سجودِ سہو کیا ہے؟
سجود السہو نماز کے اختتام سے پہلے یا بعد میں کیے جانے والے دو سجدوں کو کہا جاتا ہے۔ “سَہْو” کا مطلب بھول جانا ہے، اس لیے یہ سجدے اس وقت کیے جاتے ہیں جب کوئی شخص نماز میں کسی فرض یا سنت کو بھول جائے (جو نیچے درج ہیں)، نہ کہ جب کوئی جان بوجھ کر انہیں چھوڑ دے۔ ان دو سجدوں کا حکم یہ ہے کہ یہ سنت ہیں۔
سجود السہو کیسے کیا جاتا ہے؟
اگر نماز میں کچھ بھول گیا ہو تو پورا تشہد مکمل کرے، پھر اللہ اکبر کہہ کر عام طریقے کے مطابق سجدے میں چلا جائے۔ یہ دو مرتبہ کرے، پھر صرف تشہد کے پہلے حصے کی تلاوت کرے، پھر نماز سے نکل جائے۔ اور اگر نماز میں کچھ زیادہ کر دیا گیا ہو تو یہ طریقہ نماز سے نکلنے کے بعد کرے، پھر دوبارہ سلام پھیرے۔
یہ کب کیا جاتا ہے؟
یہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کوئی شخص فرض یا سنت میں سے کچھ بھول جائے، جیسا کہ نیچے بیان کیا گیا ہے۔
اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کسی فرض یا سنت کو ترک کر دے تو کیا حکم ہے؟
جان بوجھ کر کسی فرض کو چھوڑ دینا نماز کو باطل کر دیتا ہے، جبکہ جان بوجھ کر کسی سنت کو چھوڑنا مکروہ ہے (اگرچہ خلیل کہتے ہیں کہ یہ نماز کو باطل کر دیتا ہے، جو اس کے انتہائی ناپسندیدہ ہونے کی طرف اشارہ ہے)۔ فرائض اور سنن نیچے درج ہیں۔ چونکہ اس نے سنت کو جان بوجھ کر چھوڑا ہے، اس لیے اسے اس کی تلافی کرنے کا حق نہیں دیا جاتا۔
فرض بھول جانا
اگر کوئی فرض بھول جائے لیکن نماز کے اندر ہی اسے یاد آ جائے، تو وہ فوراً اپنے ذہن میں اُس پوری رکعت کو منسوخ کر دے، واپس اُسی مقام پر لوٹ آئے جہاں سے فرض رہ گیا تھا، اور اُس رکعت کو دوبارہ ادا کرے۔ پھر نماز سے سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدۂ سہو کرے۔
اگر وہ نماز ختم کر چکا ہو، تب بھی وہ چھوٹی ہوئی رکعت دوبارہ ادا کر سکتا ہے، اور پھر اس کے بعد سجدۂ سہو کرے۔ لیکن اگر فرض کی تلافی کرنے میں زیادہ وقت گزر گیا ہو تو نماز باطل ہو جاتی ہے اور اسے دوبارہ ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔
نماز کے فرائض نیچے درج ہیں۔
سنت بھول جانا
فرض کو بھولنے کے برخلاف، سنت کو بھولنے پر رکعت روک کر دوبارہ ادا نہیں کی جاتی۔ بلکہ نماز جاری رکھی جاتی ہے اور پھر سلام سے پہلے دو سجدے کر کے اس کی تلافی کی جاتی ہے۔ آٹھ سنتیں نیچے درج ہیں۔
سلام سے پہلے یا بعد؟
اگر کسی کو نیچے دی گئی سنتوں میں سے کوئی سنت بھول گئی ہو، تو اس کی تلافی سلام سے پہلے دو سجدے کر کے کی جاتی ہے، جسے “قبلی” یعنی “سلام سے پہلے” کہتے ہیں۔
لیکن اگر کوئی اضافی عمل کرے، تو نماز مکمل کرنے کے بعد دو سجدے کیے جاتے ہیں، جسے “بعدی” یعنی “سلام کے بعد” کہا جاتا ہے، پھر دوبارہ سلام پھیر کر نماز مکمل کی جاتی ہے۔
مثالیں
اگر کوئی ظہر کی نماز کو بلند آواز سے پڑھے یا مغرب کو خاموشی سے پڑھے، یا تشہد کے لیے نہ بیٹھے، یا چار رکعتوں کی بجائے تین رکعت پڑھے، تو ایسے نقائص کی بنا پر وہ نماز سے نکلنے سے پہلے دو سجدے کرے گا۔
