عید کے لیے جانور کی قربانی کرنا ایک سنت ہے جو اس کی استطاعت رکھنے والوں پر واجب ہے۔ اور بالکل اسی طرح قربانی کے مسائل کا علم حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔
قربانی کے مسائل : جانور کی عمر کے بارے میں:
بھیڑوں کے معاملے میں کم سے کم قابل قبول ایک جذعہ ہے، یعنی ایک سال کا مینڈھا، حالانکہ کچھ نے آٹھ ماہ اور کسی نے دس ماہ کا کہا ہے۔
بکریوں کے معاملے میں، یہ ثانیہ ہونا چاہئے یعنی دوسرے سال کا نر اور اسی طرح مویشیوں اور اونٹوں کے معاملے میں صرف ثانیہ ہی قابل قبول ہے۔
مویشیوں کے حوالے سے ثانیہ چوتھے سال کا نر ہے اور اونٹ کے حوالے سے چھ سال کا نر ہے۔
جانوروں کی ترتیب بدرجہِ فضیلت:
غیر خصی مینڈھے کی قربانی خصی مینڈھے کی قربانی سے بہتر ہے۔
خصی مینڈھے کی قربانی بھیڑ کی قربانی سے بہتر ہے۔
بھیڑیں بکرے اور بکریوں سے بہتر ہیں۔
غیر خصی بکرے اونٹوں اور مویشیوں سے بہتر ہیں۔
ترتیب واراگر بیان کیا جائے تو یہ کل بارہ درجات بن جائیں گے ۔ خلاصہ یہ کہ قربانی کے لیے سب سے بہتر جانور غیر خصی شدہ مینڈھا ہے اور سب سے کم درجے میں اونٹنی اور گائے ہیں۔
جہاں تک ‘ہدی’ کا تعلق ہے تو اونٹ سب سے افضل ہیں، پھر مویشی، پھر بھیڑ اور پھر بکری۔ کیوں کہ اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ گوشت کا غریبوں کو پہنچانا ہے
ہدی وہ جانور ہے جو حج تمتع اور حج قران میں ھدی کے طور پر ذبح کیا جاتا ہے۔ ہدی منیٰ اور بقیہ حرم میں ذبح کرنا مشروع ہے جب کہ قربانی ہر جگہ ذبح کی جا سکتی ہے۔
قربانی کے مسائل (متفرق)
جن جانوروں کی قربانی جائز نہیں:
ان میں سے کسی بھی صورت میں کانے یا بیمار جانور یا واضح طور پر لنگڑے یا لاغر جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔
درحقیقت آپ کو کسی ایسے جانور کو قربانی کے لیے استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس میں کچھ خرابی ہو۔
کسی ایسے جانورکو قربان نہیں کر سکتے جس کا کان ٹوٹا ہوا ہو ، ہاں اگر یہ بہت معمولی سا ٹوٹا ہوا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں۔
اسی طرح ایسا جانور جس کا مکمل کان کٹ گیا ہو یا اس کا سینگ ٹوٹ گیا ہو اور اس سے خون بہہ رہا ہو (یا زخم ابھی تازہ ہو) تو اسے قربان نہیں کر سکتے۔ ہاں اگر خون نہ بہہ رہا ہو (یعنی زخم ٹھیک ہو گیا ہو) تو قابلِ قبول ہے۔
قربانی کا وقت:
یومِ قربان کی صبح امام کے قربانی کر چکنے کے بعد اپنے جانور کو خود ذبح کرنا افضل ہے۔ اگر آپ امام سے قبل قربانی کرتے ہیں تو آپ کو قربانی دوبارہ کرناہو گی۔
اگر کوئی امام سے قبل یا قربانی کے وقت سے قبل یا فجر کے بعدسورج کے نکلنے سے پہلے قربانی کرتا ہے تو یہ جائز نہیں قربانی دہرانا ہو گی۔
