مسلمانوں کے بنیادی عقائد میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ اور یہ عقیدہ اکثر اللہ کی قدرت کی حقیقت کے بارے میں کچھ الجھے ہوئے سوالات کا باعث بنتا ہے۔ مثلآ
- کیا اللہ کا وجود ختم ہو سکتا ہے؟
- کیا اللہ چاہے تو اپنا بیٹا پیدا فرما سکتا ہے؟
- کیا اللہ ایک اور ’’خدا‘‘ بنا سکتا ہے؟
ہم بحیثیت مسلمان ایسے سوالوں کا جواب کیسے دیں گے؟ شیخ عبداللہ بن حامد علی المالکی اس کی وضاحت فرماتے ہیں
سوال: میرا سوال یہ ہے کہ کیا وہ لوگ جو یہ مانتے ہیں کہ اللہ چاہے تو اپنا بیٹا پیدا فرما سکتا ہے لیکن ایسا کرے گا نہیں (یا وہ یہ مانتے ہیں کہ اللہ اپنے جیسا ایک اور خدا بنا سکتا ہے لیکن وہ ایسا نہیں کرے گا) تو کیا ایسے لوگ مسلمان کہلا سکتے ہیں؟
کیا ایسی رائے رکھنے والا شخص بھی حقیقی مسلمان ہو سکتا ہے؟
یا اس رائے سے یہ مطلب لیا جائے کہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ اللہ ہر ممکن کام کرنے پر قادر ہے یا یہ ماننا کہ وہ سب کچھ کر سکتا ہے جس میں ایک اور معبود بنانا بھی شامل ہے۔
شیخ عبداللہ کا جواب:
اللہ کی قدرت کا تعلق ان چیزوں سے ہے جو حقیقی “امکانات” ہیں نہ کہ “ناممکنات”۔ کسی دوسرے خدا کا وجود، خدا کے لیے بیٹا، یا اس جیسی چیزیں یہ سب ناممکنات ہیں۔ ایسی چیزوں کی تخلیق کو خدا کے لیے ناممکن کہا جا سکتا ہے، لیکن خالق کے ساتھ ادب کے تقاضے کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ اس کی قدرت صرف ان چیزوں سے متعلق ہے جو ممکن ہیں۔ لہٰذا جب کوئی اس طرح کے سوالات پوچھتا ہے، تو ہمیں انہیں یہ کہنا چاہئے کہ یہ سوالات/منظرنامے غیر منطقی اور غیر حقیقی ہیں۔ ہاںاگر وہ کوئی حقیقت پسندانہ سوال پوچھتے ہیں تو ہم ان کو جواب دینے کی کوشش کریں گے.
مطلب یہ کہنا کیا اللہ اپنے آپ کو تباہ کر سکتا ہے؟ یہ غیر معقول، غیر حقیقت پسندانہ اور ناممکن کام ہے کیونکہ صرف وہی چیز تباہ ہو سکتی ہے جسے وجود میں لایا گیا ہو۔ بیٹا پیدا کرنے کا بھی یہی حال ہے۔ کیوں کہ ہر بیٹا اپنے باپ یا ماں سے ایک خاص طریقے سے مشابہت رکھتا ہے۔ اور پھر یہ حقیقت بیٹے کی پیدائش کو اللہ تعالٰی سے منسوبیت کا فورآ رد کرتی ہے، کہ اللہ تعالیٰ غیر مخلوق ہے اور غیر مخلوق سے بیٹے کی پیدائش اللہ تعالٰی سے اس کے تعلق کے امکانات کی نفی کرتی ہے۔ اسی طرح کسی دوسرے خدا کو بنانے کے خیال کے بارے میں بھی کہا جائے گا اور وہ بھی ایسا جو اللہ تعالٰی سے بھی زیادہ طاقتور ہو(نعوذ باللہ)۔ یہ سب متضاد تجاویز ہیں، اس لیے ہم ان کے جوابات سے دل لگی کرنے میں وقت ضائع نہیں کرتے۔
رہی بات جو لوگ یہ مانتے ہیں کہ ایسی چیزیں ممکن ہیں وہ کافر نہیں ہیں۔ انہیں صرف منطق میں کچھ اچھے اسباق کی ضرورت ہے، اور اس تناظر میں صحیح استدلال کی ضرورت ہے تا کہ وہ اللہ تعالی کے لئے ممکن، ناممکن اور ضروری چیزوں کو سمجھ سکیں۔ اسی طرح وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ کے لیے ایسی چیزیں ناممکن ہیں۔ وہ بھی کافر نہیں ہیں لیکن ان کا یہ انداز اللہ تعالی کے حضور ادب کے تقاضوں کے منافی ہے۔ اللہ کی قدرت ان چیزوں سے تعلق نہیں رکھتی جو ناممکن ہیں، اس کا تعلق صرف ممکنات سے ہے۔ ان سوالوں کا جواب دینے کا یہی بہتر طریقہ ہے۔