مال زکوٰۃ کو تین زمرہ جات میں تقسیم کیا گیا ہے
- زکوٰۃ العین: اس میں سونا، چاندی اور مروجہ کرنسی (چاہے کاغذی ہو یا دھاتی)
- زکوٰۃ الحرث: اس میں اناج اور کچھ مخصوص پھل شامل ہیں۔
- زکوٰۃ الماشیۃ: اس میں ، اونٹ، اونٹنی، گائے ، بیل ، بھینس اور کٹا، بھیڑ،بکری شامل ہیں
نِصابِ زکوٰۃ
نصاب مال کی وہ مقدار ہے جس سے کم پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی ۔
زکوٰۃ العین:
زکوٰۃ العین سے مراد سونا، چاندی یا دورِ حاضر کے حوالہ سے مروّجہ کرنسی بھی شامل ہے۔ ان میں سے کوئی بھی چیز اگر نصاب کی مقدار کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تواس پر 2.5 % زکوٰۃ دینا ہو گی۔زکوٰۃ العین کےلئے مال پر ایک قمری سال کا گزرنا شرط ہے۔
اس کے علاوہ مالِ تجارت ، رکاز اور معدنیات پر بھی 2.5 فیصد زکوٰۃ واجب ہے۔
سونا:
سونے کےلئے کم سے کم نصاب 20 اسلامی دینار ہیں۔اور ان میں سے ہر دینار درمیانے درجے کے جَو کے 72 دانوں کے برابر کا ہو۔ جو کہ تقریباً 88 گرام خالص سونا بنتا ہے۔
چاندی:
چاندی کے لئے کم سے کم نصاب 200 اسلامی درہم ہے۔ ان میں ہر درہم درمیانے درجے کے جَو کے 50.2 دانوں کے برابر کا ہو۔ جو کہ تقریباً 610 گرام خالص چاندی کے برابر ہوتا ہے۔
مروجہ کرنسی:
اگر کسی کے پاس سونا یا چاندی کے نصاب کی قیمت کے برابر رقم مروّجہ کرنسی میں موجود ہو تو اس پر زکوٰۃ دینا ہو گا۔
مالِ تجارت:
تجارتی مال کی زکات کے حساب کے لیے درج ذیل دو شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے:
- عمل (خرید و فروخت): تجارتی مال کی زکات کے لیے مال کی خرید و فروخت ضروری ہے۔
- نیت (منافع کی نیت): زکات کی ادائیگی کے لیے تجارت کا مقصد منافع حاصل کرنا ہونا چاہیے۔
تجارتی معاملات کی تین اقسام:
- ادارہ (مسلسل تجارت):
- تعریف: اس میں تاجر مسلسل خرید و فروخت میں مصروف رہتا ہے، جیسے دکاندار وغیرہ۔
- نصاب کا حساب: تاجر سال کے کسی بھی مہینے کو خاص کر لیں اور ہر سال اسی مہینے میں مال کی قیمت اور سونے چاندی کی مالیت کا حساب کریں۔ اگر یہ نصاب تک پہنچ جائے، تو %2.5 زکات ادا کی جائے گی۔
- احتکار (منافع خوری):
- تعریف: اس میں تاجر مال کو اس وقت تک رکھتا ہے جب تک اس کی قیمت بڑھ نہ جائے۔ پھر اسے فروخت کرتا ہے۔
- زکات کی ادائیگی: جب مال فروخت ہو جائے، چاہے ایک سال بعد یا کئی سالوں کے بعد، جب بھی وہ بِک جائے تو اس پر ایک سال کی زکات واجب ہوگی۔
- مضاربہ:
- تعریف: مضاربہ ایک ایسا تجارتی معاملہ ہے جس میں ایک فریق (مالک) مال فراہم کرتا ہے اور دوسرا فریق (مضارب) اس مال سے تجارت کرتا ہے۔ اس طرح کی تجارت میں دونوں فریقوں کے درمیان منافع کی تقسیم پہلے سے طے ہوتی ہے۔
- زکات کی ذمہ داری: اگر مضاربہ کے دونوں فریق زکات کے مستحق ہیں، تو دونوں پر زکات واجب ہوگی۔ اگر صرف ایک فریق زکات کی ذمہ داری رکھتا ہے، تو اسی پر زکات واجب ہوگی۔ اس معاملے میں تفصیلی احکام فقہ کی کتابوں میں ملتے ہیں۔
