبی تمہارا مقروض نہیں، اور قریبی اتنا قیمتی ہے کہ اسے ملامتوں میں ضائع نہ کیا جائے۔ اپنے رازوں کی حفاظت کرو۔ یاد رکھو! تمہارے راز کے لیے تمہارے اپنے سینے سے زیادہ محفوظ کوئی جگہ نہیں۔ 🔄 معمولاتِ عبادات پر استقامت اپنے معمولات اور وظائف میں کمی نہ آنے دو۔ نشاط ہو یا سستی، اپنے نفس کو ڈھیل نہ دو۔ اگر کوئی عمل فوت ہو جائے تو اس کی تلافی کرو، اور اگر اصل عمل ممکن نہ ہو تو اس جیسا کوئی دوسرا نیک عمل اختیار کر لو。 اپنے نفس کی ایک لمحے کے لیے بھی اطاعت نہ کرو، اور اس کے دعووں پر اعتماد نہ کرو۔ اپنے عزم کی حفاظت کرو، اور جب کسی خیر کا ارادہ کرو تو فوراً اس کی طرف بڑھو، اس سے پہلے کہ ارادہ کمزور پڑ جائے۔ 🎯 محاسبہِ نفس اور حسنِ سلوک اپنا محاسبہ خصوصاً واجبات اور ضروری امور میں مسلسل جاری رکھو۔ جن چیزوں کی تمہیں ضرورت نہیں، انہیں چھوڑ دو، اگرچہ وہ مستحب ہی کیوں نہ ہوں۔ اپنی توانائیاں صرف ان امور پر صرف کرو جو حقیقتاً تمہارے لیے ضروری اور مفید ہیں۔ لوگوں کے ساتھ وہی معاملہ کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو، اور ان کے حقوق ادا کرو۔ لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرو اور ظلم و زیادتی سے بچو۔ اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو اسے بہترین انداز میں معاف کرکے آگے بڑھ جاؤ۔ شاعر نے خوب کہا ہے: اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دین محفوظ رہے، تمہارا نصیب مکمل ہو اور تمہاری عزت برقرار رہے، تو اپنی زبان کی حفاظت کرو اور کسی کے عیب کا ذکر نہ کرو؛ کیونکہ تمہارے بھی عیب ہیں اور دوسروں کے پاس بھی زبانیں ہیں۔ ♦ ♦ ♦ اور اگر تمہاری آنکھ کسی کا عیب دیکھے تو اسے کہو: “اے میری آنکھ! دوسروں کے پاس بھی آنکھیں ہیں۔” جامع نبوی ﷺ ارشادات ان تمام نصیحتوں کا خلاصہ رسول اللہ ﷺ کے اس جامع فرمان میں موجود ہے: «اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ» “جہاں کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور گناہ کے بعد نیکی کر لیا کرو وہ (نیکی) اس (گناہ) کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ۔” اور آپ ﷺ نے فرمایا: «كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ» “آدم کا ہر بیٹا خطاکار ہے اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو بہت زیادہ توبہ کرنے والے ہوں گے۔” اور فرمایا: «إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ أَجَلَهَا، وَتَسْتَوْعِبَ رِزْقَهَا، فَاتَّقُوا اللَّهَ، وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ» “بیشک روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات ڈالی (پھونکی) ہے کہ کوئی بھی جان اس وقت تک ہرگز نہیں مرے گی جمع تک وہ اپنی مقررہ مدتِ حیات (عمر) اور اپنا مقررہ رزق پورا نہ کر لے۔ پس اللہ سے ڈرو اور رزق کو اچھے طریقے (عزت، وقار اور حلال راستے) سے طلب کرو۔” خلاصۂ کلام توبہ، تقویٰ اور نیک عملی ہر خیر، ہر اصلاح اور ہر کامیابی کی بنیاد ہیں۔ حق کا راستہ واضح ہے، لیکن اس پر استقامت اور اس کی تفصیلات نہایت اہم اور وزنی ہیں۔ تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں، اور حقیقی کامیابی اسی کے دستِ قدرت میں ہے۔ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ۔ والسلام۔ Customize & Download PDF [...]
جون 12, 2026فوت شدہ نمازوں کی قضا کیسے کی جائے؟ تحریر: ریما اصغر و شاذی المصري | مراجعہ: مرابط بناویڈز 🕌 قضا نماز کیلکولیٹر اور سمارٹ ٹریکر اپنی چھوٹی ہوئی نمازوں کا حساب لگائیں، روزانہ کی بنیاد پر اپنی پیش رفت مانیٹر کریں اور متوقع تاریخِ تکمیل جانیں۔ جنس منتخب کریں: مرد عورت فقہی مسلک: حنفی (وتر کی قضا بھی شامل کریں) مالکی / شافعی / حنبلی (صرف ۵ فرائض) حساب کا طریقہ: عمر کے مطابق (خودکار حساب) براہِ راست سال درج کریں موجودہ عمر (سالوں میں): اپنی موجودہ عمر درج کریں۔ بلوغت کی عمر (سالوں میں): لڑکوں کے لیے عموماً 12-15 سال اور لڑکیوں کے لیے 9-15 سال۔ کتنے سال باقاعدگی سے نماز پڑھی؟ بلوغت کے بعد کا وہ عرصہ جس میں کوئی نماز قضا نہیں ہوئی۔ چھوٹی ہوئی نمازوں کے کل سال: ان سالوں کی تعداد لکھیں جن کی نمازیں قضا ہیں۔ ماہانہ اوسط ایامِ حیض (منہا کرنے کے لیے): وہ دن جن میں شرعی عذر کی وجہ سے نمازیں معاف ہوتی ہیں۔ روزانہ کا قضا ہدف (کتنے دن کی قضا روزانہ پڑھیں گے؟): اس ہدف سے آپ کے قضا کے خاتمے کا وقت معلوم ہوگا۔ حساب لگائیں اور ٹریکر فعال کریں 🕌 آپ کا ذاتی قضا ٹریکر سفر کا آغاز مبارک! 💡 یہ ریکارڈ خودکار طور پر اسی براؤزر میں محفوظ رہے گا اور ہر بار وزٹ کرنے پر اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا۔ مجموعی قضا کی ادائیگی کی پیش رفت: 0% اللہ تعالیٰ آپ کے عزم کو قبول فرمائے اور استقامت عطا کرے۔ روزانہ کا ہدف 0 دن متوقع مدتِ تکمیل حساب لگایا جا رہا ہے... ⚡ ایک کلک لاگنگ: ➕ پورے 1 دن کی نمازیں ➕ پورے 5 دن کی نمازیں ➕ پورے 30 دن کی نمازیں نماز کل قضا درکار ادا شدہ قضا باقی نمازیں فوری تبدیلی کریں 🌅 فجر 0 0 +1 +5 -1 ☀️ ظہر 0 0 +1 +5 -1 🌤️ عصر 0 0 +1 +5 -1 🌅 مغرب 0 0 +1 +5 -1 🌌 عشاء 0 0 +1 +5 -1 🕌 وتر (واجب) 0 0 +1 +5 -1 🔄 نیا حساب لگائیں (ٹریکر ری سیٹ کریں) تاخیر سے بچنا اگر کوئی نماز بھول جانے کی وجہ سے یا جان بوجھ کر چھوٹ جائے تو اس کی قضا جلد از جلد کرنا مؤکد ہے، الا یہ کہ کوئی معتبر عذر موجود ہو، جیسے روزی کمانے کی ضرورت، جیسا کہ عدوی نے ذکر کیا ہے۔ بلکہ بلا عذر قضا میں تاخیر کرنا گناہ ہے۔ عملی طور پر، سب سے پہلے انسان کو پابندی کے ساتھ موجودہ نمازیں ادا کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے، پھر بعد میں فوت شدہ نمازوں کی قضا شروع کرنی چاہیے۔ لہٰذا یہ مناسب ہے کہ پہلے اپنی بروقت نمازوں کو مستحکم کیا جائے، پھر قضا نمازوں کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ شمار کہاں سے شروع ہوگا؟ نماز اس وقت فرض ہوتی ہے جب عاقل مسلمان بلوغت کو پہنچ جائے۔ مرد کے لیے بلوغت احتلام (منی کا اخراج) سے حاصل ہوتی ہے اور عورت کے لیے پہلا حیض سے۔ لہٰذا: نو مسلم شخص: اپنی اسلام قبول کرنے کی تاریخ سے نمازوں کا حساب کرے گا۔ جن اوقات میں کوئی شخص مجنون تھا: ان اوقات کی نمازیں اس کے ذمہ نہیں ہوں گی۔ بچپن میں جو نمازیں ترک ہوئیں: بلوغت سے پہلے کی ان نمازوں کی قضا لازم نہیں۔ نماز کو مختصر کرنے کا طریقہ؟ بعض لوگ جن پر بہت زیادہ قضا نمازیں ہیں، پوچھتے ہیں کہ کیا وہ صرف فرائض ادا کر سکتے ہیں تاکہ نماز مختصر ہو جائے؟ یہ کافی نہیں ہوگا، کیونکہ تین سے زیادہ سنن کو جان بوجھ کر چھوڑ دینا نماز کو باطل کر دیتا ہے اگر سجدۂ سہو کے ذریعے اس کی تلافی نہ کی جائے، اور سجدۂ سہو صرف بھول جانے کی صورت میں مشروع ہے، جان بوجھ کر سنت چھوڑنے کی صورت میں نہیں۔ مذکورہ مضمون کے آخر میں فرائض اور سنن کی فہرست ذکر کی گئی ہے۔ البتہ فضائل (مستحباتِ خفیفہ) کو چھوڑا جا سکتا ہے، مثلاً: رکوع و سجدہ میں تسبیحات (لیکن طمانینہ نہیں) فجر اور ظہر میں طویل سورتیں پڑھنا فجر کا قنوت سلام سے پہلے فتنوں سے پناہ کی دعا یہ تمام امور فضائل ہیں، جنہیں قصداً چھوڑنے میں گناہ نہیں۔ موجودہ نماز مقدم ہے یا قضا؟ اگر صرف ایک دن کی نمازیں فوت ہوئی ہوں تو پہلے انہی کی قضا ادا کی جائے، خواہ اس دوران موجودہ نماز کا وقت نکل جائے۔ لیکن اگر ایک دن سے زیادہ نمازیں فوت ہوں (مازری کے مطابق چھ نمازیں)، تو پہلے موجودہ نماز ادا کی جائے، پھر قضا نمازیں پڑھی جائیں۔ یہی ابن القاسم کا موقف ہے جسے مدونہ میں نقل کیا گیا ہے۔ روزانہ کتنی قضا نمازیں پڑھوں؟ امام مالک نے فرمایا کہ روزانہ پانچ دن کی نمازوں سے کم قضا کرنا کوتاہی ہے۔ تاہم آج کے حالات میں بعض علماء نے مشورہ دیا ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد ایک قضا نماز پڑھی جائے، یوں روزانہ ایک مکمل دن کی قضا ادا ہو جائے گی۔ عدوی فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی مقرر تعداد نہیں؛ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق قضا کرے۔ ضروری ہے کہ فوت شدہ سالوں کی تعداد کا اندازہ زیادہ لگایا جائے تاکہ یقین ہو جائے کہ تمام فوت شدہ نمازیں ادا ہو چکی ہیں۔ کیا قضا نمازیں ترتیب کے ساتھ ادا کرنی ہوں گی؟ پانچوں نمازیں ترتیب کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر: اگر فجر، ظہر اور عصر فوت ہو گئی ہوں اور مغرب کا وقت آ جائے تو پہلے فجر, پھر ظہر، پھر عصر پڑھی جائے، اس کے بعد مغرب ادا کی جائے، خواہ اس دوران مغرب کا وقت نکل جائے۔ اگر دو دن کی نمازیں فوت ہوں تو: ❌ غلط طریقہ پہلے دو فجر، پھر دو ظہر، پھر دو عصر پڑھنا۔ ✅ صحیح طریقہ پہلے مکمل پہلے دن کی (فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء) ادا کی جائے، پھر دوسرے دن کی (فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء) پڑھی جائے۔ سفر میں فوت ہوئی نمازوں کی قضا اصول یہ ہے کہ نماز اسی کیفیت پر قضا کی جائے گی جس کیفیت پر واجب ہوئی تھی۔ لہٰذا اگر سفر میں ظہر، عصر یا عشاء قصر کے ساتھ واجب ہوئی تھی تو قضا بھی قصر کے ساتھ کی جائے گی۔ جمعہ کی قضا کیسے ہوگی؟ فوت شدہ جمعہ کی نماز چار رکعت عام ظہر کی صورت میں ادا کی جائے گی۔ اگر دن میں جہری نماز کی قضا کروں تو کیا بلند آواز سے پڑھوں؟ نماز اسی کیفیت کے مطابق پڑھی جائے گی جس کیفیت میں فوت ہوئی تھی، نہ کہ موجودہ وقت کے مطابق۔ لہٰذا: اگر عصر کے وقت فجر کی قضا پڑھیں تو قراءت بلند آواز سے ہوگی۔ اگر رات میں ظہر کی قضا پڑھیں تو قراءت آہستہ ہوگی۔ (جہری قراءت کی کم از کم مقدار یہ ہے کہ آدمی اپنی زبان حرکت دے اور خود اپنی آواز سن سکے۔ سری قراءت میں بھی یہی کم از کم مقدار ہے۔) کیا مکروہ اوقات میں قضا نماز پڑھی جا سکتی ہے؟ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک اور عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک نفل نماز ممنوع ہے۔ لیکن قضا نماز فرض ہے، اس لیے عدوی کے مطابق فجر اور عصر کے بعد قضا نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ البتہ اگر لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہوں اور اسے ناجائز سمجھیں تو بہتر ہے کہ قضا نماز کسی اور وقت ادا کی جائے۔ اگر نماز کے دوران یاد آئے کہ ایک نماز فوت ہے؟ منوفی نے اس مسئلے میں دو اقوال نقل کیے ہیں: پہلا قول: ترتیب واجب ہے جب فوت شدہ نماز یاد آئے تو موجودہ نماز باطل ہو جاتی ہے۔ خواہ امام ہو، مقتدی ہو یا اکیلا نماز پڑھ رہا ہو، اسے نماز توڑنی ہوگی۔ مثال: اگر مغرب پڑھتے ہوئے یاد آئے کہ عصر فوت ہو گئی تھی تو مغرب توڑ کر پہلے عصر پڑھے، پھر مغرب دوبارہ ادا کرے۔ دوسرا قول: ترتیب مستحب ہے ترتیب مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔ لہٰذا مغرب مکمل کرے، پھر عصر کی قضا ادا کرے۔ البتہ اگر مغرب کا وقت ابھی باقی ہو تو مغرب کو دوبارہ پڑھنا مستحب ہوگا۔ کیا قضا باقی ہونے کی حالت میں سنت یا نفل نماز پڑھ سکتا ہوں؟ جس شخص کے ذمہ قضا نمازیں ہوں وہ عام نوافل میں مشغول نہ ہو، مثلاً ظہر سے پہلے چار رکعت نفل وغیرہ، بلکہ اپنی قضا نمازوں پر توجہ دے۔ البتہ درج ذیل نمازیں ادا کرے گا: فجر سے پہلے دو رکعت سنت وتر نمازِ عید نمازِ استسقاء نمازِ کسوف و خسوف تحیۃ المسجد اسی طرح ضرورت کے وقت استخارہ بھی کر سکتا ہے۔ اگر تہجد پڑھنا چاہے تو تہجد کی جگہ قضا نمازیں ادا کرے۔ تراویح نفل ہے، اس لیے جب تک قضا نمازیں باقی ہوں تراویح ادا نہیں کی جائے گی۔ کیا تراویح کے ساتھ قضا کی نیت کر سکتا ہوں؟ فقہِ مالکی میں مقتدی کی نیت امام کی نیت کے موافق ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا جب امام تراویح کی نیت سے نماز پڑھا رہا ہو تو مقتدی قضا نماز کی نیت نہیں کر سکتا۔ نماز کے ارکان اور سنن (فقہِ مالکی) نماز کے چودہ فرائض نمبر فرض رکن 1نیت 2تکبیرۃ الاحرام 3اس کے لیے قیام 4سورۂ فاتحہ کی قراءت 5فاتحہ کے لیے قیام 6رکوع 7رکوع سے اٹھنا 8سجدہ 9سجدہ سے اٹھنا 10پہلا سلام 11سلام کے لیے بیٹھنا 12فرائض کی ترتیب 13اعتدال 14طمانینہ نماز کی آٹھ سنن نمبر سنت عمل 1جہاں آہستہ پڑھنا ہو وہاں آہستہ پڑھنا 2جہاں بلند آواز سے پڑھنا ہو وہاں بلند آواز سے پڑھنا 3فاتحہ کے بعد سورت پڑھنا 4تمام تکبیریں (سوائے تکبیرۃ الاحرام کے) 5رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہنا 6پہلا تشہد 7دوسرا تشہد 8تشہد کے لیے بیٹھنا مآخذ: مرشد المعین (ابن عاشر) اور عدوی علی کفایۃ الطالب الربانی۔ Customize & Download PDF [...]
جون 6, 2026مالکی مذہب میں بلیوں کی خرید و فروخت کا حکم تحریر: شیخ رامی نصور (Shaykh Rami Nsour) مالکی مذہب کے مطابق بلیوں کی خرید و فروخت جائز ہے۔ فقہائے مالکیہ نے اس حوالے سے واضح احکامات بیان کیے ہیں جن کی تفصیل ذیل میں دی جا رہی ہے۔ امام خلیل رحمہ اللہ کا موقف “وجاز هر وسبع للجلد” ترجمہ: “بلی اور درندے کی خرید جائز ہے، درندے کے بارے میں (مراد) اس کی کھال ہے۔” فقہائے مالکیہ نے وضاحت کی ہے کہ اس عبارت میں بلی کے بارے میں جواز مطلق ہے (یعنی ہر جائز منفعت کے لیے)، جبکہ درندوں کے بارے میں جواز صرف ان کی کھال سے فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے ہے۔ امام دُسوقی اور البنانی کی تشریح “وأما الهر فيجوز بيعه لينتفع به حيا” ترجمہ: “رہی بلی، تو اس کی بیع جائز ہے تاکہ اس سے زندہ حالت میں فائدہ اٹھایا جائے۔” مزید یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ المدونة کے ظاہر مفہوم کے مطابق بلی سے زندہ اور مردہ دونوں حالتوں میں فائدہ اٹھانے کے لیے اس کی خرید و فروخت جائز ہے، اور یہی توضیح امام مواّق نے بھی بیان کی ہے۔ خلاصہ کلام: بلی کی خرید و فروخت مالکی مذہب میں مطلقاً جائز ہے۔ ماخذ: مختصر خلیل، حاشیۃ الدسوقی۔ اصل عربی نصوص (ملاحظہ فرمائیں) قال الشيخ خليل: وجاز هر وسبع للجلد. قال البناني: وأما الهر فيجوز بيعه لينتفع به حيا. Customize & Download PDF [...]
مئی 16, 2026مالکی مذہب میں اذان اُس اذان سے کچھ مختلف ہے جو عموماً سنی جاتی ہے، یعنی وہ اذان جو صحابیِ رسول حضرت عبد اللہ بن زیدؓ کے خواب کے ذریعے منقول ہوئی۔ امام مالکؒ نے اُس اذان کو ترجیح دی جسے خود نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو محذورہؓ کو سکھایا تھا، جس کا واقعہ ذیل میں مذکور ہے۔ بعد میں یہی اذان مدینہ منورہ میں بھی رائج ہوئی۔ اس کا فرق یہ ہے کہ اس کی ابتدا صرف دو تکبیروں سے ہوتی ہے اور اس میں دونوں شہادتوں کا ترجیع (تکرار) شامل ہے۔ امام مالکؒ نے اذان میں حد سے زیادہ لے اور گانے کے انداز (تطریب) کو ناپسند فرمایا، البتہ تھوڑی سی خوش الحانی (تحبیر) کی اجازت دی۔ ذیل میں تین مثالیں ہیں، جن میں تیسری مثال اُس مقدارِ خوش الحانی کو ظاہر کرتی ہے جو اذان میں جائز ہے۔ الفاظِ اذان اللہ اکبر (2 مرتبہ) *أشهد أن لا إله إلا الله (2 مرتبہ، آہستہ)*أشهد أن محمدًا رسول الله (2 مرتبہ، آہستہ) أشهد أن لا إله إلا الله (2 مرتبہ، بلند آواز سے)أشهد أن محمدًا رسول الله (2 مرتبہ، بلند آواز سے) حي على الصلاة (2 مرتبہ)حي على الفلاح (2 مرتبہ) الله أكبر (2 مرتبہ)لا إله إلا الله (1 مرتبہ) *اس سے مراد ترجیع ہے، یعنی دونوں شہادتوں کو پہلے آہستہ کہنا، پھر دوبارہ بلند آواز سے دہرانا۔ ممنوع لحن: اذان کے الفاظ کو اس طرح غلط ادا کرنا کہ ان کا معنی بدل جائے یا فاسد ہو جائے، حرام ہے۔ مکروہ تطریب: حد سے زیادہ اور مبالغہ آمیز لے اور خوش الحانی مکروہ ہے، اگرچہ تلفظ درست ہی کیوں نہ ہو۔ جائز تحبیر: ایسی معتدل خوش الحانی جائز ہے جو اذان کو خوبصورت بنائے لیکن گانے کی صورت اختیار نہ کرے۔ (اس کی مثال اوپر مذکور تیسری ریکارڈنگ ہے) مستحب ترجیع: ابو محذورہؓ کی اذان کا سب سے نمایاں امتیاز، جسے امام مالکؒ نے ترجیح دی، ترجیع ہے، یعنی دونوں شہادتوں کی تکرار۔ پہلے انہیں آہستہ کہا جاتا ہے، پھر بلند آواز سے دہرایا جاتا ہے۔ شوافع بھی ترجیع کو بہت مؤکد سمجھتے ہیں کیونکہ اس کی تائید صحیح مسلم کی صحیح حدیث سے ہوتی ہے، جیسا کہ ذیل میں مذکور ہے۔ اس کے برعکس احناف اور حنابلہ حضرت عبد اللہ بن زیدؓ اور حضرت بلالؓ کی اذان کو ترجیح دیتے ہیں جس میں ترجیع نہیں ہوتی اور جو چار تکبیروں سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ دو سے۔ مؤذن کے لیے باوضو ہونا بھی مستحب ہے۔ ابو محذورہؓ کی اذان کا پس منظر اسلام قبول کرنے سے پہلے حضرت ابو محذورہؓ نوجوانوں کے ایک ایسے گروہ میں شامل تھے جو اذان کا مذاق اڑاتے اور اس کی نقل اتارتے ہوئے اس کے کلمات دہراتے تھے۔ یہ واقعہ فتح مکہ کے کچھ ہی عرصہ بعد پیش آیا، جب بہت سے لوگ ظاہری طور پر اسلام میں داخل ہو چکے تھے لیکن ابھی ایمان ان کے دلوں میں پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا۔ یہ واقعہ غزوۂ حنین کے لیے طائف کی جانب سفر کے دوران پیش آیا۔ جب نبی کریم ﷺ کو اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے حضرت ابو محذورہؓ کو بلایا، ان سے گفتگو فرمائی، پھر انہیں اپنے قریب کیا، ان کے سینے پر اپنا دستِ مبارک رکھا، ان کے لیے دعا فرمائی، اور انہیں چاندی کے سکوں کی ایک تھیلی عطا فرمائی۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اذان کے کلمات ایک ایک کرکے خود سکھائے اور انہوں نے دہرائے۔ وہ اذان جو انہیں سکھائی گئی، یہ تھی: الله أكبر، الله أكبر؛ أشهد أن لا إله إلا الله (دو مرتبہ) أشهد أن محمدًا رسول الله (دو مرتبہ) پھر اسے دوبارہ دہرایا جائے: أشهد أن لا إله إلا الله (دو مرتبہ) أشهد أن محمدًا رسول الله (دو مرتبہ) حي على الصلاة (دو مرتبہ) حي على الفلاح (دو مرتبہ) الله أكبر (دو مرتبہ) لا إله إلا الله اس کے بعد حضرت ابو محذورہؓ نے درخواست کی کہ انہیں مسجد الحرام، مکہ مکرمہ کا مستقل مؤذن مقرر کیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی یہ درخواست قبول فرما لی، اور حضرت ابو محذورہؓ اسی منصب پر فائز رہے، اور شاذ و نادر ہی مکہ سے باہر گئے، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعے کی روایات متعدد کتبِ حدیث، از جمله صحیح مسلم، میں مذکور ہیں۔ ابو یوسفؒ کا امام مالکؒ سے مناظرہ ترتیب المدارک میں قاضی عیاضؒ نے امام ابو یوسفؒ (جو امام ابو حنیفہؒ کے جلیل القدر شاگرد اور بعد میں عباسی خلافت کے قاضی  القضاۃبنے) اور امام مالکؒ کے درمیان ایک مکالمہ نقل کیا ہے: امام ابو یوسفؒ نے امام مالکؒ سے کہا: “آپ ترجیع کے ساتھ اذان دیتے ہیں، حالانکہ اس بارے میں آپ کے پاس نبی ﷺ سے کوئی حدیث نہیں ہے۔” امام مالکؒ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: “سبحان الله! میں نے اس سے زیادہ عجیب بات کبھی نہیں دیکھی۔ اذان یہاں ہر روز، دن میں پانچ مرتبہ، گواہوں کے سامنے دی جاتی رہی ہے۔ لوگوں نے اسے اپنے باپ دادا سے رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے وراثت میں پایا ہے۔ کیا اس کے لیے بھی فلاں نے فلاں سے روایت کیا، جیسی سند درکار ہے؟ ہمارے نزدیک یہ (نسل در نسل منتقل ہونے والا عملی تواتر) روایات سے زیادہ مضبوط ہے۔” قاضی ابو یوسفؒ امام مالکؒ کے اس موقف سے مطمئن ہو گئے۔ (ابن القصار) اصول اگرچہ امام مالکؒ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اذان مختلف طریقوں سے سکھائی، لیکن انہوں نے ابو محذورہؓ کی اذان کو دو وجوہات کی بنا پر ترجیح دی۔ پہلی وجہ یہ کہ نبی کریم ﷺ نے یہی الفاظ اور طریقہ سکھایا، جیسا کہ صحیح مسلم میں مروی ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ اس روایت کی تائید عمل سے ہوتی ہے؛ یعنی مدینہ منورہ میں پہلے تین ادوار کے اہلِ علم مسلمانوں کے مسلسل اجتماعی عمل سے۔ امام مالکؒ، ان کے معاصرین، اور ان کے شاگردوں نے مسجد نبوی میں ہزاروں تابعینِ کرام کی موجودگی میں روزانہ پانچ مرتبہ یہی اذان سنی۔ ان ہزاروں تابعین نے یہی اذان صحابۂ کرام سے روزانہ پانچ مرتبہ سنی تھی، اور صحابہ نے اسے نبی کریم ﷺ سے حاصل کیا تھا۔ کیا ان میں سے کوئی بھی اس کے الفاظ یا طریقے میں تبدیلی کر سکتا تھا؟ اگر کوئی ایسا کرتا تو یقیناً اس کی اصلاح کر دی جاتی۔ پس یہ فقہ حدیث اور عمل، دونوں پر مبنی ہے۔ تحریر: طارق پٹنم اور حرا ہاشمینظرِ ثانی: محمد سليمان الغاتيمترجم : محمد طلحہ بن فرید المالکی مالکی فقہ کی آن لائن تعلیم آرک ویو پر حاصل کریں۔ Customize & Download PDF [...]
