مدتِ حیض کے بارے میں ذہن میں رکھنے کے لئے کچھ چیزیں:
- حیض کی کم سے کم کوئی مخصوص مدت متعین نہیں۔ خون کا ایک قطرہ بھی حیض سمجھا جائے گا
- دو حیض کے درمیان، طُہر کے کم از کم 15 دن ہونے چاہئیں۔
- ایک دن ایک مغرب سے اگلی مغرب تک ہے۔
- مثال کے طور پر اگر خون بہنا 2 دسمبر کو مغرب سے پہلے شروع ہوا تھا اور 9 دسمبر کو ظہر تک جاری رہتا ہے۔ پہلا دن 2 دسمبر ہے (چونکہ یہ مغرب سے پہلے شروع ہوا)۔ لہذا ہم 2 سے 9 تک کو 8 دن شمار کرتے ہیں۔ یہ حیض 8 دن کا مانا جائے گا۔
- لیکن اگر خون بہنا 2 دسمبر کو مغرب کے بعد شروع ہوا تھا اور 9 دسمبر کو ظہر تک جاری رہتا ہے۔ چونکہ خون 2 دسمبر کو مغرب کے بعد شروع ہوا تھا، اس لیے پہلا دن بنیادی طور پر 3 دسمبر ہے۔ تو اس صورت میں حیض 7 دن کا مانا جائے گا۔
جب حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت کا حساب رکھنے کی بات آتی ہے تو اس میں عورتوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے
- مبتداۃ (جن کو پہلی مرتبہ حیض آیا)
- معتادۃ (جن کو معمول کے مطابق حیض آتا ہے)
- ایک حاملہ عورت
1. مبتداۃ (جن کو پہلی مرتبہ حیض آیا)
حکم: 15 دن تک خون آنا ، حیض شمار کیا جائے گا ۔ اس سے زیادہ کو استحاضہ سمجھا جائے گا۔
منظر نامہ 1: 15 دن کم خون آیاتو جیسے ہی خون بند ہوا حیض ختم ہو گیا→غسل کرے اور نماز ادا کرے۔
منظر نامہ 2: 15 دن سے زیادہ خون آیا۔حیض 15 دن میں ختم ہو گیا → وہ غسل کرے اور نماز پڑھے۔ مزید خون بہنے کو استحاضہ سمجھا جائے گا۔
مثال:
- مریم کو پہلی بار حیض آیا اور اس نے 9 دن تک خون دیکھا۔ تو اس کا حیض 9 دن کا ہوا۔
- زینب کو پہلی بار حیض آیا اور اس نے 15 دن خون دیکھا۔ تو اس کا حیض 15 دن کا تھا۔
- عائشہ کو پہلی بار حیض آیا اور اس نے 15 دن خون دیکھا۔ اس کا حیض 15 دن کا تھا اگلے دو دن جو خون آیا وہ استحاضہ مانا جائے گا۔
2. معتادۃ (جن کو معمول کے مطابق حیض آتا ہے)
غالباً اکثر قارئین کا یہی حال ہے۔
- ان کی مدت زیادہ سے زیادہ ان کے سب طویل مدّتی حیض کے علاوہ تین دن ہیں، جب تک کہ اس کی کل مدّت 15 دن سے زائد نہ ہو۔
- اس کے بعد جو خون آئے گا ،وہ استحاضہ ہو گا، اس لیے وہ غسل کر کے نماز پڑھ سکتی ہے۔
مثال:
- مریم کو عمومی طور پر 3 دن حیض آتا ہے، لیکن اس کا سب سے طویل مدّتی حیض 4 دن تھا۔ اس جنوری میں، اسے 7 دن تک خون آیا، اس کا حیض 7 دن تھا اس سے آگے اس کا حیض زیادہ سے زیادہ 10 دن (7 دن + 3 دن) تک ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد جو خون بہے گا وہ استحاضہ ہو گا۔
- اس سے قبل زینب کو 7 دن تک حیض آیا۔ اس جنوری میں، اسے 10 دن تک خون آتا رہا۔تو اس کا حیض 10 دن کا ہے۔
- اب، زینب کو سب سے طویل حیض 10 دن آیا تھا۔ فروری میں، اسے 14 دن تک خون آتا ہے۔ اس کا حیض صرف 10 + 3 دن = 13 دن ہے۔ 14واں دن استحاضہ ہے۔
اب زینب کاسب سے لمبا آخری حیض 13 دن کا ہے۔ اب اگر مارچ میں، اسے 16 دن تک خون آتا ہے۔تو اس حیض صرف 15 دن ہو گا ۔ 16واں دن استحاضہ کا ہو گا۔
3. حاملہ عورت
اگرچہ حاملہ خواتین کو طبی حیض کا تجربہ نہیں ہوتا ہےلیکن وہ اس تعریف کے مطابق حیض کا تجربہ کر سکتی ہے جس کی تعریف ہم نے پہلے بیان کر دی ہے۔ ان کے حیض کا حکم ان کے حمل کے مہینے پر منحصر ہے۔