خزانہ (رکاز) اور معدنیات کی زکات
1. خزانہ (رکاز) کی زکات
رکاز اس خزانے اور مال کو کہا جاتا ہے جو زمانہ جاہلیت میں لوگوں نے زمین میں دفن کیا ہو۔ رکاز کی زکات کا حکم اس زمین کی نوعیت پر منحصر ہے جہاں خزانہ پایا گیا ہو۔ اس کے چار اقسام ہیں:
- کھلی زمین پر پایا گیا خزانہ: اگر خزانہ کھلی زمین پر پایا جائے اور یہ خزانہ سونے یا چاندی پر مشتمل ہو جو زمانہ جاہلیت کا ہو، تو اس خزانے کا پانچواں حصہ ریاست کو دیا جائے گا اور باقی حصہ خزانہ پانے والے کے لیے ہوگا۔ اگر خزانہ کسی اور چیز (مثلاً برتن، زیورات وغیرہ) پر مشتمل ہو تو اس پر ریاست کو کچھ نہیں دیا جائے گا۔
- ذاتی ملکیت کی زمین پر پایا گیا خزانہ: اگر خزانہ کسی کی ذاتی ملکیت کی زمین پر پایا جائے، تو ایک قول کے مطابق یہ خزانہ پانے والے کے لیے ہوگا، جبکہ دوسرے قول کے مطابق یہ خزانہ زمین کے مالک کا حق ہے۔
- جنگ سے فتح کی گئی زمین پر پایا گیا خزانہ: اگر خزانہ ایسی زمین پر پایا جائے جو جنگ سے فتح کی گئی ہو، تو یہ خزانہ پانے والے کے لیے ہوگا۔
- صلح کے ذریعے حاصل کی گئی زمین پر پایا گیا خزانہ: اگر خزانہ ایسی زمین پر پایا جائے جو صلح کے ذریعے حاصل کی گئی ہو، تو ایک قول کے مطابق یہ خزانہ پانے والے کے لیے ہوگا، جبکہ دوسرے قول کے مطابق یہ خزانہ صلح کرنے والے لوگوں کا حق ہے۔
یہ تمام احکام اس صورت میں لاگو ہوں گے جب خزانے پر کوئی ایسی نشانیاں یا علامات نہ ہوں جو اس کے مسلمان ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہوں۔ اگر ایسی کوئی نشانی پائی جائے تو اس خزانے کو “پایا ہوا مال” تصور کیا جائے گا۔
2. معدنیات کی زکات
معدنیات وہ سونا اور چاندی ہیں جو زمین سے کھود کر نکالے جاتے ہیں۔ معدنیات کی زکات کے حوالے سے درج ذیل صورتیں ہیں:
- بے مالک زمین سے نکالی گئی معدنیات: ایسی معدنیات ریاست کی ملکیت تصور کی جائیں گی۔
- ذاتی ملکیت کی زمین سے نکالی گئی معدنیات: ایسی معدنیات اس زمین کے مالک کی ملکیت ہوں گی۔
- جنگ یا صلح کے ذریعے حاصل کی گئی زمین سے نکالی گئی معدنیات: ایسی معدنیات ایک قول کے مطابق زمین کے فاتحین کی ملکیت ہوں گی، جبکہ دوسرے قول کے مطابق یہ ریاست کی ملکیت ہوں گی۔
جب معدنیات کی مقدار نصاب تک پہنچ جائے تو اس پر %2.5 زکات واجب ہوگی۔ اگر یہ مقدار نصاب تک نہ پہنچے تو اس پر زکات واجب نہیں ہوگی۔
زکوٰۃ الماشیۃ:
زکوٰۃ کے حوالہ سے جانوروں کو تین زمرہ جات میں تقسیم کیا جاتا ہے:
- اونٹ ، اونٹنی
- گائے، بیل (بھینس اور کٹا بھی اسی زمرے میں شامل ہیں)۔
- بھیڑاور مینڈھا ، اور بکرا اور بکری
جانوروں کی زکوٰۃ کے حوالہ سے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان جانوروں کو کام کے لئے استعمال کیا جاتا ہے یا نہیں یا وہ چرتے ہیں یا نہیں۔
اونٹوں پر زکوٰۃ:
اونٹوں پر کم سے کم نصاب 5 اونٹ ہیں۔ اگر کسی کے پاس 5 سے کم اونٹ ہیں تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
گائے پر زکوٰۃ:
اس زمرے میں گائے ، بیل، بھینس اور کٹا شامل ہیں۔ ان سب کےلئے کم سے کم نصاب 30 جانور ہے اگر کسی کے پاس 30 سے کم گائے بیل بھینس یا کٹّے موجود ہیں تو ان پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
بھیڑ بکری پر زکوٰۃ:
اس زمرے میں مینڈھا، بھیڑ،بکری اور بکرا شامل ہیں۔ ان سب کےلئے نصاب کی کم از کم مقدار 40 جانور ہیں۔ ان سے کم جانوروں پر زکوٰۃ واجب نہیں۔
اہم وضاحت:
زکوٰۃ کے لئے حاملہ، بیمار ، معذور یا بہت زیادہ موٹے یا بہت زیادہ کمزور جانور نہیں لئے جائیں گے۔ عام طور پر زکوٰۃ کےلئے نہ سب سے اچھے نہ سب سے خراب جانور لیں گے بلکہ درمیانی معیار کے جانور لئے جائیں گے۔
زکوٰۃ الحرث:
زرعی پیداوار کی مختلف اقسام زکوٰۃ کے تابع ہیں۔ یہ زیادہ تر وہ اشیائے خورد و نوش ہیں ، جو طویل مدت تک ذخیرہ کی جا سکتی ہیں۔ تازہ پھلوں اور سبزیوں پر کوئی زکوٰۃ نہیں۔زرعی پیداوار پر زکوٰۃ اس لحاظ سے مختلف ہوتی ہے کہ جس زمین میں وہ مخصوص فصل اگائی جا رہی ہے اس کی آبپاشی کیسے کی جا رہی ہے۔قاعدہ یہ ہےکہ:
- جب کسی زمین کو قدرتی طور پر سیراب کیا جا رہا ہےخواہ بارش خواہ ندیوں یا چشموں کے پانی سے ۔ تو اس فصل کا دسواں حصہ زکوٰۃ ہے۔
- اور جب زمین میں پانی پہنچانے کےلئے کاشتکار کے خرچ پر آبپاشی کے مصنوعی ذرائع استعمال کرنے پڑیں تو فصل کا بیسواں حصہ زکوٰۃ ہے۔
اور کوئی فصل جس پر زکوٰۃ واجب ہو اس وقت تک استعمال یا فروخت نہیں کی جا سکتی، جب تک کہ اس کی زکوٰۃ کا درست اندازہ نہ ہو جائے۔
نصاب کی مقدار:
کھجوروں یا اناج پر زکوٰۃ اس صورت میں واجب ہے جب مقدار پانچ وسق تک پہنچ جائے۔
وسق کی پیمائش:
ایک وسق برابر ہے 60 صاع کے ۔ اور ایک صاع برابر ہے 4 مدّ کے۔
5 وسق جس کی مقدار تقریباً 610 لیٹر ہے یہ حجم کے اعتبار سے وہ کم سے کم مقدار ہے کہ جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے۔ بعض اوقات اسے وزناً 610 کلو گرام کہہ دیا جاتا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ مختلف قسم کی پیداوار کے ایک ہی حجم کے وزن میں کافی فرق ہوتا ہے ۔ اس لیے جب بھی ممکن ہوحجم کی پیمائش کرنا بہتر ہے۔
وقتِ وجوبِ زکوٰۃ:
وقتِ وجوب کے حوالہ سے ان کی قسم کے حوالہ سے دو طرح سے حکم لگتا ہے۔
اناج پر زکوٰۃ بوقتِ کاشت واجب ہوتی ہے۔ جیسے ہی اسے سِٹّوں سے الگ کیا جاتا ہےاس میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:
- گندم
- جَو
- سلٹ (جَو کی ایک قسم)
- جوار
- چاول
- باجرا
- مکئی
بقیہ تمام زکوٰۃ والی زرعی اجناس پر ان کے پکتے ہی زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔ ان کو چار مختلف زمرہ جات میں تقسیم کیا گیا ہے:
- کھجور
- کشمش
- تیل پیدا کرنے والے پودے:
- زیتون
- تخمِ کنجد (تل)
- تخمِ مولی سرخ
- عُصْفُر (گلِ رنگ یا زعفرانِ کاذب)
- سات دالیں
- مسور
- چوڑی پھلیاں
- چنے
- لوبیا
- ترمس
- مٹر
- بسیلہ (مٹر کی ایک قسم)
یہ زرعی اجنااس کی کل 20 اقسام ہیں جن پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