مئی 16, 2026طہارت، یعنی پاکیزگی، پانی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ شرعی طہارت کے باب میں پانی اُس ہلکے اور بہنے والے مائع کو کہا جاتا ہے جس میں رنگ، بو، یا ذائقہ نہ ہو۔ پانی کی تین قسمیں ہیں: ۔ طَہُور: پاک اور پاک کرنے والا پانی ۔ طَاہِر: پاک لیکن پاک نہ کرنے والا پانی ۔ نَجِس: ناپاک پانی طَہُور پانی کیا ہے؟ طَہُور وہ پانی ہے جو خود پاک ہو اور دوسروں کو پاک کرنے والا بھی ہو، یعنی وہ صاف ہو اور ہر قسم کی طہارت، جیسے وضو اور غسل، کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ طَہُور ہونے کے لیے پانی کے رنگ، بو، اور ذائقے میں تبدیلی نہیں ہونی چاہیے۔ قدرتی آبی ذخائر طَہُور ہوتے ہیں، اگرچہ ان میں موجود قدرتی چیزوں جیسے معدنیات، مٹی، یا دیگر اشیاء کی وجہ سے پانی میں کچھ تبدیلی آ جائے۔ جھیلیں، دریا، نہریں، سمندر، چشمے، کنویں، نیز بارش کا پانی، پگھلی ہوئی برف، اولے، اور ژالہ باری کا پانی سب طَہُور ہیں۔ وہ پانی بھی طَہُور ہے جو اپنے برتن کی وجہ سے متاثر ہو جائے، جیسے بالٹی، پانی کی بوتل، پائپ، یا نلی وغیرہ۔ اسی طرح نل کا پانی بھی طَہُور ہے، اگرچہ اس میں کچھ مادے شامل کیے گئے ہوں، بشرطیکہ اتنی مقدار شامل نہ کی گئی ہو کہ پانی کا رنگ، ذائقہ، یا بو بدل جائے۔ وہ پانی بھی طَہُور شمار ہوتا ہے جو ایسی چیز سے متاثر ہو جائے جس سے بچنا ممکن نہ ہو۔ مثال کے طور پر ایسا پانی جو باربی کیو کے دھوئیں یا بخور کے بخارات سے متاثر ہو گیا ہو۔ طَاہِر پانی کیا ہے؟ طَاہِر وہ پانی ہے جو پاک تو ہو لیکن پاک کرنے والا نہ ہو، یعنی وہ صاف ہو اور عام استعمالات میں کام آ سکتا ہو، لیکن شرعی طہارت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ طَاہِر پانی وہ ہے جس کے رنگ، بو، یا ذائقے میں کسی پاک چیز کی وجہ سے تبدیلی آ گئی ہو۔ مثال کے طور پر صابن والا پانی یا صفائی کا اسپرے نجاست کو شرعاً پاک نہیں کرتے، اگرچہ وہ اسے دور کر دیتے ہیں۔ نجاست کی شرعی تطہیر کے لیے ضروری ہے کہ طَہُور پانی اُس جگہ پر بہے اور صاف حالت میں بہہ کر نکلے۔ ایک اور مثال سوئمنگ پول کا پانی ہے جس میں کلورین کی بو ہو؛ اسے طہارت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ نَجِس پانی کیا ہے؟ نَجِس پانی وہ ہے جو ناپاک ہو اور کسی بھی استعمال کے قابل نہ ہو، حتیٰ کہ عام استعمالات کے لیے بھی نہیں۔ نَجِس پانی وہ ہے جس کے رنگ، بو، یا ذائقے میں نجاست کی وجہ سے تبدیلی آ گئی ہو۔ ایسے پانی کو فوراً پھینک دینا واجب ہے۔ نجاست کیا ہے؟ نجاست وہ چیز ہے جو شرعاً ناپاک ہو اور جسے فوراً دور کرنا اور نماز کی جگہ، کپڑوں، اور جسم سے ہٹانا واجب ہو، بشرطیکہ انسان قادر ہو اور اسے یاد ہو۔ درج ذیل چیزیں نجس ہیں: ۔ بہنے والا خون۔ ہر وہ چیز جو اگلے یا پچھلے مقام سے خارج ہو* ۔ قے اور معدے کا تیزاب اوپر آنا ۔ پیپ اور زخم سے نکلنے والی ہر رطوبت ۔ مائع نشہ آور اشیاء ۔ ہر مردار چیز** *سوائے اُن جانوروں کے جو کھانے کے لیے حلال ہیں (ان کا فضلہ نجس نہیں ہے) **سوائے سمندری مخلوقات، شرعی طریقے سے ذبح کیے گئے جانور کے گوشت، مردہ انسان، یا ایسے مردہ کیڑوں کے جن میں بہنے والا خون نہیں ہوتا ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ نجاست کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص نجاست کے حوض میں مکمل طور پر ڈوب بھی جائے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹتا۔ البتہ اس پر طہارتُ الخَبَث لازم ہوتی ہے، یعنی نجاست کو پاک پانی سے اس طرح دھونا کہ پانی صاف ہو کر بہہ جائے۔ نماز کے لیے کم از کم مطلوبہ طہارت میں داغ اور بو کے مکمل زائل کرنے کا مکلف نہیں بنایا گیا۔ تحریر: رحمہ اصغر نظرِ ثانی: شادى المصری مترجم محمد طلحہ بن فرید المالکی ماخذ: ابن عاشر کی المرشد المعين، متن العزية مالکی فقہ کا مطالعہ آرک ویو پر کریں۔ Customize & Download PDF [...]
مئی 3, 2026کمر سیدھی کرنا بیٹھنے سے متعلق تین واجبات میں سے پہلا اعتدال ہے، یعنی مکمل طور پر سیدھا بیٹھنا، نہ کہ سجدے سے آدھا اٹھنا۔ سکون اختیار کرنا تین واجبات میں سے دوسرا طمأنینہ ہے، یعنی کم از کم ایک لمحے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کو ساکن رکھنا۔ سلام کے لیے بیٹھنا تین واجبات میں سے تیسرا یہ ہے کہ نماز سے نکلتے وقت (السلام علیکم کہتے ہوئے) بیٹھے ہونا ضروری ہے۔ تشہد تشہد پڑھنا سنت مؤکدہ ہے، اور اگر کوئی اسے بھول جائے تو سجدۂ سہو کے ذریعے اس کی تلافی کر سکتا ہے۔ اگرچہ تشہد کے مختلف الفاظ منقول ہیں، تاہم فضیلت یہ ہے کہ اسے درج ذیل الفاظ کے ساتھ پڑھا جائے، جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منبر سے تعلیم دی: .التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ. الزَّاكِيَاتُ لِلَّهِ. الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ.السَّلَامُ عَلَيْك أَيُّه النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ.السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينأَشْهَدُ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ.و َأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ Al-tahiyatu lillah. Al-Zakiyyatu lillah. Al-tayyibatu al-salawatu lillah. Al-salamu ‘alayka ayyuha al-Nabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuh. Al-salamu ‘alayna wa ‘ala ‘ibadillah al-salihin. Ashhadu an la ilaha illah Allah wahdahu la sharika lahu, wa ashhadu anna Muhammadan ‘abduhu wa rasuluh. الصلاۃ الإبراهيمية تشہد کے بعد نبی ﷺ پر درود پڑھنا بھی فضیلت ہے۔ امام مالک کے نزدیک اس کا پسندیدہ صیغہ یہ ہے: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلى آلِ مُحَمَّدٍوارْحَمْ مُحَمَّداً وآلَ مُحَمَّدٍ.وبارِكْ عَلى مُحَمَّدٍ وعلى آلِ مُحَمَّدٍكَما صَلَّيْتَ ورَحِمْتَ وبارَكْتَعلى إبراهيمَ وعلى آلِ إبراهيمَفِي العَالَمِين إِنَّكَ حَميدٌ مَجيد Allahumma salli ‘ala Muhammadin wa ‘ala aali Muhammadin, Warham Muhammadan wa aala Muhammadin, Wa barik ‘ala Muhammadin wa ‘ala aali Muhammadin, kama sallayta wa rahimta wa barakta ‘ala Ibrahima wa ‘ala aali Ibrahima. Fi al-alamina, innaka Hamidun Majid. دو سجدوں کے درمیان کیا پڑھا جائے دو سجدوں کے درمیان کوئی فرض یا سنت ذکر مقرر نہیں۔ انسان “رب اغفر لي” کہہ کر مغفرت طلب کر سکتا ہے یا اس جیسی دیگر دعائیں کر سکتا ہے۔ اسی طرح اپنے والدین یا کسی اور کے لیے بھی دعا کی جا سکتی ہے۔ سلام سے پہلے دعا رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنّيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِوَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْـنَةِ الْـمَحْيَا وَالْـمَمَاتِوَمِنْ فِتْـنَةِ الْقُبْرِوَمِنْ فِتْـنَةِ الْـمَسِيحِ الدَّجَّالِوَمِنْ عَذَابِ النَّارِوَسُوءِ الْـمَصِيرِ Rabbana atina fi al-dunya hasanatan wa fi al-akhirati hasanatan waqina ‘adhaab al-nari. Wa a‘udhu bika min fitnati al-mahya wa al-mamati. Wa min fitnati al-qabr. Wa min fitnati al-masih al-dajjal. Wa min ‘adhabi al-nari wa su’ al-masir. کیسے بیٹھا جائے یہ فضیلت (مستحب) ہے کہ تورّک کے طریقے پر بیٹھا جائے، جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے، یعنی بائیں کولہے پر بیٹھنا جبکہ بایاں پاؤں دائیں پنڈلی کے نیچے ہو۔ دایاں پاؤں کھڑا ہو اور انگلیاں مڑی ہوئی ہوں۔ پہلی اور دوسری تشہد میں اس طرح بیٹھنا مستحب ہے، لیکن دو سجدوں کے درمیان نہیں۔ انگلی کو کیسے اور کب حرکت دی جائے اپنی انگلی کو تصویر کے مطابق رکھیں اور اسے پورے وقت طواف کی سمت میں آگے پیچھے یا دائرے کی شکل میں حرکت دیتے رہیں۔ شہادت پڑھتے وقت بھی اسے حرکت دینا بند نہ کریں۔ بیٹھنے کا ناپسندیدہ طریقہ ایڑیوں پر بیٹھنا کسی بھی وقت مکروہ ہے، جیسا کہ اس طرح: تحریر: رحمہ اصغرمراجعہ: شادي المصريمترجم : محمد طلحہ بن فرید المالکیمآخذ: العشماویہ، اخضری، ابن عاشر، اور العزیہ۔ مزید مالکی فقہ پڑھیں: Arkview.orgاردو میں دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ہمارے ٹیلیگرام سے جڑیں۔ Customize & Download PDF [...]