پہلا یا دوسرا مہینہ : ان مہینوں میں انہیں غیر حاملہ عورتوں کے حکم میں ہی سمجھا جائے گا۔ اور پہلی دو میں سے ایک قسم (یعنی مبتداۃ یا معتادۃ) میں شمار کیا جائے گا۔
تیسرے سے پانچویں مہینے تک : حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت 20 دن ہو گی۔
چھٹے مہینے سے بچے کی پیدائش تک : حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت 30 دن ہو گی۔
تفصیلی مسائل: بے قاعدہ خون آنا یا خون کے دھبے لگنا
حیض کے دوران بے ترتیب خون بہنے کی دو صورتیں ہیں۔
- پہلا یہ کہ کبھی خون آتا ہے کسی دن بالکل بھی نہیں آتا۔
- دوسرا یہ کہ ایک ہی دن میں کچھ گھنٹے خون آتا ہے پھر کچھ گھنٹے خون بالکل بھی نہیں آتا۔
1. کچھ دن خون آیا کچھ دن نہیں
- اسے صرف اتنے ہی دنوں کا حساب رکھنا ہے جتنے دن اس نے خون دیکھا۔ پھر انہیں جمع کرکے اس کے حیض کی مدت کا حساب لگے گا۔
- مثال: عائشہ 1 دسمبر سے 2 دن تک خون دیکھتی ہے۔ پھر اسے 2 دن تک خون نہیں آتا۔ پھر وہ مزید 2 دن خون دیکھتی ہے۔ اس کی حیض 4 دن ہے۔
- مثال: مریم 1 دسمبر سے 5 دسمبر تک ہر دوسرے دن خون دیکھتی ہے۔ اس کا حیض 3 دن کا ہے۔
- جب بھی اسے خون آنا بند ہو جائے اسے چاہیے کہ غسل کرے اور نماز پڑھے اور معمول کے مطابق روزہ رکھے۔
- اس کے حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت اب بھی وہی ہے جس کے مطابق وہ اوپر کی 3 اقسام میں سے ایک تھی (مبتداۃ، معتادہ، حاملہ)۔
- مثال: زینب ایک عورت ہے جس کو پہلی مرتبہ خون آیا۔ وہ 1 دسمبر سے 10 دن تک خون دیکھتی ہے۔ پھر اسے 4 دن تک خون نہیں آتا۔ پھر وہ مزید 6 دنوں تک خون دیکھتی ہے۔ اس کا حیض صرف 15 دن کی ہے۔ اس کا 16واں دن استحاضہ ہے۔
- عائشہ ایک عورت ہے جس کو پہلی مرتبہ حیض آیا۔ اس کی گزشتہ سب سے طویل مدتِ حیض 5 دن تھی۔ 1 دسمبر کو مغرب کے بعد سے، وہ 6 دن تک خون دیکھتی ہے۔ پھر اسے 4 دن تک خون نہیں آتا۔ پھر وہ مزید 3 دن خون دیکھتی ہے۔ اس کی مدتِ حیض 8 دن ہے۔ اس کا خون آنے کے 9واں دن استحاضہ ہے۔
- اگر 15+ دنوں تک مسلسل خون نہیں آتا ہے، تو گنتی دوبارہ شروع ہو جاتی ہے اور اس کے بعد آنے والے کسی بھی خون کا شمار اگلے حیض میں ہوتا ہے۔
- مریم 1 دسمبر سے 5 دسمبر تک ہر روز خون دیکھتی ہے۔ اس کے بعد 21 دسمبر کو وہ دوبارہ خون دیکھتی ہے۔ اس کا پہلا حیض 1 دسمبر سے 5 دسمبر تک تھا۔ 21 دسمبر کو اس کا خون بہنا اس کے اگلےحیض کا آغاز ہے۔
2. کچھ گھنٹے خون کا آنا پھر کچھ گھنٹے نہ آنا
مذکورہ بالا صورت کی طرح جب بھی اس کا خون آنا بند ہو جائے اسے چاہیے کہ غسل کرے اور نماز پڑھے اور معمول کے مطابق روزہ رکھے۔
حیض کب ختم ہوتا ہے؟
اس کا حیض ختم ہوتا ہے جب:
- جب اسے لگے کہ خون آنا بند ہو گیا ہے۔ خون تب “بند” تصور ہو گا جب:
- شفاف یا سفید مائع کا اخراج ہو ؛ یا
- مزید خون نہ آ رہا ہو۔ اسے چیک کرنے کےلئے اسے اندامِ نہانی کے اندر تھوڑا سا کپڑا ڈالنا ہو گا ۔ تا کہ یقینی ہو سکے کہ خون کے آثارنہیں ہیں۔
- وہ اپنی حیض کی زیادہ سے زیادہ مدت پوری کر چکی ہو، جیسے کہ اوپر بیان کیا جا چکا۔