وضو کا بیان

وضو کے سات فرائض

فَرَائِضُ الْوُضُوءِ سَبْعَ  النَّيَّةِ وَغَسْلُ الْوَجْهِ وَغَسْلُ الْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَیْنِ وَمَسَحُ الرَّأْسِ وَغسْلُ الرِّجْلَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْـنِ والدَّلْكُ وَالْفَوْرُ.
  • (دِل میں ) نیت کرنا (زبان سے کہنے کی ضرورت نہیں)
  • مکمل چہرہ دھونا
  • ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا (کہنیاں بھی اس میں شامل ہیں)
  • (گیلے ہاتھوں سے) ایک بار سر کا مسح کرنا (پیشانی سے گردن کی طرف)
  • پاؤں کو ٹخنوں تک دھونا (ٹخنے بھی دھونا ہوں گے)
  • اعضاء کو مَل کر دھونا ( یعنی ہاتھ کو اس عضو پر اس طرح پھیرنا کہ پانی ہر جگہ پہنچ جائے)
  • تسلسل کے ساتھ وضو کرنا

وضو کی سنتیں

(وَسُنَنُهُ) غَسْلُ الْيَدَيْنِ إَلَى الْكَوْعَيْـنِ عِنْدَ الشُّرُوعِ والْـمَـضْمَضَةُ والاِسْتِنْشَاقُ والاِسْتِنْثَارُ وَرَدُّ مَسْحِ الرَّأْسِ وَمَسْحُ الأُذْنَيْـنِ وَتَـجْدِيدْ الْـمـَاءِ لَـهُمَا وَالتَّرْتِيبُ بَيْـنَ الْفَرَائِضِ.
  • وضو کے آغاز میں ہاتھوں کو کلائیوں تک دھونا
  • کلی کرنا
  • ناک میں پانی چڑھانا
  • ناک سے پانی ہوا کے ذریعے سے باہر نکالنا
  • سر کا مسح کرنا (گردن سے واپس پیشانی کی جانب)
  • کان کا مسح کرنا
  • کان کا مسح کرنے کے لئے ہاتھوں کو دوبارہ تر کرنا
  • فرائض کی ترتیب برقرار رکھنا
وَمَنْ نَسِيَ فَرْضاً مِنْ أَعْضَائِهِ فَإِنَّ تَذَكَّرَهُ بِالْقُرْبِ فَعَلَهُ وَمَا بَعْدَهُ وِإنْ طَالَ فَعَلَهُ وَحْدَهُ وَأَعَادَ مَا صَلَّى قَبْلَهُ وَإِنْ تَرَكَ سُنَّةً فَعَلَهَا وَلاَ يُعِيدُ الصَّلاَةَ .

اگر کوئی وضو کرتے ہوئے کسی ایسے عضو کو دھونا بھول گیا  جسے دھونا فرض تھا تو :

  • اگر جلد ہی یاد آ گیا تو فوراً اس عضو کو دھوئے (جسے دھونا بھول گیا تھا)اور اس کے بعد آنے والے تمام اعضاء کو ترتیب وار دھوئے۔
  • اگر مکمل وضو کر چکا تھا اور (اتنا) وقت (کہ دھوئے ہوئے اعضاء خشک ہو گئے ) گزر چکنے کے بعد یاد آیا تو صرف اسی عضو کو دھونا ہو گا (جسے دھونا بھول گیا تھا)
  • اور اگر اسی طرح (مندرجہ بالا دونوں صورتوں میں وضو مکمل کئے بغیر ) کوئی نماز ادا کی تو اسے اب (وضو مکمل کرنے کے بعد) نماز کو دہرانا ہو گا۔

اگر کسی ایسے عضو کو دھونا بھول گیا جس عضو کا دھونا سنت تھا (یعنی اگر دورانِ وضو کوئی سنت عمل بھول گیا) تو جب یاد آئے دھو لے۔ لیکن اس صورت میں نماز کو دہرانے کی ضرورت نہیں۔

وَمَنْ نَسِيَ لـُمْعَةٌ غَسَلَهَا وَحْدَهَا بِنًيَّةٍ ، وَإِنْ صَلَّى قَبْلَ ذٰلِكَ أَعَادَ وَمَنْ تَذَكَّرَ الـْمَـضْمَضَةَ والاِسْتِنْشَاقَ بَعْدَ أَنْ شَرَعَ فِي الْوَجْهِ فَلاَ يَرْجِعُ إِلَيْهِمَا حَتَّى يُتِمَّ وُضُوءَهُ .