مارچ 15, 2026زکوٰۃ الفطر، جسے اسلامی فقہی اصطلاح میں “صدقۃ الفطر”، “زکوٰۃ الابدان” (بدن کی زکوٰۃ) یا “زکوٰۃ النفوس” (جان کی زکوٰۃ) بھی کہا جاتا ہے، دینِ اسلام کا ایک اہم مالی و بدنی فریضہ ہے جو رمضان المبارک کے روزوں کے اختتام اور عید الفطر کے موقع پر ادا کیا جاتا ہے ۔ فقہِ مالکی، جو امام دار ہجرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ کی آراء اور مدینہ منورہ کے عمل پر مبنی ہے، اس فریضے کو محض ایک مالی صدقہ نہیں بلکہ ایک عظیم الشان روحانی عمل قرار دیتی ہے جو روزے دار کے روزوں کی تطہیر اور معاشرے کے مفلس طبقات کی اعانت کا ذریعہ بنتا ہے ۔ مالکی فقہاء کے نزدیک یہ زکوٰۃ براہِ راست انسانی جسم اور اس کی بقا سے وابستہ ہے، اسی لیے اس کا تعلق نصابِ مال سے نہیں بلکہ انسانی جان کی موجودگی اور اس کی استطاعت سے ہے ۔ اس مراسلہ میں مالکی مذہب کے مستند مآخذ کی روشنی میں زکوٰۃ الفطر کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے، جس میں اس کی شرعی حیثیت، ادائیگی کا وقت، اجناس کی مقدار، زیرِ کفالت افراد کے مسائل اور عصری تقاضوں کے مطابق قیمت کی ادائیگی جیسے اہم موضوعات شامل ہیں ۔ زکوٰۃ الفطر کی شرعی حیثیت اور وجوب کے دلائل فقہِ مالکی کے مشہور اور معتمد قول کے مطابق زکوٰۃ الفطر ایک “واجب” فریضہ ہے ۔ امام مالک کے متبعین اور مالکی فقہ کے محققین نے اس کے وجوب پر قرآن، سنت اور اجماع سے استدلال کیا ہے۔ قرآنِ کریم کی سورۃ الاعلیٰ کی آیت “قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى” (بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے پاکیزگی حاصل کی) کی تفسیر میں جلیل القدر تابعی عکرمہ بن عبداللہ اور دیگر مفسرین نے اسے صدقہ فطر سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ اس آیت کے فوراً بعد ذکرِ الٰہی اور نماز (عید) کا ذکر ہے ۔ سنتِ نبوی میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت مالکی فقہ میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جس میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر مسلمان، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، اس پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو بطور صدقہ فطر “فرض” کیا ہے ۔ مالکی فقہاء کے نزدیک لفظ “فرض” یہاں وجوب کے معنی میں ہے، اور اگرچہ بعض قدیم مالکی آراء میں اسے “سنتِ مؤکدہ” بھی کہا گیا ہے، لیکن مالکی مذہب کا فتویٰ اور مشہور قول وجوب ہی پر قائم ہے ۔ وجوب کی اس دلیل کو تقویت دینے کے لیے امام ابن المنذر اور امام بیہقی جیسے ائمہ کے اقوال نقل کیے جاتے ہیں جنہوں نے اس فریضے پر امتِ مسلمہ کے اجماع کا ذکر کیا ہے ۔ مالکی فقہ میں اس وجوب کی نوعیت ایسی ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اسے ترک کرے تو وہ گناہ گار ہے، اور اگر اس کی مشروعیت کا انکار کرے تو وہ دین کی ایک اہم ضرورت کا منکر قرار پاتا ہے، تاہم سنت والے مرجوح قول کی وجہ سے وجوب کے منکر پر کفر کا حکم نہیں لگایا جاتا ۔ وجوب کی شرائط اور استطاعت کا معیار مالکی فقہ میں زکوٰۃ الفطر کے وجوب کے لیے چند بنیادی شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، جو اسے زکوٰۃ الاموال سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم شرط اسلام اور حریت (آزاد ہونا) ہے ۔ چونکہ یہ ایک بدنی عبادت اور تطہیر کا ذریعہ ہے، اس لیے یہ صرف مسلمانوں پر واجب ہے اور کسی غیر مسلم کی طرف سے اس کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا ۔ اسی طرح، آزاد ہونا بھی ایک بنیادی شرط ہے، کیونکہ غلام اپنی ذات کا مالک نہیں ہوتا اور اس کی ذمہ داری اس کے مالک پر عائد ہوتی ہے ۔ مالکی فقہاء کے نزدیک استطاعت کا معیار زکوٰۃِ مال کے نصاب سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں استطاعت سے مراد یہ ہے کہ ایک مسلمان کے پاس عید کے دن اور رات کے لیے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی بنیادی ضروریات (خورد و نوش، لباس اور مکان) سے زائد ایک صاع غلہ موجود ہو ۔ اگر کسی شخص کے پاس اتنی مقدار موجود ہے، تو وہ صاحبِ استطاعت شمار ہوگا اور اس پر اپنی اور اپنے زیرِ کفالت افراد کی طرف سے فطرانہ دینا لازم ہوگا ۔ مالکی فقہ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس عید کے دن نقد رقم یا غلہ موجود نہیں، لیکن اسے امید ہے کہ وہ بعد میں کما لے گا یا قرض واپس کر سکے گا، تو اسے قرض لے کر بھی یہ فریضہ ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ وہ اجرِ عظیم سے محروم نہ رہے ۔ شرائطِ وجوبمالکی فقہی تفصیلاسلامادائیگی کرنے والے کا مسلمان ہونا لازمی ہے ۔حریتصرف آزاد مسلمان پر واجب ہے، غلام کی طرف سے مالک ادا کرے گا ۔استطاعتعید کے دن اور رات کی ضرورت سے زائد ایک صاع کی موجودگی ۔وقت کی گنجائشوجوب کے وقت (غروبِ آفتاب یا فجر) زندہ ہونا ضروری ہے ۔ ادائیگی کا وقت: وجوب، جواز اور فضیلت زکوٰۃ الفطر کی ادائیگی کے حوالے سے مالکی فقہ میں وقت کی تقسیم نہایت باریک بینی سے کی گئی ہے۔ اس میں تین اہم اوقات کا تذکرہ ملتا ہے: وقتِ وجوب، وقتِ فضیلت اور وقتِ جواز ۔ وقتِ وجوب (Obligation Time) مالکی مذہب میں مشہور قول یہ ہے کہ زکوٰۃ الفطر رمضان المبارک کے آخری دن سورج غروب ہوتے ہی واجب ہو جاتی ہے ۔ یہ وہ لمحہ ہے جب روزہ دار رمضان کی عبادت مکمل کر کے افطار کی حالت میں داخل ہوتا ہے، اسی لیے اسے “فطر” (روزہ کھولنے) کی زکوٰۃ کہا جاتا ہے ۔ ایک دوسرا قول، جو امام مالک سے ہی مروی ہے، یہ ہے کہ اس کا وجوب عید الفطر کے دن فجر طلوع ہونے پر ہوتا ہے ۔ ان دونوں اقوال کے درمیان عملی فرق ان بچوں کے معاملے میں ظاہر ہوتا ہے جو عید کی رات پیدا ہوں؛ اگر وجوب غروبِ آفتاب پر مانا جائے تو بعد میں پیدا ہونے والے بچے پر زکوٰۃ واجب نہیں، لیکن اگر فجر پر مانا جائے تو واجب ہوگی ۔ وقتِ فضیلت اور جواز (Preferred and Permissible Times) مالکی فقہاء کے نزدیک ادائیگی کا سب سے “افضل وقت” عید کے دن نمازِ عید کے لیے نکلنے سے پہلے، طلوعِ فجر کے بعد کا وقت ہے ۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ عید کی خوشیوں کے آغاز پر ہی فقراء تک ان کا حصہ پہنچ جائے ۔ تاہم، انتظامی سہولت اور مستحقین کی تلاش کے پیشِ نظر، مالکی مذہب میں عید سے ایک یا دو دن پہلے (اور بعض روایات میں تین دن پہلے) بھی ادائیگی کی اجازت دی گئی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل اس پر شاہد ہے کہ وہ عید سے دو تین دن پہلے ہی وصول کنندگان کو صدقہ بھیج دیا کرتے تھے ۔ اگر کوئی شخص بلا عذر نمازِ عید کے بعد تک تاخیر کرتا ہے، تو مالکی فقہ میں اسے مکروہ اور گناہ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے اس فریضے کا بنیادی مقصد (فقراء کو اس دن سوال سے بے نیاز کرنا) فوت ہو جاتا ہے ۔ لیکن اگر تاخیر ہو جائے، تب بھی یہ فریضہ ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا، بلکہ اسے قضا کے طور پر ادا کرنا واجب رہتا ہے ۔ مقدار اور پیمائش کے مسائل: صاع اور مد کی تحقیق مقدار کے لحاظ سے تمام مالکی فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر فرد کی طرف سے “ایک صاع” غلہ دینا ضروری ہے ۔ صاع کی پیمائش میں مالکی مذہب “صاعِ مدینہ” کو معیار مانتا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے پیمانے ہی کو برکت اور شرعی احکام کے لیے منتخب فرمایا تھا ۔ صاع کی تعریف یہ ہے کہ یہ “چار مد” کے برابر ہوتا ہے ۔ ایک مد سے مراد ایک اوسط قامت والے انسان کے دونوں ہاتھوں کی بھرپور چلو (حفنہ) ہے، جس میں ہاتھ نہ تو بہت زیادہ کھلے ہوں اور نہ ہی سختی سے بند ہوں ۔ چونکہ مختلف اجناس کا وزن ان کی کثافت (Density) کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے اسے کلوگرام میں تبدیل کرتے وقت مالکی فقہاء نے احتیاط کے پہلو کو مدِنظر رکھا ہے ۔ جنسحالتوزن (تقریباً کلوگرام)گندم (سالم)غلہ2.50 کلوگرامگندم (آٹا)پسائی شدہ2.25 کلوگرامجو (سالم)غلہ1.75 کلوگرامجو (آٹا)پسائی شدہ1.50 کلوگرامچاولسالم2.67 کلوگرامکھجورخشک1.80 کلوگرام عصری تناظر میں، اگر کوئی شخص احتیاطاً  تین کلوگرام گندم یا چاول فی کس نکالتا ہے، تو وہ مالکی فقہ کے مطابق یقیناً بری الذمہ ہو جاتا ہے ۔ مالکی فقہاء نے یہ بھی صراحت کی ہے کہ اگر غلہ دستیاب نہ ہو اور کوئی پکی ہوئی روٹی دینا چاہے، تو اس کی مقدار اس طرح متعین کی جائے گی کہ اس میں استعمال ہونے والا آٹا صاع کی مقدار کے برابر ہو ۔ اجناس کا انتخاب اور “غالب قوتِ بلد” کا تصور مالکی فقہ میں زکوٰۃ الفطر کی جنس کے انتخاب کے لیے ایک جامع اصول مقرر کیا گیا ہے جسے “غالب قوتِ بلد”(علاقے کی عمومی خوراک) کہا جاتا ہے ۔ حدیثِ مبارکہ میں جن نو اشیاء کا تذکرہ ملتا ہے—گندم، جو، سلْت (ایک قسم کا جو)، کھجور، کشمش، پنیر (اقط)، مکئی، باجرہ اور چاول—انہی کو مالکی فقہاء نے بنیادی فہرست قرار دیا ہے ۔ مالکی موقف کی انفرادیت یہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں ان نو اصناف کے علاوہ کوئی اور چیز بطور بنیادی خوراک استعمال ہوتی ہو، تو وہاں اسی سے فطرانہ ادا کرنا جائز بلکہ بہتر ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ غریب کو وہ چیز ملے جو وہ روزمرہ زندگی میں کھانے کے لیے استعمال کرتا ہے، نہ کہ وہ چیز جو اس کے لیے اجنبی یا غیر ضروری ہو ۔ اگر کوئی شخص اعلیٰ درجے کی جنس (مثلاً گندم) چھوڑ کر ادنیٰ درجے کی جنس (مثلاً جو) سے فطرانہ دینا چاہے جبکہ اس علاقے کی عمومی خوراک گندم ہو، تو مالکی فقہاء کے نزدیک یہ ناپسندیدہ ہے اور بعض صورتوں میں اسے ناکافی بھی سمجھا جا سکتا ہے اگر وہ عام معیار سے بہت نیچے ہو ۔ زیرِ کفالت افراد کی ذمہ داری اور مالکی فقہ کا “نفقہ” ماڈل مالکی فقہ میں زکوٰۃ الفطر کی ادائیگی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایک مسلمان صرف اپنی طرف سے ہی نہیں، بلکہ ان تمام مسلمانوں کی طرف سے بھی ادائیگی کا پابند ہے جن کا نفقہ (خرچہ) اس کے ذمہ واجب ہے ۔ یہ ذمہ داری رشتہ داری، ازدواجیت اور ملکیت کے تعلق پر مبنی ہے ۔ اولاد اور والدین کی طرف سے ادائیگی والد پر واجب ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے فطرانہ ادا کرے جن کا اپنا کوئی مال نہیں ہے ۔ لڑکوں کے معاملے میں یہ ذمہ داری بلوغت اور ان کے کمانے کے قابل ہونے تک رہتی ہے، جبکہ لڑکیوں کے معاملے میں یہ ذمہ داری اس وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک ان کی شادی نہ ہو جائے اور وہ اپنے شوہر کے گھر منتقل نہ ہو جائیں ۔ اگر بچوں کا اپنا مال ہو، تو بعض مالکی محققین کے نزدیک ان کے مال سے بھی نکالا جا سکتا ہے، لیکن باپ کا اپنی طرف سے نکالنا افضل ہے ۔ اسی طرح، اگر کسی شخص کے والدین غریب اور اس کے زیرِ کفالت ہوں، تو ان کی طرف سے فطرانہ نکالنا اس پر واجب ہے ۔ بیوی کا فطرانہ اور ازدواجی تعلق مالکی فقہ کے مطابق شوہر پر اپنی بیوی کا صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے، خواہ بیوی مالدار ہی کیوں نہ ہو ۔ یہ اس لیے ہے کہ صدقہ فطر “نفقہ” (کھانے پینے کے خرچے) کے تابع ہے، اور چونکہ بیوی کا نفقہ شوہر پر لازم ہے، اس لیے اس کا فطرانہ بھی اسی کے ذمہ ہے ۔ اگر بیوی “ناشزہ” (نافرمان اور شوہر کا گھر چھوڑ کر جانے والی) ہو اور اس کا نفقہ ساقط ہو چکا ہو، تو مالکی فقہ میں اس کا فطرانہ بھی شوہر کے ذمہ سے ساقط ہو جاتا ہے ۔ طلاقِ رجعی کی صورت میں، جب تک عدت باقی ہے، شوہر پر ادائیگی لازم ہے ۔ جنین (ناپیدا بچہ) کا حکم مالکی مذہب میں حاملہ خاتون کے پیٹ میں موجود بچے (جنین) کی طرف سے زکوٰۃ الفطر کی ادائیگی “واجب” نہیں ہے ۔ تاہم، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عمل کی پیروی کرتے ہوئے اسے “مستحب” (پسندیدہ) قرار دیا گیا ہے ۔ اگر بچہ عید کی رات سورج غروب ہونے سے پہلے پیدا ہو جائے (مشہور قول کے مطابق)، تو اس کی ادائیگی واجب ہو جاتی ہے ۔ قیمت (نقدی) کی ادائیگی: قدیم موقف اور جدید مالکی فتاویٰ مالکی فقہ کے کلاسیکی اور “مشہور” موقف کے مطابق زکوٰۃ الفطر کو غلے (جنس) کی صورت میں ہی نکالنا ضروری ہے، اور قیمت یا نقدی (Cash) کی صورت میں ادائیگی “غیر مجزی” (نا کافی) سمجھی جاتی ہے ۔ امام مالک سے مروی ہے کہ انہوں نے قیمت کی ادائیگی کو ناپسند فرمایا کیونکہ یہ سنتِ نبوی کے ظاہری الفاظ کے خلاف ہے ۔ تاہم، موجودہ دور میں مالکی اکثریت والے ممالک کے سرکاری اداروں اور مفتیانِ کرام نے فقہِ حنفی اور مقاصدِ شریعہ کی روشنی میں نقدی کی ادائیگی کے جواز کا فتویٰ دیا ہے ۔ مراکش (Morocco): وہاں کی اعلیٰ علمی کونسل (المجلس العلمی الاعلیٰ) نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ آج کے دور میں غریب کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نقدی زیادہ “افضل” اور “انفع” (زیادہ فائدہ مند) ہے، کیونکہ غریب اس رقم سے اپنی مرضی کی چیزیں خرید سکتا ہے ۔ الجزائر اور تونس: ان ممالک میں بھی ہر سال حکومت کی طرف سے ایک مخصوص رقم (مثلاً مراکش میں 13 درہم یا مصر میں 35 پاؤنڈ) بطور کم از کم مقدار مقرر کی جاتی ہے تاکہ عوام کے لیے ادائیگی میں آسانی ہو ۔ یہ تبدیلی اس فکری بنیاد پر ہے کہ صدقہ فطر کا اصل مقصد “اغناء” (غریب کو بے نیاز کرنا) ہے، اور موجودہ معاشی نظام میں غلہ ذخیرہ کرنے کے بجائے رقم غریب کے لیے زیادہ کارآمد ثابت ہوتی ہے ۔ مستحقین اور تقسیم کے مالکی اصول زکوٰۃ الفطر کے مستحقین کے حوالے سے مالکی فقہ کا موقف نہایت واضح ہے: یہ صرف “مسلم فقراء اور مساکین” کے لیے ہے ۔ اگرچہ زکوٰۃِ مال کے آٹھ مصارف ہیں، لیکن مالکی فقہاء نے فطرانہ کو صرف ان دو بنیادی طبقات تک محدود رکھا ہے تاکہ عید کے دن کوئی بھوکا نہ رہے ۔ مستحقین کی تفصیلمالکی فقہی احکامفقراء و مساکینبنیادی اور اولین مستحق، جنہیں عید کے دن کھانے کی ضرورت ہو ۔غیر مسلم (ذمی)مالکی فقہ میں غیر مسلم کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں ہے ۔بنو ہاشمساداتِ کرام (آلِ بیت) کو زکوٰۃ اور صدقہ فطر دینا جائز نہیں ۔قریبی رشتہ داروہ رشتہ دار جن کا نفقہ واجب نہیں (مثلاً بھائی، چچا)، انہیں دینا افضل ہے ۔ تقسیم کے عمل میں مالکی فقہ اس بات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ انسان خود اپنے ہاتھوں سے مستحق تلاش کر کے اسے دے، یا کسی قابلِ اعتماد ادارے یا امام کو وکیل بنائے ۔ ایک غریب کو کئی لوگوں کا فطرانہ دینا یا ایک شخص کا فطرانہ کئی غریبوں میں بانٹنا، دونوں صورتیں مالکی فقہ میں جائز ہیں ۔ نقلِ زکوٰۃ: جغرافیائی حدود اور منتقلی کا حکم مالکی فقہ میں “نقلِ زکوٰۃ” (زکوٰۃ کو ایک شہر سے دوسرے شہر بھیجنا) کے حوالے سے عمومی قاعدہ یہ ہے کہ زکوٰۃ اسی جگہ تقسیم کی جائے جہاں ادا کرنے والا خود موجود ہے ۔ یہ اصول “حقِ جوار” (پڑوس کے حق) پر مبنی ہے، تاکہ ہر بستی کے غریب اپنے ہی علاقے کے لوگوں کی سخاوت سے مستفید ہوں ۔ مالکی فقہاء نے منتقلی کے لیے “مسافتِ قصر” (تقریباً 80 کلومیٹر) کی حد مقرر کی ہے ۔ بلا ضرورت اس حد سے باہر زکوٰۃ بھیجنا مکروہ ہے، لیکن اگر دوسرے علاقے میں زیادہ ضرورت مند لوگ ہوں، یا وہاں قحط زدہ اور جنگ زدہ مسلمان ہوں، یا وہاں قریبی رشتہ دار رہتے ہوں، تو ایسی صورت میں منتقلی نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہو جاتی ہے ۔ مسافر کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ جہاں عید کی رات گزارے، وہیں اپنا فطرانہ ادا کرے، جبکہ اس کے اہل و عیال کی طرف سے فطرانہ ان کے اپنے شہر میں ادا کیا جائے گا ۔ خلاصہ اور فقہی بصیرت زکوٰۃ الفطر مالکی فقہ کی روشنی میں ایک ایسی جامع عبادت ہے جو انفرادی پاکیزگی اور اجتماعی فلاح و بہبود کا حسین سنگم ہے ۔ امام مالک کی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ دین کے احکام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے انسانی ضرورت اور سماجی وقار کو اولیت دی جائے ۔ مالکی فقہ کا “صاعِ مدینہ” سے لگاؤ سنتِ نبوی سے محبت کی علامت ہے، جبکہ “غالب قوتِ بلد” کا اصول بدلتے ہوئے جغرافیائی اور معاشی حالات میں دین کی لچک کو ظاہر کرتا ہے ۔ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ عید کی خوشیوں میں اپنے ارد گرد کے مفلسوں کو شامل کرے، وقتِ مقررہ پر اپنا اور اپنے زیرِ کفالت افراد کا حصہ نکالے، اور اس مالی فریضے کو اللہ کی دی ہوئی توفیق پر شکرانے کے طور پر ادا کرے ۔ اگرچہ قدیم مالکی موقف غلے کی ادائیگی پر زور دیتا ہے، لیکن عصری اجتہاد نے نقدی کی صورت میں جو سہولت پیدا کی ہے، وہ بھی شریعت کے مقاصد اور فقراء کی مصلحت کے عین مطابق ہے، بشرطیکہ اسے خلوصِ نیت اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے سرانجام دیا جائے ۔ 📄 احکامِ زکوٰۃ الفطر مالکی مذہب کے مطابق زکوٰۃ الفطر کے احکام پر مبنی اس مفصل مراسلہ کو پی ڈی ایف کی صورت میں ڈاؤنلوڈ کریں۔ ڈاؤنلوڈ کریں Customize & Download PDF [...]
