نمازکے مسائل
- اسے دوبارہ نماز ادا کرنے سے پہلے غسل کرنا ہو گا۔
- حیض کی وجہ سے رہ جانے والی نماز کی قضا نہیں ہوتی
- اگر اس کاحیض غروب آفتاب کے قریب شروع ہو جائے اور اس نے ابھی تک ظہر یا عصر کی نماز نہیں پڑھی ہے تو اسے ان کی قضاکی ادائیگی کی ضرورت نہیں ہے۔
- اگر اس کاحیض فجر کے قریب شروع ہو ااور اس نے ابھی تک مغرب یا عشاء کی نماز نہ پڑھی تھی تو اسے ان کی قضا پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
- اگر اس کی حیض طلوع آفتاب کے قریب شروع ہوا اور اس نے صبح کی نماز نہ پڑھی ہو تو اسے اس کی قضا پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
- البتہ اگر اس کا حیض عصر کے وقت ختم ہو جائے تو اسے ظہر اور پھر عصر کی نماز پڑھنی ہو گی۔
- لیکن اگر عصر کا وقت ختم ہونے سے پہلے غسل کرنے اور ظہر اور عصر کی کم سے کم ایک رکعت پڑھنے کا وقت نہ ہو تو وہ صرف عصر کی نماز پڑھے گی۔
- لیکن اگر غسل کرنے اور عصر کی ایک رکعت بھی پڑھنے کا وقت نہ ہو تو اسے عصر بھی پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔
- اگر عشاء کے وقت اس کا حیض ختم ہو اتو اسے پہلے مغرب اور پھر عشاء کی نماز پڑھنی ہو گی۔
- لیکن اگر عشاء کا وقت ختم ہونے سے پہلے غسل، مغرب اور عشاء کی کم سے کم ایک رکعت پڑھنے کا وقت نہ ہو تو صرف عشاء کی نماز پڑھے۔
- لیکن اگر عشاء کا وقت ختم ہونے سے پہلے غسل کرنے اور عشاء کی ایک رکعت پڑھنے کا وقت بھی نہ ہو تو عشاء بھی نہیں پڑھے گی۔
- اگر اس کا حیض فجر سے پہلے رات میں ختم ہو جائے تو اسے مغرب، پھر عشاء اور پھر فجر کی نماز پڑھنی ہوگی۔
روزےکے مسائل
- حیض کی وجہ سے رمضان المبارک کے روزے کی قضاء واجب ہے۔
- اگر اس کا حیض فجر طلوع ہونے سے پہلے ختم ہو جائے لیکن وہ اس سے پہلے غسل نہ کر سکے تو اس کا روزہ صحیح ہو گا، جب تک کہ اس نے اپنےحیض ختم ہونے اور فجر کے طلوع ہونے کے درمیان کسی وقت روزہ رکھنے کی نیت کی ہو۔ جب وہ غسل کے قابل ہو غسل کرے اور نماز اور روزہ معمول کے مطابق جاری رکھے۔
- اگر اس کا حیض سورج نکلنے کے بعد ختم ہوا تو باقی دن وہ کھا پی سکتی ہے۔
حیض کے دوران ممنوع اعمال کو دوبارہ سے جاری رکھنے کے لئے اسے غسل کرنا ہو گا۔