لیکن اگر وہ غلطی سے نماز میں اضافہ کر دے، جیسے ایک اضافی رکعت پڑھ لے، یا تیسری رکعت میں کوئی سورہ پڑھ لے، یا اضافی تشہد پڑھے، تو ایسے میں وہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے گا۔
غلطی سے اضافہ اور کمی
اگر کوئی کچھ حصہ نماز میں بڑھا دے لیکن کچھ اور حصہ بھول جائے، تو کمی کو فوقیت دی جاتی ہے، اس لیے وہ سجدے سہو سلام سے پہلے کرے گا۔
سجود السہو کو پہلے یا بعد میں غلطی سے بدل دینا
اگر کسی کو نماز سے نکلنے سے پہلے سجدہ سہو کرنا تھا لیکن اس نے نماز سے نکلنے کے بعد کیا، یا برعکس، تو اس صورت میں نماز صحیح شمار ہوگی اور یہ کافی ہے۔
حرکت کے دوران یاد آنا
اگر کسی کو یاد آئے کہ اسے تشہد کےلیے بیٹھنا ہے لیکن وہ پہلے ہی اٹھنے کی حرکت میں ہو، تو وہ صرف اسی صورت میں بیٹھنے کی حالت میں واپس جائے گا جب اس کا ایک ہاتھ یا گھٹنا ابھی زمین سے لگا ہوا ہو۔ اگر چاروں اعضا (دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے) ہوا میں ہوں، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اٹھ چکا ہے، لہٰذا اسے بس نماز جاری رکھنی چاہیے اور پھر نماز سے نکلنے سے پہلے دو سجدے کرے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلی رکعت کے لیے کھڑا ہونا فرض ہے جبکہ تشہد کے لیے بیٹھنا سنت ہے، اور فرض سنت پر فوقیت رکھتا ہے۔
(اگر اس کے اعضا زمین سے اٹھے ہوئے ہوں اور پھر بھی وہ بیٹھنے کی حالت میں واپس آ جائے تو نماز صحیح رہے گی، سیدی خلیل کے مطابق۔ لیکن اگر وہ اگلی رکعت کے لیے فاتحہ پڑھنا شروع کر چکا تو اسے واپس بیٹھنا جائز نہیں، اور اگر بیٹھ گیا تو نماز باطل ہو جائے گی۔)
امام کے پیچھے نماز میں غلطی کرنا
امام ہماری غلطیوں کو ڈھانپ دیتا ہے، اس لیے امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے نیچے دی گئی آٹھ سنتوں کے حوالے سے ہماری غلطیوں پر سجودِ سہو نہیں کیا جاتا۔
نماز میں غلطی سے بات کرنا
نماز میں چند الفاظ غلطی سے بولنے پر نماز سے نکلنے کے بعد دو سجدے کر کے تلافی کی جاتی ہے۔ اگر امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہوں تو کچھ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ امام ہماری غلطیوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اگر بات زیادہ ہو جائے تو نماز باطل ہو جاتی ہے۔
نماز میں جان بوجھ کر بات کرنا
اگر جان بوجھ کر تھوڑا یا زیادہ بولا جائے تو یہ گناہ ہے اور نماز باطل ہو جاتی ہے۔
اگر بات کرنا فرضی ہو، جیسے کسی کی جان بچانے کے لیے، تو اس کا اجر ملے گا لیکن نماز پھر بھی باطل ہوگی۔
اگر یہ امام کی تلاوت یا حرکت میں غلطی درست کرنے کے لیے ہو، تو نہ گناہ ہے اور نہ سجدہ سہو لازم ہے۔ ایسے موقع پر وہ صرف درست آیت پڑھتا ہے یا امام کو حرکت کی غلطی کی طرف متوجہ کرنے کے لیے “سبحان اللہ” کہتا ہے۔
اگر کوئی سجود السہو کرنا ہی بھول جائے؟
اگر آپ آٹھ سنتوں میں سے کوئی سنت بھول گئے اور سجدہ سہو کرنا بھی بھول گئے، تو اگر زیادہ وقت نہ گزرا ہو تو سجدہ سہو کر کے تلافی کر لیں۔ لیکن اگر بہت وقت گزر چکا ہو تو سجدہ سہو نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی۔