دسمبر 24, 2025”نبی اکرم ﷺ ہمیں تمام معاملات میں استخارہ کرنے کا طریقہ اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے“ (بخاری)۔ نمازِ استخارہ، جس کا لغوی معنی بہترین انتخاب کی طلب کے لیے دعا ہے، فیصلہ سازی کا ایک بنیادی ستون ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے سکھایا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ سے یہ واضح کرنے کی درخواست کی جاتی ہے کہ آیا ہم نے درست انتخاب کیا ہے یا نہیں، اور یہ ایک مخصوص نماز اور دعا کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ امام دردیؒر نے استخارہ کو ان ”خزانوں“ میں سے ایک قرار دیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے ظاہر فرمائے، اور اس بات پر زور دیا کہ ”کوئی بھی عقلمند شخص جو کسی معاملے کا ارادہ رکھتا ہو، اسے اس (استخارہ) کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔“ اس کی اہمیت خلیل ابن اسحاق المالکیؒ کے اس قول سے مزید اجاگر ہوتی ہے جنہوں نے اپنی مشہور کتاب ’مختصر‘ کے مقدمے میں نوٹ کیا: ”میں نے استخارہ کرنے کے بعد ان کی درخواست کا جواب دیا،“ جو کہ اس بابرکت عمل پر بڑے علماء کے بھروسے کو ظاہر کرتا ہے۔ تعریف لغوی اعتبار سے، استخارہ خیر طلب کرنے یا بہترین انتخاب چاہنے سے مشتق ہے۔ فقہ میں، صلاۃ الاستخارہ سے مراد ایک مخصوص عبادت ہے: دو رکعت نفل نماز جس کے بعد ایک خاص دعا مانگی جاتی ہے، تاکہ کسی مخصوص، جائز معاملے کے بارے میں اللہ کی رہنمائی حاصل کی جا سکے۔ نبی اکرم ﷺ نے ”تمام معاملات میں“ اسے سکھا کر اس کی اہمیت پر زور دیا۔ صحابی حضرت جابرؓ نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ استخارہ اسی طرح سکھاتے تھے جیسے وہ قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسے کتنی باریک بینی اور اہتمام کے ساتھ سیکھنا اور ادا کرنا چاہیے۔ شرعی حکم مالکی مذہب میں، جیسا کہ دیگر مذاہب میں ہے، نمازِ استخارہ ادا کرنا ایک مستحب یا پسندیدہ سنت قرار دیا گیا ہے۔ یہ فرض نہیں ہے۔ اس کی مشروعیت براہ راست صحیح بخاری میں موجود واضح ہدایات سے ماخوذ ہے جیسا کہ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے۔ امام دردیؒر فرماتے ہیں کہ چونکہ یہ ایک نبوی ”خزانہ“ ہے جس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، لہٰذا جب انسان حقیقی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہو تو کسی جائز وجہ کے بغیر اسے چھوڑ دینا اللہ کی رحمت اور وضاحت حاصل کرنے کا موقع ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ کس لیے کی جاتی ہے؟ استخارہ ان حالات کے لیے مشروع ہے جن میں جائز معاملات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہو، جیسے ابتدائی تحقیقات اور ضروری چھان بین مکمل ہونے کے بعد شریک حیات کا انتخاب۔ استخارہ ان انتخابات میں رہنمائی کے لیے ایک ذریعہ ہے جہاں متعدد قابل قبول آپشنز موجود ہوں یا جہاں کسی جائز عمل کے نتائج واضح نہ ہوں (مثال کے طور پر نوکری کی پیشکشوں، تعلیمی راستوں، بڑی جائز خریداریوں، سفر کے منصوبوں، یا کاروباری منصوبوں کے درمیان فیصلہ کرنا)۔ یہ اس سوال پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ وہ کام جو پہلے سے ہی اچھے معلوم ہوں، انہیں کب یا کیسے انجام دیا جائے۔ یہ کب نہیں کرنا چاہیے • فرائض • حرام کام • مکروہ اعمال • وہ معاملات جو پہلے ہی واضح یا طے شدہ ہوں: اگر تحقیق، مشورہ، اور غور و فکر کسی حتمی فیصلے تک پہنچا چکے ہوں، تو عام طور پر استخارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ استخارہ کا مقصد حقیقی شک کو دور کرنا ہے۔ اسے کیسے ادا کریں وضو کریں۔ دل میں دو رکعت نماز ادا کرنے اور رہنمائی طلب کرنے کی واضح نیت کریں۔ سورہ فاتحہ کے بعد کافرون اور اخلاص پڑھنا افضل ہے (لیکن ضروری نہیں)۔ نماز کے بعد، بیٹھے رہیں، دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں، تین بار استغفار کریں، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجیں، پھر استخارہ کی دعا پڑھیں: آڈیو عربی دعا اللَّهُمَّ إنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ إنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ (وَيُسَمِّيهِ) خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ فَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ نقل حرفی (Transliteration) Allahumma inni astakhiruka bi ‘ilmika wa astaqdiruka bi qudratika wa as’aluka min fadlika al-‘azim fa’innaka ta‘lam wa la a‘lamu wa taqdir wa la aqdir wa anta ‘allamu al-ghuyub. Allahumma in kunta ta‘lam anna hadha al-amra khayrun li fi dini wa ma‘ashi wa ‘aqibati amri, ‘aajilihi wa ajilihi faqdurhu li wa yassirhu li, thumma barik li fihi. Wa in kunta ta‘lam anna hadha al-amra sharrun li fi dini wa ma‘ashi wa ‘aqibata amri, wa ‘aajiliji wa ajilihi fasrifhu anni wasrifni anhu waqdur liya al-khayra haythu kana thumma raddini bih. ترجمہ اے اللہ، بے شک میں تیرے علم کے واسطے سے تجھ سے خیر مانگتا ہوں۔ اور تیری قدرت کے واسطے سے تجھ سے طاقت مانگتا ہوں۔ اور میں تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں۔ کیونکہ بے شک تو قدرت رکھتا ہے، اور میں قدرت نہیں رکھتا۔ تو جانتا ہے، اور میں نہیں جانتا، کیونکہ تو غیب کا جاننے والا ہے۔ اے اللہ، اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے میرے دین، میری معاش، اور میرے انجام کار، میری دنیا اور آخرت میں بہتر ہے، تو اسے میرے لیے مقدر کر دے، اسے میرے لیے آسان کر دے، اور پھر میرے لیے اس میں برکت عطا فرما۔ اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے میرے دین، میری معاش، اور میرے انجام کار، دنیا اور آخرت میں برا ہے، تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے۔ اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں کہیں بھی وہ ہو، اور مجھے اس پر راضی کر دے۔ کلیدی جملوں کا مفہوم اللہ کا کامل علم (بِعِلْمِكَ) اس کی مطلق قدرت (أَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ) ہماری حدود (فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ) تقدیر الٰہی کی طلب (فَاقْدُرْهُ لِي) آسانی کی طلب (يَسِّرْهُ لِي) برکت کی طلب (بَارِكْ لِي فِيهِ) نقصان سے پھر جانے کی طلب (فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ) بھلائی کی طلب (وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ) اطمینان کی طلب (ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ) کیا مجھے اپنی حاجت کا ذکر کرنا ضروری ہے؟ ”ہذا الامر“ (یہ کام) پڑھتے وقت، انسان کو چاہیے کہ یا تو مخصوص مسئلے کو واضح طور پر ذہن میں رکھے یا زبان سے اس کا ذکر کرے (دُسوقی)۔ تعبیر اور عمل یہ پہچاننا کہ نماز استخارہ کے بعد رہنمائی کس طرح ملتی ہے، اکثر خوابوں یا مافوق الفطرت نشانیوں کے بجائے لطیف اور عملی ہوتی ہے۔ انسان کو بنیادی طور پر دو اشاروں پر توجہ دینی چاہیے: اندرونی رجحان یا نفرت کا احساس: ایک اہم نشانی شرح صدر ہے – یعنی دل میں اس کام کو کرنے (یا چھوڑنے) کی طرف آسانی، راحت، اور جھکاؤ کا احساس۔ یہ وہ بنیادی اشارہ ہے جس کا ذکر دُسوقی جیسے شارحین نے کیا ہے۔ اس کے برعکس، مستقل نفرت، سینے میں گھٹن، اس امکان کے بارے میں ناخوشی، یا یہ احساس کہ انسان اپنے آپ کو اپنے رجحان کے خلاف مجبور کر رہا ہے، اس راستے سے دور ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے (دُسوقی)۔ واقعات میں آسانی یا رکاوٹ: مشاہدہ کریں کہ استخارہ کرنے کے بعد حقیقی دنیا میں معاملات کیسے کھلتے ہیں۔ کیا کام مکمل کرنے کا راستہ نمایاں طور پر آسان ہو گیا ہے؟ کیا رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں یا ان پر آسانی سے قابو پا لیا گیا ہے؟ یہ آسانی ایک مضبوط مثبت اشارہ ہے۔ اس کے برعکس، اگر کسی کو ہر موڑ پر مستقل، نمایاں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور معقول کوشش کے باوجود چیزیں مسلسل رکتی یا پیچیدہ ہوتی رہتی ہیں، تو یہ تجویز کرتا ہے کہ اللہ آپ کو اس سے پھیر رہا ہے۔ تکرار ابن السنی کہتے ہیں کہ اگر حقیقی غیر یقینی صورتحال برقرار رہے، تو استخارہ کو دہرانا جائز ہے (کچھ سات بار تک تجویز کرتے ہیں)، اور اس کی نیت کو دیگر نوافل کے ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، مغرب کے بعد کی دو رکعتوں کی نیت کو استخارہ کے ساتھ ملانا۔ مشورہ (استشارہ) استشارہ یہ ہے کہ ان لوگوں سے مشورہ کیا جائے جو زیر غور معاملے کے بارے میں سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، ”کوئی شخص ناکام نہیں ہوتا جب وہ استخارہ کرتا ہے، اور نہ ہی کوئی شرمندہ ہوتا ہے جب وہ استشارہ (مشورہ) کرتا ہے، اور نہ ہی کوئی محتاج ہوتا ہے جب وہ کفایت شعاری اختیار کرتا ہے“ (طبرانی)۔ درحقیقت، نفرِاوی فرماتے ہیں کہ مشورہ استخارہ پر مقدم ہے۔ بھروسے اور عمل کے ساتھ آگے بڑھنا استخارہ کا مقصد غیر فعالیت (سستی) پیدا کرنا نہیں ہے۔ خلوصِ دل سے نماز اور دعا ادا کرنے کے بعد، انسان کو اس عمل کی طرف بڑھنا چاہیے جس کی طرف دل کا جھکاؤ ہو، اور ساتھ ہی مشاہدہ کی گئی بیرونی آسانی یا رکاوٹ کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ دُسوقی خواب یا معجزاتی نشانی کے لیے غیر معینہ مدت تک انتظار کرنے سے منع کرتے ہیں۔ دستیاب نشانیوں، استدلال اور مشاورت کی بنیاد پر فیصلہ کریں، اور پھر اللہ پر بھروسہ رکھیں، اور اس کی تقدیر کو قبول کریں۔ بھروسے کے ساتھ عمل کلید ہے۔ اللہ فرماتا ہے، ”اور اللہ پر بھروسہ رکھو؛ اور اللہ ہی کارساز کافی ہے“ (33:3 احزاب)۔ کیا یہ کوئی اور کر سکتا ہے؟ دردیؒر فرماتے ہیں کہ آپ اسے کسی اور کے حوالے نہیں کر سکتے کہ آپ خود نہ کریں۔ ساتھ ہی، نفرِاوی نوٹ کرتے ہیں کہ استخارہ بنیادی طور پر ایک دعا ہے اور دوسرے لوگ بھی کر سکتے ہیں۔ لہٰذا، یہ صرف اسی صورت میں کوئی اور آپ کے لیے کر سکتا ہے جب آپ بھی اسے کریں۔ استخارہ کیا نہیں ہے یہ ضروری چھان بین (due diligence) کا متبادل نہیں ہے۔ یہ خوابوں یا نشانیوں کی ضمانت نہیں ہے؛ صرف خواب پر انحصار کرنا ناپسندیدہ ہے۔ یہ کامل نتیجے کی ضمانت نہیں ہے۔ یہ پراکسی (وکیل) کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا؛ انسان کو خود بھی اسے کرنا چاہیے۔ ماخذ (Sources): • دردیؒر، احمد بن محمد۔ الشرح الکبیر علیٰ مختصر خلیل۔ • دُسوقی، محمد بن احمد۔ حاشیہ الدُسوقی علیٰ الشرح الکبیر۔ • ابن السنی، ابو بکر۔ عمل الیوم و اللیلۃ۔ • غریانی، صادق۔ مدونۃ الفقہ المالکی و ادلتہ؛ جلد 1، صفحہ 25۔ • صدیقی، محمد بن علان۔ دلیل الفالحین شرح ریاض الصالحین۔ تحریر: علی اے بن سعد الماجد سیمینری (AlmajdSeminary.com) میں عربی میں مالکی فتویٰ پروگرام کا مطالعہ کریں۔ Customize & Download PDF [...]