اگر آپ کے ہاں کوئی امام نہیں ہے، تو آپ کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ آپ قریب ترین امام سے قبل قربانی نہیں کریں گے۔ قربانی رات کو نہیں کرنی چاہیے۔
قربانی کے تین دن ہیں اور آپ آخری دن مغرب تک کسی بھی وقت قربانی کر سکتے ہیں لیکن قربانی کرنے کا بہترین وقت پہلا دن ہے۔
اگر پہلے دن ظہر سے پہلے قربانی نہ کر سکیں تو بعض اہل علم کے نزدیک دوسرے دن کی صبح تک انتظار کرنا بہتر ہے۔
رسمِ قربان:
جس جانور کی قربانی کا ارادہ ہو اسے قبلہ رخ کر لیا جائے۔
اور ذبح کرتے وقت بسم اللہ اللہ اکبر کہیں۔ (اللہ کے نام سے، اللہ سب سے بڑا ہے۔)
اگر عید کے لیے قربانی کرتے وقت ربنا تقبل منا (اے ہمارے رب، ہم سے قبول فرما) کا اضافہ کر لیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
اگر آپ عید کے لیے یا کسی اور وقت کےلئے جانور قربان کرتے ہوئے ‘بسم اللہ’کہنا بھول جائیں تو اسے کھانے کی اجازت ہے۔ البتہ اگر بسم اللہ جان بوجھ کر چھوڑ دی گئی تو جانور کو کھانا درست نہیں۔
ذبح کرنے کا درست طریقہ:
قربانی کے مسائل میں ایک انتہائی اہم چیز جانور کو ذبح کرنے کے طریقوں کا علم بھی ایک اہم مسئلہ ہے
ذبح کرنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ حلق کی نالی اور شہ رگ کو کاٹ دیا جائے اور اس سے کم کوئی چیز قابل قبول نہیں۔اگر آپ کچھ حصہ کاٹ کر ہاتھ اٹھا لیتے ہیں اور پھر باقی بچا ہوا حصہ کاٹتے ہیں تو اس طرح ذبح شدہ جانور آپ نہیں کھا سکتے۔لیکن اگر فوراً ہاتھ واپس لے آتےہیں تو بعض اہلِ علم کے نزدیک اسے کھایا جا سکتا ہے
اگر آپ جانور کا مکمل سر کاٹ بیٹھیں تو یہ ایک غلط کام کیا۔ لیکن جانور کو کھایا جا سکتا ہے۔
اگر آپ جانور کو گردن کے پچھلے حصے سے ذبح کر بیٹھے۔ تو اس جانور کو کھایا نہیں جا سکتا۔
ذبح کے مختلف طریقوں کے حوالے سے قربانی کے مسائل:
مویشی:
مویشیوں کو چھری سے ذبح کرنا چاہئے، لیکن اگر ان کونیزے سے نحرکر دیا جائے تو پھر بھی کھایا جا سکتا ہے۔
اونٹ
اونٹ کو نیزے سے گلے میں نحر کیا جانا چاہیے اور اگر چھری سے ذبح کیا جائے تو اسے کھایا نہیں جا سکتا، البتہ یہ مسئلہ اختلافی ہے۔
بھیڑ اور بکریاں
بھیڑ بکریوں کو چھری سے ذبح کیا جائے اور اگر ان کے گلے میں نیزے سے نحر کر دیا جائے تو ان کو کھایا نہیں جا سکتا۔ اگرچہ اس میں بھی اختلاف ہے۔
جنین ۔ مادہ کے پیٹ میں پلنے والا بچہ
ماں کے ذبح میں ہر وہ چیز شامل ہے جو رحم ِ مادرمیں ہے بشرطیکہ جنین مکمل طور پر تشکیل پا چکا ہو اور اس کے بال بڑھ چکے ہوں۔
نوٹ: قربانی کے جانور کا کوئی حصہ فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ نہ اس کی جلد اور نہ ہی کوئی اور چیز۔