سوال: وضو کے بعد کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اعضاء کو خود ہی خشک ہونے دینا چاہیے، چاہے سردی ہو، کیونکہ یہ زیادہ تقویٰ اور زہد میں شمار ہوتا ہے۔ اعضاء کو خشک کرنے کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
یہ عمل شریعت میں ثابت نہیں ہے (مشروع نہیں ہے)۔ امام مالک نے ایسے امور میں غلو (زیادتی) کو ناپسند فرمایا، جہاں قرآن اور سنت سے کوئی ثبوت نہ ہو کہ یہ عمل قابل اجر ہے۔
امام خلیل بن اسحاق اپنی مختصر میں فرماتے ہیں: “وضو کے اعضاء کو حد سے زیادہ دھونا، گردن کا مسح کرنا، اور اعضاء کا مسح (خشک کرنے کےلئے) سے پرہیز کرنا مستحب نہیں ہے۔”
آپ کو اختیار ہے کہ چاہیں تو اعضاء سے پانی صاف کر لیں یا نہ کریں۔ امام مالک رضی اللہ تعالٰی نے ایسے امور کو ناپسند کیا کیونکہ یہ دین میں غلو (شدت) کی طرف لے جاتا ہے اور ایسے معاملات میں سختی پیدا ہوتی ہے جن کا کوئی ثواب نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، اگر آپ سردی میں اپنے اعضاء کو خشک نہ کریں، تو آپ بیمار ہو سکتے ہیں… اور جان بوجھ کر اپنے آپ کو نقصان پہنچانا حرام ہے۔ یا اگر آپ اپنے اعضاء کو خشک کر لیتے تو آپ زیادہ آرام سے نماز ادا کرتے، جس سے آپ کی نماز میں خشوع (توجہ) زیادہ ہو سکتا تھا۔
اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
(وَ) لَا يُنْدَبُ (تَرْكُ مَسْحِ الْأَعْضَاءِ) أَيْ تَنْشِيفُهَا مِنْ الْبَلَلِ بِخِرْقَةٍ مَثَلًا بَلْ يَجُوزُ
حاشیہ الدسوقی از امام محمد بن عرفہ الدسوقی:
وَهِيَ الْغُلُوُّ فِي الدِّينِ (قَوْلُهُ: بَلْ يَجُوزُ) أَيْ تَرْكُ الْمَسْحِ أَيْ وَيَجُوزُ أَيْضًا مَسْحُهَا بِمِنْدِيلٍ أَوْ مِنْشَفَةٍ خِلَافًا لِلشَّافِعِيَّةِ فِي اسْتِحْبَابِهِمْ تَرْكَ ذَلِكَ الْمَسْحِ وَكَرَاهَتَهُمْ لَهُ
راقم : عثمان قریشی