دسمبر 24, 2025شفع اور وتر کیا ہیں؟ وتر وہ نماز ہے جو اس دن کی آخری نماز ہوتی ہے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم وتر کو دن کی آخری نماز بنائیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ لفظ ’شفع‘ کا لغوی معنی ’جفت‘ (دو) ہے جبکہ لفظ ’وتر‘ کا معنی ’طاق‘ ہے، کیونکہ یہ صرف ایک رکعت ہے۔ اس کا شرعی حکم اگر نبی اکرم ﷺ نے کسی نماز کو کوئی نام دیا ہو، تو اسے ’سنت‘ کا درجہ دیا جاتا ہے، جسے بلاوجہ چھوڑنا قابلِ ملامت ہے۔ اگر آپ ﷺ نے اس کے لیے کسی اجر کی تخصیص فرمائی ہو، تو اسے ’رغیبہ‘ کہا جاتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو، تو اسے ’نفل‘ کہا جاتا ہے۔ وتر سنت ہے، اور دن میں واحد سنت یہی ہے۔ صبح (فجر) سے پہلے کی دو رکعتیں ’رغیبہ‘ ہیں۔ باقی تمام دن بھر کی نمازیں نفل ہیں۔ کیا وتر کو شفع کے بغیر پڑھا جا سکتا ہے؟ کوئی شخص وتر کی ایک رکعت تنہا بھی پڑھ سکتا ہے۔ یہ درست ہوگی، لیکن اسے ناقص سمجھا جاتا ہے۔ شفع کی کتنی رکعتیں ہیں؟ اس کی کم از کم تعداد دو ہے اور اس کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد نہیں۔ نفرِاوی فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ شفع کی دس رکعتیں پڑھا کرتے تھے، دو دو کر کے۔ (اگر کسی نے نفل کے طور پر لگاتار چار رکعتیں پڑھ لیں اور درمیان میں سلام نہ پھیرا، تو یہ مکروہ ہوگا لیکن نماز ہو جائے گی)۔ اس کا وقت کیا ہے؟ اسے عشاء کے بعد سے لے کر صبح کی نماز (کے فرض) سے پہلے تک کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے، چاہے فجر کا وقت داخل ہو چکا ہو، کیونکہ صبح (کے فرض) میں تاخیر کرنا گناہ نہیں ہے۔ اس میں کیا پڑھنا چاہیے؟ پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ اور دوسری میں سورۃ الکافرون کی تلاوت کرنا مستحب ہے۔ پھر وہ تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔ اس کے بعد ایک رکعت پڑھے، اور اس میں اخلاص، الفلق اور الناس کی تلاوت کرے۔ تاہم، کوئی بھی شخص جو سورتیں چاہے پڑھ سکتا ہے۔ اسے پڑھنے کا بہترین وقت کب ہے؟ کسی بھی اور تمام نوافل کے لیے رات کا بہترین حصہ رات کا آخری تہائی پہر ہے، سوائے اس شخص کے جسے ڈر ہو کہ وہ بیدار نہیں ہو سکے گا۔ ایسی صورت میں، وہ اسے سونے سے پہلے پڑھ لے۔ یہ سری (خاموش) ہے یا جہری (بلند آواز)؟ وتر اور رات کے تمام نوافل بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے، جبکہ دن کے نوافل خاموشی سے پڑھے جاتے ہیں۔ لیکن اگر کسی نے انہیں تبدیل کر دیا، تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ اگر میں بھول جاؤں کہ میں نے شفع کی کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ رکعتوں میں کسی بھی قسم کی بھول چوک کا معاملہ اسی طرح کیا جاتا ہے جیسے فرض نمازوں میں ہوتا ہے۔ آپ ایک رکعت کا اضافہ کریں گے اور پھر سہو (بھول کے دو سجدے) کریں گے۔ اگر میں غلطی سے وتر کی دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جاؤں تو کیا ہوگا؟ نفراوی فرماتے ہیں کہ آپ دوسری رکعت مکمل کر لیں اور پھر سلام کے بعد دو سجدہ سہو کریں۔ اگر میں نے وتر پڑھ لی لیکن رات کے درمیان بیدار ہو گیا تو کیا میں تہجد پڑھ سکتا ہوں؟ چونکہ یہ اتفاقاً ہوا، اس کے برعکس کہ جان بوجھ کر وتر کے بعد نوافل پڑھے جائیں، لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں اور انسان جتنی رکعتیں چاہے پڑھ سکتا ہے۔ کیا میں دو بار وتر پڑھ سکتا ہوں؟ ”ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں۔“ کیا وتر گھر میں بہتر ہے یا مسجد میں؟ اس میں کوئی ترجیح نہیں، اگرچہ عام طور پر نفل گھر میں پڑھنا بہتر ہے۔ کیا میں بلاوجہ بیٹھ کر پڑھ سکتا ہوں؟ اسے بیٹھ کر (زمین پر) پڑھا جا سکتا ہے چاہے انسان بیمار یا زخمی نہ بھی ہو، لیکن اجر صرف آدھا ملے گا۔ ماخذوَأَقَلُّ الشَّفْعِ رَكْعَتَانِ، وَيُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ يَقْرَأَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى. وَفِي الثَّانِيَةِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ. ثُمَّ يَتَشَهَّدُ وَيُسَلِّمُ. ثُمَّ يُصَلِّي الْوِتْرَ رَكْعَةً، يَقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ. وَإِنْ زَادَ مِنَ الأَشْفَاعِ جَعَلَ آخِرَ ذٰلِكَ الْوِتْرَ. وَأَفْضَلُ اللَّيْلِ آخِرُهُ فِي الْقِيَامِ؛ فَمَنْ أَخَّرَ تَنَقُّلَهُ وَوِتْرَهُ إِلَى آخِرِهِ فَذٰلِكَ أَفْضَلُ إِلَّا مَنِ الْغَالِبُ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْتَبِهَ، فَلْيُقَدِّمْ وِتْرَهُ مَعَ مَا يُرِيدُ مِنَ النَّوَافِلِ أَوَّلَ اللَّيْلِ ماخذ: رسالۃ ابن ابی زید اور الرسالہ(نفراوی) تحریر: محمد السکندری مترجم: محمد طلحہ بن فرید المالکی مزید مالکی فقہ پڑھیں: Arkview.orgکلاسیکی کتب حاصل کریں: UmmahSpot.comاردو میں دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ Customize & Download PDF [...]
دسمبر 24, 2025لغوی اعتبار سے قرآن میں لفظ ’قنوت‘ کا مفہوم دعا مانگنا، خاموش رہنا اور قیام کرنا ہے۔ نماز میں قنوت سے مراد صبح (فجر) کی نماز کی آخری رکعت میں مانگی جانے والی ایک خاموش دعا ہے۔ مالکی مذہب میں یہ ہلکی درجہ کی مستحب (مندوب) ہے اور اس کی تفصیل درج ذیل ہے: تفصیل یہ صرف فجر کی نماز میں پڑھی جاتی ہے۔ دوسری رکعت میں۔ رکوع سے پہلے۔ خاموشی سے (سری) پڑھی جاتی ہے۔ کوئی بھی دعا مانگی جا سکتی ہے۔ ذیل میں دی گئی ’دعاِ حَفْد و خَلْع‘ پڑھنا مستحب ہے۔ قنوت کے لیے پسندیدہ دعا اے اللہ ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، اور تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں، اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں، اور تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں، اور تیرے حضور عاجزی اختیار کرتے ہیں، اور ہم (برائی کو) چھوڑتے ہیں اور ترک کرتے ہیں ہر اس شخص کو جو تیرا انکار کرے۔ اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تیرے لیے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں، اور تیری ہی طرف ہم کوشش کرتے اور لپکتے ہیں۔ ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے۔ انگریزی (ترجمہ) O Allah we seek Your help alone. We seek Your forgiveness. We believe in You. We rely on You. We humble ourselves before You. We and forsake for Your sake, and abandon whoever rejects You. O Allah, we worship You alone. We pray and prostrate to You alone. Unto You alone we strive and hurry. We seek Your mercy and fear your painful punishment. For your punishment of non-believers is immanent. عربی (متن) اللَّهُمَّ إنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُك وَنُؤْمِنُ بِك وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْك وَنَخْشَعُ لَك وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَكْفُرُكَ اللَّهُمَّ إيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَك نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْك نَسْعَى وَنَحْفِدُ نَرْجُو رَحْمَتَكَ وَنَخَافُ عَذَابَكَ الْجِدَّ إنَّ عَذَابَك بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ آڈیو یہ خاموشی سے کیوں پڑھی جاتی ہے؟ دُسوقی فرماتے ہیں کہ دعا کا اصل حکم یہ ہے کہ اسے ریاکاری کے خوف سے خاموشی سے مانگا جائے، لہٰذا قنوت بھی خاموشی سے پڑھی جاتی ہے۔ کیا ہم دو سجدہ سہو کریں گے اگر ہم اسے جان بوجھ کر یا بھول کر چھوڑ دیں؟ یہ ایک ہلکا سا استحبابی عمل (مندوب) ہے نہ کہ سنتِ مؤکدہ، لہٰذا اگر کوئی اسے نہ پڑھے، خواہ جان بوجھ کر ہی کیوں نہ ہو، تو اس پر کوئی سجدہ سہو نہیں ہے۔ یہ رکوع سے پہلے کیوں ہے؟ نفرِاوی بخاری کی حدیث نقل کرتے ہیں: حضرت انسؓ سے نبی اکرم ﷺ کی قنوت کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے یہ رکوع سے پہلے کی۔ سائل نے کہا، کسی نے بتایا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے یہ رکوع کے بعد کی۔ حضرت انسؓ نے فرمایا، وہ غلطی پر ہے، آپ ﷺ نے رکوع کے بعد صرف ایک مہینے تک قنوت کی تھی جب آپ کے بھیجے گئے مبلغین کو دھوکے سے شہید کر دیا گیا تھا، تو آپ ﷺ نے ایک ماہ تک اس قبیلے کے خلاف بددعا فرمائی، پھر آپ رک گئے۔ اگر کوئی رکوع سے پہلے اسے پڑھنا بھول جائے تو کیا حکم ہے؟ اگر کوئی اسے رکوع سے پہلے پڑھنا بھول جائے تو وہ اسے رکوع کے بعد پڑھ سکتا ہے۔ رکوع سے پہلے پڑھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ دیر سے آنے والے کو رکعت میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر کسی شخص نے رکوع کر لیا، پھر قنوت یاد آئی اور وہ قنوت پڑھنے کے لیے واپس کھڑا ہو گیا، اور پھر دوبارہ رکوع میں چلا گیا، تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی کیونکہ اس نے ایک مستحب (مندوب) کے لیے فرض کو چھوڑ دیا اور ایک رکعت میں دو بار رکوع کرنے کا مرتکب ہوا۔ کیا ہم دیگر نمازوں میں قنوت کر سکتے ہیں؟ یہ صرف صبح (فجر کی نماز) میں ہلکا سا مستحب (مندوب) عمل ہے اور کسی بھی دوسری نماز میں، بشمول رمضان، اس کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ ایک شاذ (اکیلے راوی کی) روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بار مغرب میں قنوت کی، لیکن صحابہ کرامؓ نے اس پر کبھی عمل نہیں کیا، چنانچہ نفرِاوی کے مطابق اسے استثنیٰ یا منسوخ سمجھا جاتا ہے اور اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تاہم، اگر یہ کسی اور نماز میں پڑھ لی جائے تو نماز باطل نہیں ہوتی۔ یہ پسندیدہ دعا کہاں سے آئی؟ نفرِاوی، ابو داؤد کی روایت نقل کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ ان قبائل کے خلاف قنوت کر رہے تھے جنہوں نے ستر قراءِ قرآن کو شہید کیا تھا، تو جبریل امین علیہ السلام نازل ہوئے اور نبی اکرم ﷺ کو بتایا کہ آپ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، نہ کہ کسی کے خلاف بددعا کرنے کے لیے، اور پھر انہیں وہ دعا سکھائی جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے۔ چنانچہ، نبی اکرم ﷺ نے اسے پسند فرمایا اور اپنے رب کے پاس واپس جانے تک اس پر عمل کرتے رہے۔ ابن وہب، سیوطی اور دیگر کئی علماء ذکر کرتے ہیں کہ یہ دعا دراصل قرآن کی دو سورتیں تھیں جو سورۃ الحفد اور سورۃ الخلع کے نام سے معروف تھیں، لیکن بعد میں وہ منسوخ ہو گئیں۔ ابن مسعودؓ نے انہیں اپنے مصحف میں لکھ رکھا تھا۔ ابن ابی شیبہ کی ’مصنف‘ میں درج ہے کہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ قنوت میں ان کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ مشہور دعا ’اللھم اھدنا فیمن ھدیت‘ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ’المدونۃ‘ میں بیان کیا گیا ہے کہ مندرجہ بالا دعا وہی ہے جسے نبی اکرم ﷺ نے ترجیح دی۔ ’التلقین‘ میں قاضی عبد الوہاب اسی دعا کو نقل کرتے ہیں لیکن درج ذیل اضافی سطور کے ساتھ: اللَّهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْت، وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْت وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْت، إنَّك تَقْضِي بِالْحَقِّ وَلَا يُقْضَى عَلَيْك وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْت وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْت تَبَارَكْت رَبَّنَا وَتَعَالَيْت آڈیو Allahumma ihdina fi man hadayt, wa ‘afina fi man ‘afayt Wa qina sharra ma qadayt, innaka taqdi wa la yuqda ‘alayk. Wa innahu la yadhillu man walayt, wa la ya‘izzu man ‘adayt Tabarakta rabbana wa ta‘alayt اے اللہ، ہمیں ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور ہمیں عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی۔ اور ہمیں بچا اس چیز کے شر سے جس کا تو نے فیصلہ کیا، بے شک تو حق کا فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور بے شک وہ ذلیل نہیں ہوتا جسے تو دوست رکھے، اور وہ عزت نہیں پاتا جس سے تو دشمنی رکھے۔ اے ہمارے رب تو بابرکت اور عالی شان ہے۔ اگر تقدیر لکھی جا چکی ہے تو ہم اس سے پناہ کیسے مانگ سکتے ہیں؟ یہ دعا تقدیر سے پناہ مانگتی ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کسی ایسی چیز کی درخواست کیسے کر سکتے ہیں جو ناقابل تصور ہو، جیسے کہ اپنی تقدیر سے بچنا۔ قرافی اس کا جواب یہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کچھ تقدیریں مشروط (قدرِ معلق) ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کوئی بری چیز اس شرط پر واقع ہوگی کہ بندہ دعا نہیں کرتا۔ اگر وہ دعا کر لیتا ہے، تو وہ واقعہ رونما نہیں ہوتا۔ یا اس کے برعکس۔ ایک اور مفہوم یہ ہے کہ یہ فیصلے کے اندر موجود نقصان کی تخصیص کرتی ہے۔ یعنی فیصلہ تو نازل ہوگا لیکن وہ ہمیں نقصان نہیں پہنچائے گا، بالکل اسی طرح جیسے بارش برستی ہے لیکن اگر ہم گھر کے اندر ہوں تو ہمیں اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ کیا ہم ہاتھ اٹھائیں گے؟ نفرِاوی فرماتے ہیں کہ قنوت پڑھتے وقت ہاتھ نہیں اٹھانے چاہئیں، بالکل اسی طرح جیسے سورہ فاتحہ کے بعد آمین کہتے وقت یا تشہد کے بعد دعا مانگتے وقت ہاتھ نہیں اٹھائے جاتے۔ کیا قضا نمازوں میں قنوت پڑھنا مستحب ہے؟ اگر کسی شخص کی امام کے ساتھ پہلی رکعت چھوٹ جائے اور جماعت کے سلام پھیرنے کے بعد اس پر ایک رکعت باقی ہو، تو معتمد قول یہ ہے کہ اس کے لیے اپنی چھوٹی ہوئی رکعت میں قنوت کرنا اب بھی مستحب (مندوب) ہے۔ اسی طرح، اگر کسی کی صبح کی نماز چھوٹ جائے اور وہ بعد میں اسے قضا کے طور پر پڑھے، تو اس کی قضا نماز میں بھی قنوت کرنا مستحب ہے۔ اگر امام بلند آواز میں قنوت پڑھے یا بالکل نہ پڑھے تو کیا حکم ہے؟ اگر امام شافعی مسلک سے ہو اور بلند آواز میں دعا کرے تو ہمیں آمین کہنا چاہیے اور اپنی الگ قنوت نہیں پڑھنی چاہیے جبکہ وہ اپنی پڑھ رہا ہو۔ اگر امام حنفی مسلک سے ہو اور قنوت نہ پڑھے، تو آپ اس کی قراءت مکمل ہونے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے جلدی سے دعا پڑھ سکتے ہیں۔ تحریر: شادی المصرىمترجم: محمد طلحہ بن فرید المالکیماخذ: الرسالہ (نفراوی) اور الشرح الکبیر (دُسوقی) مزید مالکی فقہ پڑھیں: Arkview.orgکلاسیکی کتب حاصل کریں: UmmahSpot.comاردو میں دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ Customize & Download PDF [...]
دسمبر 6, 2025سوالکیا میں وضو میں جرابوں پر مسح کر سکتا ہوں؟ جوابوضو میں مسح صرف خف یعنی وہ چمڑے کی جرابیں جنہیں ٹخنوں سے اوپر تک پہنا جاتا ہے، پر کیا جا سکتا ہے۔ عام جرابوں، چاہے وہ واٹر پروف ہی کیوں نہ ہوں، پر مسح جائز نہیں۔ خف پر مسح تب تک جائز ہے جب وہ وضو کے ساتھ پہنے ہوں اور اس کی کوئی مدت مقرر نہیں۔ اس کے شرائط درج ذیل ہیں: خف پر مسح کی شرائط خف ایسا چمڑا ہونا چاہیے جس پر کوئی کوٹ نہ ہو، جیسے پالش، موم، رنگ وغیرہ۔ مالکی مکتب میں غیر چرمی واٹر پروف جرابیں خف نہیں سمجھی جاتیں کیونکہ امام مالک نے استثنیٰ پر قیاس نہیں کیا۔ چمڑا پاکیزہ ہونا چاہیے، یعنی وہ ناپاک یا غیر ذبیحہ چمڑا نہیں ہونا چاہیے۔ خف کو سلائی کے ذریعے بنایا ہونا چاہیے۔ خف اس حصے کو ڈھانپے جو وضو میں دھونا لازم ہے، یعنی پاؤں سے لے کر ٹخنے تک۔ خف پہن کر مسلسل چلنا ممکن ہونا چاہیے۔ خف پہننے کی شرائط خف پانی سے حاصل ہونے والی طہارت کی حالت میں پہننا ضروری ہے، یعنی وضو کرنے کے بعد پہننا چاہیے، نہ کہ تيمم کے بعد۔ خف پہنے والا شخص اللہ کی نافرمانی کا مرتکب نہ ہو، جیسے چوری شدہ خف پہننا، یا سفر میں نافرمانی کرنا وغیرہ۔ خف آسانی اور سکون کے لیے پہنا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، یہ سنت کی پیروی کے مقصد سے بھی پہنا جا سکتا ہے۔ خف کے باطل ہونے کی صورتیں اگر کوئی جنابت یا بڑی نجاست کی حالت میں ہو، تو خف پہننا جائز نہیں رہتا۔ اگر کوئی خف اتار دے اور وضو ختم ہو جائے، تو اسے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے۔ خف میں چھوٹے سوراخ ہوسکتے ہیں جو پورے خف کے ایک تہائی سے کم ہوں، لیکن اگر سوراخ ایک تہائی سے زیادہ ہو جائے تو خف جائز نہیں رہتا۔ اگر کوئی شخص اپنے پاؤں کا آدھا یا اس سے زیادہ حصہ خف سے باہر نکالے جبکہ پاکی کی حالت میں نہ ہو، تو اسے دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔ (اگر آدھے سے کم حصہ نکالا ہو تو وضو باطل نہیں ہوتا، چاہے اس وقت وضو میں نہ بھی ہو۔) ان پر مسح کیسے کیا جائے؟ خف کے اوپر مسح فرض ہے، جبکہ نیچے کی طرف مسح سنت ہے۔ خف پر مسح کرنے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کو پاؤں کے اوپر رکھا جائے اور بائیں ہاتھ کو پاؤں کے نیچے، پھر انگلیوں سے لے کر ٹخنے تک مسح کیا جائے۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ تحریر: رحمہ اصغرنظرثانی: شادی المصرىماخذ: متن العزیہ، عمروسی مزید مالکی فقہ پڑھیں: Arkview.orgکلاسیکی کتب حاصل کریں: UmmahSpot.comاردو میں دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ Customize & Download PDF [...]
دسمبر 6, 2025سوال:میرا دوست حادثے میں اپنی کلائی توڑ بیٹھا ہے اور اس پر کاسٹ(پلاسٹر) نما چیز لگی ہے۔ کیا وہ اس ہاتھ کو بالکل چھوئے بغیر وضو کر سکتا ہے کیونکہ وہ حرکت بھی نہیں دے سکتا؟ اور کیا اس صورت میں وہ تیمم کر سکتا ہے؟ اعضا پر وضو کرنے کے درجے صورتِ حال کے مطابق درج ذیل ہیں: اگر کسی شخص کو ایسی بیماری یا چوٹ ہو جس میں زیادہ پانی لگانے سے عضو کو نقصان پہنچے، حالت خراب ہو جائے یا شفا میں تاخیر ہو، تو دھونے کی بجائے عضو کا مسح کرنا جائز ہے۔ اگر براہِ راست پانی سے مسح کرنا بھی اسی طرح نقصان دہ ہو، یعنی عضو کو نقصان پہنچانا، حالت خراب کرنا یا شفا میں تاخیر کرنا، تو جبیرہ یا جوڑے (جیسے سپلنٹ، کاسٹ، یا چوٹ پر لگائی گئی دوا) کے اوپر مسح کرنا جائز ہے۔ اگر جبیرہ یا جوڑے کے اوپر مسح کرنا ممکن نہ ہو تو اس کے اوپر موجود کور کے اوپر مسح کیا جا سکتا ہے (مثلاً کچھ ڈاکٹر کاسٹ پر پانی کے داخلے سے روکنے کے لیے پلاسٹک بیگ ڈالنے کا مشورہ دیتے ہیں)۔ اگر بالکل بھی اس عضو کو کسی چیز سے چھونا ممکن نہ ہو تو اسے چھوڑ دینا جائز ہے۔ اگر کسی بھی عضو پر مسح کرنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں تیمم کیا جاتا ہے۔ چونکہ آپ کے دوست کی چوٹ صرف ہاتھ کی ہے، اسے چاہیے کہ وہ جبیرہ یا کور کے اوپر مسح کرے، اور تیمم نہ کرے کیونکہ باقی اعضا دھوئے جا سکتے ہیں۔ واللہ أعلم۔ تحریر: رحمہ اصغرجائزہ: دکتور شادی المصریماخذ: متن العزّیة مزید مالکی فقہ پڑھیں: Arkview.orgکلاسیکی کتب حاصل کریں: UmmahSpot.comاردو میں دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ Customize & Download PDF [...]

ہم کون؟ ہمارا مقصد کیا؟

مالکی مذہب برِصغیر ایک آن لائن کاوش ہے یہ ویب گاہ مذہبِ مدینہ مذہبِ امامِ دارالہجرۃ امامِ مالک ابنِ انس رحمۃ اللہ علیہ کے لیے وقف ہے ۔

پچھلے کچھ سالوں میں برِصغیر اور اس کے اطراف میں بہت سے لوگوں کا رجحان مذہبِ مدینہ کی جانب دیکھنے کو ملا۔ لیکن مالکی مذہب کے حوالے سے مستند معلومات تک رسائی ایک انتہائی مشکل مرحلہ ہے، اس کی ایک بہت بڑی وجہ مالکی مذہب کی کتب کا برِصغیر میں بولی اور سمجھی جانے والی زبانوں میں میسر نہ ہونا ہے اور دوسری بڑی وجہ مستند مالکی علما ء و مشائخ تک عوام کی رسائی نہ ہونا رہا۔ انہیں وجوہات کو مدِّنظر رکھتے ہوئے اس آن لائن کاوش کا آغاز کیا گیا۔ ہمارا واحد فریضہ یہ ہے کہ دنیا کی دسویں بڑی سب سے زیادہ بولی جانے والے زبان اردو میں مذہبِ مدینہ کے حوالے سے مستند معلومات کی عوام تک رسائی کو ممکن بنایا جائے۔ مزید برآں، مختلف مستند مالکی متون کا اردو میں ترجمہ کرنا اور سوال و جواب کا ایک پورٹل، جو فقط مالکی فقہ سے متعلق سوالات کےلئے وقف ہے، بھی اس آن لائن کاوش کا حصہ ہیں۔

امید کرتے ہیں یہ کاوش ہماری اور آپ کی دنیا اور آخرت میں کامیابی کا سامان ثابت ہو۔ آمین

“عنقریب لوگ علم کی تلاش میں تیز رفتاری سے سفر کریں گے لیکن وہ مدینہ کے عالم سے زیادہ علم والا کسی کو نہیں پائیں گے۔”
امام ترمذی نے امام سفیان ابن عیینہ رحمۃ اللہ علیہ کا حوالہ دیتے ہوئے مزید ذکر فرمایا کہ حدیث میں جس شخص کا ذکر ہے وہ ہمارے امام مالک ابن انس رضی اللہ عنہ ہیں۔