اگر غلطی اضافہ کی نوعیت کی ہو، تو چاہے کتنا ہی وقت گزر جائے، اس کی تلافی کرنی چاہیے۔
نماز میں رکعتوں کی تعداد بھول جانا
جو شخص بھول گیا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھولا ہے۔ لیکن جو شخص شک میں ہے اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے کتنی رکعتیں ادا کی ہیں یا نہیں۔ دونوں کے لیے طریقہ کار ایک جیسا ہے۔
اگر نماز میں رکعتوں کی تعداد بھول جائے اور یقین نہ ہو کہ صحیح تعداد پوری ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ اپنے ذہن میں کم تعداد کو بنیاد بنا کر نماز جاری رکھے، اور پھر نماز سے نکلنے سے پہلے دو سجدے کرے۔
اگر میں ہمیشہ نماز میں بھول جاتا ہوں
ایسے شخص کے لیے سجودِ سہو نہیں، جو نماز میں ہمیشہ بھولتا رہے۔ اس شخص کو “مستنکح الشک” یعنی ہمیشہ بھولنے والا کہا جاتا ہے، اور اس کی ہدایت یہی ہے کہ اسے بھول جانا نظر انداز کرنا چاہیے۔
اگر میں کسی فضیلت کو بھول گیا
کسی فضیلت کو بھول جانا یا جان بوجھ کر چھوڑ دینا، چاہے وجہ ہو یا نہ ہو، اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نماز صحیح رہتی ہے، مگر بغیر کسی وجہ کے صرف سستی کی بنا پر چھوڑنا مکروہ ہے۔
نماز کے چودہ فرائض
- نیت
- تکبیر تحریمہ یعنی نماز میں اللہ اکبر کہتے ہوئے داخل ہونا
- اس کے لیے کھڑا ہونا
- سورہ فاتحہ پڑھنا
- اس کے لیے کھڑا ہونا
- رکوع
- رکوع سے اٹھنا
- پیشانی کے ساتھ سجدہ کرنا
- سجدے سےاُٹھتے ہوئے بیٹھنا (جلوس)
- ہر دفعہ اٹھتے وقت کمر سیدھی کرنا (اعتدال)
- ہر رکن میں ٹھہراؤ (طمأنینہ)
- فرائض کو ترتیب سے ادا کرنا
- السلام علیکم کہہ کر نماز سے نکلنا
- سلام کے لیے بیٹھنا
نماز کی آٹھ سنتیں
- جہاں قرأت آہستہ ہونی چاہیے وہاں خاموشی سے تلاوت کرنا
- جہاں قرأت بلند ہونی چاہیے وہاں بلند آواز سے پڑھنا
- فاتحہ کے بعد سورۃ ملانا
- تمام تکبیریں (سوائے تکبیرِ تحریمہ کے جو فرض ہے)
- رکوع سے اٹھتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ کہنا
- پہلا تشہد
- دوسرا تشہد
- تشہد کے لیے بیٹھنا
آٹھ سنتیں یاد رکھنے کے لیے عربی شعر:
سينان شينان كذا جيمان
تاءان عدد السنن الثمان
معنی:
یہ شعر آٹھ سنتوں کی تعداد یاد رکھنے کا ایک آسان طریقہ ہے۔
- سينان = السر والسورة (آہستہ آواز میں تلاوتاور فاتحہ کے بعد سورۃ پڑھنا)
- شينان = تشهد الأول والتشهد الأخير (پہلا تشہد اور آخری تشہد)
- جيمان = الجهر، والجلوس (جہر یعنی بلند آواز سے پڑھنا، اور بیٹھنا)
- التاءان = التحميد والتكبير (سمع اللہ لمن حمدہ کہنااور تکبیر)
مصنف: شادي المصري
مترجم : محمد طلحہ بن فرید المالکی
ماخذ: الفواكه الدواني على رسالة ابن أبي زيد القيرواني، اخضري، ابن عاشر، شرح العشماوية
مزید معلومات کے لیے:
- مالکی فقہ کا مطالعہ کریں Arkview.org پر۔
- ابن عاشر کا ترجمہ اور شرح SharhApp.com پر پڑھیں۔
- اردو میں متن ابن عاشر اور دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