مالکی مذہب میں اذان کیسے دی جاتی ہے؟

مالکی مذہب میں اذان اُس اذان سے کچھ مختلف ہے جو عموماً سنی جاتی ہے، یعنی وہ اذان جو صحابیِ رسول حضرت عبد اللہ بن زیدؓ کے خواب کے ذریعے منقول ہوئی۔ امام مالکؒ نے اُس اذان کو ترجیح دی جسے خود نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو محذورہؓ کو سکھایا تھا، جس کا واقعہ ذیل میں مذکور ہے۔ بعد میں یہی اذان مدینہ منورہ میں بھی رائج ہوئی۔ اس کا فرق یہ ہے کہ اس کی ابتدا صرف دو تکبیروں سے ہوتی ہے اور اس میں دونوں شہادتوں کا ترجیع (تکرار) شامل ہے۔ امام مالکؒ نے اذان میں حد سے زیادہ لے اور گانے کے انداز (تطریب) کو ناپسند فرمایا، البتہ تھوڑی سی خوش الحانی (تحبیر) کی اجازت دی۔ ذیل میں تین مثالیں ہیں، جن میں تیسری مثال اُس مقدارِ خوش الحانی کو ظاہر کرتی ہے جو اذان میں جائز ہے۔

الفاظِ اذان

اللہ اکبر (2 مرتبہ)

*أشهد أن لا إله إلا الله (2 مرتبہ، آہستہ)
*أشهد أن محمدًا رسول الله (2 مرتبہ، آہستہ)

أشهد أن لا إله إلا الله (2 مرتبہ، بلند آواز سے)
أشهد أن محمدًا رسول الله (2 مرتبہ، بلند آواز سے)

حي على الصلاة (2 مرتبہ)
حي على الفلاح (2 مرتبہ)

الله أكبر (2 مرتبہ)
لا إله إلا الله (1 مرتبہ)

*اس سے مراد ترجیع ہے، یعنی دونوں شہادتوں کو پہلے آہستہ کہنا، پھر دوبارہ بلند آواز سے دہرانا۔

ممنوع

لحن: اذان کے الفاظ کو اس طرح غلط ادا کرنا کہ ان کا معنی بدل جائے یا فاسد ہو جائے، حرام ہے۔

مکروہ

تطریب: حد سے زیادہ اور مبالغہ آمیز لے اور خوش الحانی مکروہ ہے، اگرچہ تلفظ درست ہی کیوں نہ ہو۔

جائز

تحبیر: ایسی معتدل خوش الحانی جائز ہے جو اذان کو خوبصورت بنائے لیکن گانے کی صورت اختیار نہ کرے۔ (اس کی مثال اوپر مذکور تیسری ریکارڈنگ ہے)

مستحب

ترجیع: ابو محذورہؓ کی اذان کا سب سے نمایاں امتیاز، جسے امام مالکؒ نے ترجیح دی، ترجیع ہے، یعنی دونوں شہادتوں کی تکرار۔ پہلے انہیں آہستہ کہا جاتا ہے، پھر بلند آواز سے دہرایا جاتا ہے۔ شوافع بھی ترجیع کو بہت مؤکد سمجھتے ہیں کیونکہ اس کی تائید صحیح مسلم کی صحیح حدیث سے ہوتی ہے، جیسا کہ ذیل میں مذکور ہے۔ اس کے برعکس احناف اور حنابلہ حضرت عبد اللہ بن زیدؓ اور حضرت بلالؓ کی اذان کو ترجیح دیتے ہیں جس میں ترجیع نہیں ہوتی اور جو چار تکبیروں سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ دو سے۔ مؤذن کے لیے باوضو ہونا بھی مستحب ہے۔

