السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
سوال: میرے والد کو گود لیا گیا تھا اور جب وہ تقریباً 7 سال کے تھے تو ان کی والدہ (جنہوں نے انہیں گود لیا تھا) حاملہ ہوئیں اور انہوں نے میرے والد کو چمچ کے ذریعے اپنا دودھ پلایا۔
کیا اس سے وہ ان کی محرم بن گئیں؟ اور کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے چچا اب میرے محرم ہیں؟
جزاکم اللہ خیراً
جواب:
قرآن کریم کی سورۃ البقرہ (2:233) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔” یہاں مذکورہ سال سے مراد قمری سال ہیں۔ اس آیت سے فقہاء نے یہ اصول اخذ کیا کہ رضاعت کے ذریعے محرم (یعنی نکاح سے ممانعت والا) رشتہ قائم ہونے کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔
کچھ فقہاء، خصوصاً مالکی فقہاء، نے اس دو سال کی مدت میں دو ماہ کا اضافہ کیا ہے۔ یہ اصول اس قاعدے پر مبنی ہے کہ “کسی چیز کے قریب ہونا بھی اس کا ہی حکم رکھتا ہے۔” اس بنا پر دو ماہ کو بھی دو سال کے قریب تصور کرتے ہوئے اسی حکم میں شامل کیا گیا ہے۔
اس مدت کے بعد رضاعت محرم رشتہ قائم کرنے کا سبب نہیں بنتی۔ لہٰذا، آپ کے والد اس عورت کے محرم نہیں سمجھے جائیں گے جس نے انہیں سات سال کی عمر میں دودھ پلایا تھا۔ چونکہ محرم رشتہ قائم نہیں ہوا، اس لیے آپ کے “چچا” یعنی اس عورت کے بیٹے کو بھی آپ کا محرم نہیں سمجھا جائے گا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ مالکی فقہاء اس امر کو ضروری قرار نہیں دیتے کہ دودھ بچے تک براہ راست ماں کے سینے سے پہنچے۔ اگر دودھ کسی بوتل، سرنج، چمچ یا کسی اور ذریعے سے پلایا جائے تو بھی یہ کافی ہوگا، بشرطیکہ یہ دو سال اور دو ماہ کی مقررہ مدت کے اندر ہو۔
واللہ اعلم۔
[مختصر خلیل]
http://seekersguidance.org/ans-blog/2013/11/16/developing-a-mahram-relationship-through-nursing-in-maliki-fiqh/
شیخ رامی النصور