ذبح کے شرائط
________________________________________
جو شخص نابالغ ہو، یا مجنون، یا بیہوش، یا نشے میں ہو، اس کا ذبح کرنا درست نہیں۔
________________________________________
اسلام یا اہل کتاب ہونا
ذابح (ذبح کرنے والا) مسلمان یا اہل کتاب ہونا چاہیے۔
اہل کتاب سے مراد نصرانی (عیسائی) اور یہودی ہیں۔
مجوسی، مشرک، دہریہ، اور مرتد کی ذبیحہ درست نہیں۔
نوٹ:
قربانی اور ہدی میں خصوصاً یہ شرط ہے کہ ذابح مسلمان ہو۔
لہٰذا نصرانی یا یہودی کا ذبح شدہ جانور قربانی یا ہدی میں درست نہیں۔
________________________________________
وہ حصے کاٹنا جو ذبیحہ کے لیے ضروری ہیں
ذکاة میں جو حصہ قطع کرنا واجب ہے، اسے حلقوم میں ذبح کرنا ضروری ہے۔
اس میں پورا حلقوم اور ودجان کا قطع کرنا لازم ہے۔ حلقوم وہ نالی ہے جس سے سانس گزرتا ہے، اس کا کچھ حصہ کاٹنا کافی نہیں ہوتا۔ ودجان گردن کے دونوں طرف کی دو رگیں ہیں جو جسم کی زیادہ تر رگوں سے جڑی ہوتی ہیں اور دماغ سے بھی منسلک ہیں۔ اگر ان میں سے ایک کو کاٹا جائے اور دوسرے کو یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا جائے تو ذبیحہ کھانے کے قابل نہیں ہوگی۔
لیکن مرئ، جسے بَلْعوم کہتے ہیں، جو حلقوم کے نیچے ایک سرخ رگ ہے اور منہ اور معدے کے سر سے جڑی ہوتی ہے، اسے کاٹنا شرط نہیں ہے۔ یہ حصہ کھانا معدے تک پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ امام شافعی نے اسے شرط قرار دیا ہے۔
________________________________________
کاٹنے کی جگہ
قطع کا آغاز گردن کے اگلے حصے (مقدم) سے ہونا چاہیے، پس گردن کے پچھلے حصے (قفا) سے ذبح کرنا کافی نہیں۔
البتہ اگر ذبح گردن کی ایک جانب سے شروع کیا جائے اور چھری کو دوسری جانب کی طرف جھکا دیا جائے، تو ذبیحہ کھایا جا سکتا ہے — بشرطیکہ ذبح کے آغاز میں نُخاع نہ کاٹا گیا ہو، یعنی وہ نس جو گردن کو ریڑھ کی ہڈی (سلسلة الظهر) سے جوڑتی ہے، وہ حلقوم اور ودجان تک پہنچنے سے پہلے نہ کٹی ہو۔
اور اگر کسی نے چھری کو پلٹ کر اسے ودجان اور حلقوم کے نیچے داخل کیا اور ان کو کاٹ دیا، تو سحنون اور دیگر فقہاء نے فرمایا کہ ایسا ذبیحہ کھایا نہیں جائے گا، جیسا کہ جاہل لوگ پرندوں کو ذبح کرتے وقت اکثر ایسا کرتے ہیں۔
________________________________________
ذبح کرنے کا آلہ
ذبح ایسے آلے سے ہونا چاہیے جو تیز دھار رکھتا ہو، خواہ وہ آلہ لوہے کا ہو یا کسی اور چیز کا، جیسے شیشہ، پتھر، یا بوص (نیزہ نما لکڑی) — بشرطیکہ اس میں کاٹنے کی صلاحیت ہو۔
لیکن دانت یا ناخن سے ذبح کرنا جائز نہیں، چاہے وہ ذابح کے جسم سے جُڑا ہو یا جدا ہو۔
اسی طرح ایسا آلہ جو دباؤ ڈالنے والا ہو (مثقّل)، جیسے پتھر سے مار کر یا سر کو کچل کر جانور کو مارنا، یا صرف دانتوں سے پھاڑ کر یا ہاتھ سے ہی گردن توڑ دینا — ان تمام صورتوں میں ذبح جائز نہیں۔
________________________________________
ذبح کا طریقہ
ذابح کو چاہیے کہ وہ ذبح کے دوران آلہ (چاقو وغیرہ) نہ اٹھائے جب تک ذبح مکمل نہ ہو جائے۔
اگر اس نے آلہ اٹھا لیا اور درمیان میں فاصلہ زیادہ ہو گیا، تو ذبیحہ کسی بھی حال میں حلال نہیں ہوگی — چاہے اس نے یہ وقفہ اختیاراً کیا ہو یا اضطراراً مجبوری سے۔
لیکن اگر وقفہ زیادہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں، اور یہ “زیادہ” یا “کم” ہونے کا معیار عرف (عام لوگوں کی عادت و فہم) پر ہے۔
یہ حکم اس صورت میں ہے جب ذبح کے دوران جانور کے کچھ قاتل اعضاء ) مقاتل) کٹ چکے ہوں۔
لیکن اگر پہلے ذبح میں مقاتل میں سے کچھ بھی نہ کٹا ہو، تو پھر کسی بھی صورت میں وقفہ نقصان دہ نہیں، کیونکہ اس وقت دوسری ذبح پہلی سے بالکل الگ سمجھی جائے گی۔، لہٰذا اگر وقفہ طویل ہو، تو دوسری مرتبہ ذبح کرتے وقت نئی نیت اور تسمیہ (بسم اللہ) دوبارہ کہنا لازم ہوگا۔
کیا لیکن فاصلہ زیادہ نہ ہو تو نیت اور تسمیہ دوبارہ ضروری نہیں۔
________________________________________
ذابح کی نیت
قطع کرنے کے وقت ذابح کی نیت اس ذبح کی ادائیگی کی ہونی چاہیے، یعنی جانور کو حلال کرنے کی نیت کے ساتھ ذبح کرے۔
اگر نیت صرف جانور کو مارنے کی ہو یا صرف ضرب لگانے کی ہو چاہے قطع ذبح کے مقام پر ہی ہو، یا قطع کرنے والا ذابح غیر متمیز (جیسے بیمار یا دیوانہ) ہو، تو ایسی ذبیحہ کھانے کے قابل نہیں ہوگی۔________________________________________
نوٹ:
• اونٹ کی ذکاة میں نحر کرنا سنت ہے، اور ضرورت کے وقت اس کا ذبح کرنا جائز ہے۔
• بھیڑ کی ذکاة میں ذبح کرنا سنت ہے، اور ضرورت کے وقت اس کا نحر کرنا جائز ہے۔
• گائے کی ذکاة میں ذبح کرنا سنت ہے، لیکن نحر کرنا بھی بغیر ضرورت جائز ہے۔
• جو شخص بغیر ضرورت اور بغیر سنت کے (مثلاً اونٹ کو ذبح کے بجائے نحر کرے، یا بھیڑ کو نحر کے بجائے ذبح کرے) ذبح کرے، تو فقہا میں اس بارے اختلاف ہے:
o بعض نے کہا کہ ایسا ذبیحہ حرام ہے اور کھایا نہیں جا سکتا۔
o بعض نے اسے صرف کراہت سمجھا ہے۔