اگر وضو کرتے وقت ایک عضو کے کسی حصے (چھوٹے سے حصے) کو دھونا بھول گیا تو اس حصے کو (جسے دھونا بھول گیا تھا) دھوئے (جب بھی یاد آئے)۔ اور اس حصے کو دھونے کی نیت بھی کرنا ہو گی۔اگر اسے دھوئے بغیر نمازادا کی تو نماز بھی دہرانا ہو گی۔

اگر کوئی شخص کلّی کرنا یا ناک میں پانی چڑھانا بھول گیا اور چہرہ دھو چکنے کے بعد یاد آیا (کہ کلّی نہیں کی یا ناک میں پانی نہ چڑھا سکا) تو اسے وضو کو ویسے ہی جاری رکھنا چاہئے اور وضو مکمل ہو جانے کے بعد اب جو سنت عمل ترک کیا تھا وہ مکمل کر لے۔

مندوباتِ وضو

(وَفَضَائِلُهُ) التَّسْمِيَّةُ وَالسِّوَاكُ وَالزَّائِدُ عَلَى الضَّرْبةِ الأُولَى فِي الْوَجْهِ وَالْيَدَيْنِ وَالْبِدَايَةُ بِـمُقَدَّمِ الرَّأْسِ وَتَرْتِيبُ السُّنَـنِ وَقِلَّةُ الْـمَـاءِ عَلَى الْعُضْوِ وَتَقْدِيمُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ، وَيَجِبُ تَخْلِيلُ أَصَابِعِ الْيَدَيْنِ وَيَستَحَبُّ فِي أَصَابِعِ الرِّجْلَيْـنِ وَيَجِبُ تَخْلِيلُ اللِّحْيَةِ الْـخَفِيفَةِ فِي الْوُضُوءِ دُونَ الْكَثِيفَةِ وَيَجِبُ تَخْلِيلُهَا فِي الْغُسْلِ وَلَوْ كَانَتْ كَثِيفَةً .
  • تسمیّہ  پڑھی جائے (وضو کا آغاز کرتے وقت)
  • مسواک کیا جائے
  • چہرہ ، ہاتھ اور پاؤں تین تین بار دھوئے جائیں
  • (مسح کرتے وقت ) سر کے اگلے حصے سے شروع کرنا
  • سنتوں کی ترتیب برقرار رکھنا
  • جتنا ممکن ہو سکے کم سے کم پانی استعمال کرنا
  • (اعضاء دھوتے وقت ) پہلے دائیاں پھر بائیاں عضو دھونا

انگلیوں کے درمیانی حصوں کو مل کر دھونا واجب ہے۔ اور مندوب ہے کہ پاؤں کی انگلیوں کے درمیانی حصوں کو بھی مل کر دھویا جائے۔

اگر داڑھی کے بال کم ہیں تو انگلیوں کو کنگھی کی طرح  داڑھی کے اندر سے گزار کر جتنا ممکن ہو سکے پانی(داڑھی کے نیچے کی جلد تک)  پہنچانا چاہئے ۔ لیکن غسل میں چاہے داڑھی کے بال تھوڑے ہوں یا گھنے داڑھی کے نیچے کی جلد تک پانی پہنچانا ضروری ہے۔


مکمل کتاب پی ڈی ایف میں حاصل کریں

الگوہر العبقری علی متن الاخضری — اردو ترجمہ

0 0 votes
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Oldest
Newest Most Voted
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x