ابو محذورہؓ کی اذان کا پس منظر

اسلام قبول کرنے سے پہلے حضرت ابو محذورہؓ نوجوانوں کے ایک ایسے گروہ میں شامل تھے جو اذان کا مذاق اڑاتے اور اس کی نقل اتارتے ہوئے اس کے کلمات دہراتے تھے۔ یہ واقعہ فتح مکہ کے کچھ ہی عرصہ بعد پیش آیا، جب بہت سے لوگ ظاہری طور پر اسلام میں داخل ہو چکے تھے لیکن ابھی ایمان ان کے دلوں میں پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا۔ یہ واقعہ غزوۂ حنین کے لیے طائف کی جانب سفر کے دوران پیش آیا۔

جب نبی کریم ﷺ کو اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے حضرت ابو محذورہؓ کو بلایا، ان سے گفتگو فرمائی، پھر انہیں اپنے قریب کیا، ان کے سینے پر اپنا دستِ مبارک رکھا، ان کے لیے دعا فرمائی، اور انہیں چاندی کے سکوں کی ایک تھیلی عطا فرمائی۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اذان کے کلمات ایک ایک کرکے خود سکھائے اور انہوں نے دہرائے۔ وہ اذان جو انہیں سکھائی گئی، یہ تھی:

الله أكبر، الله أكبر؛

أشهد أن لا إله إلا الله (دو مرتبہ)

أشهد أن محمدًا رسول الله (دو مرتبہ)

پھر اسے دوبارہ دہرایا جائے:

أشهد أن لا إله إلا الله (دو مرتبہ)

أشهد أن محمدًا رسول الله (دو مرتبہ)

حي على الصلاة (دو مرتبہ)

حي على الفلاح (دو مرتبہ)

الله أكبر (دو مرتبہ)

لا إله إلا الله

اس کے بعد حضرت ابو محذورہؓ نے درخواست کی کہ انہیں مسجد الحرام، مکہ مکرمہ کا مستقل مؤذن مقرر کیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی یہ درخواست قبول فرما لی، اور حضرت ابو محذورہؓ اسی منصب پر فائز رہے، اور شاذ و نادر ہی مکہ سے باہر گئے، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعے کی روایات متعدد کتبِ حدیث، از جمله صحیح مسلم، میں مذکور ہیں۔

ابو یوسفؒ کا امام مالکؒ سے مناظرہ

ترتیب المدارک میں قاضی عیاضؒ نے امام ابو یوسفؒ (جو امام ابو حنیفہؒ کے جلیل القدر شاگرد اور بعد میں عباسی خلافت کے قاضی  القضاۃبنے) اور امام مالکؒ کے درمیان ایک مکالمہ نقل کیا ہے:

امام ابو یوسفؒ نے امام مالکؒ سے کہا: “آپ ترجیع کے ساتھ اذان دیتے ہیں، حالانکہ اس بارے میں آپ کے پاس نبی ﷺ سے کوئی حدیث نہیں ہے۔”

امام مالکؒ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:

“سبحان الله! میں نے اس سے زیادہ عجیب بات کبھی نہیں دیکھی۔ اذان یہاں ہر روز، دن میں پانچ مرتبہ، گواہوں کے سامنے دی جاتی رہی ہے۔ لوگوں نے اسے اپنے باپ دادا سے رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے وراثت میں پایا ہے۔ کیا اس کے لیے بھی فلاں نے فلاں سے روایت کیا، جیسی سند درکار ہے؟ ہمارے نزدیک یہ (نسل در نسل منتقل ہونے والا عملی تواتر) روایات سے زیادہ مضبوط ہے۔”

قاضی ابو یوسفؒ امام مالکؒ کے اس موقف سے مطمئن ہو گئے۔ (ابن القصار)

اصول

اگرچہ امام مالکؒ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اذان مختلف طریقوں سے سکھائی، لیکن انہوں نے ابو محذورہؓ کی اذان کو دو وجوہات کی بنا پر ترجیح دی۔ پہلی وجہ یہ کہ نبی کریم ﷺ نے یہی الفاظ اور طریقہ سکھایا، جیسا کہ صحیح مسلم میں مروی ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ اس روایت کی تائید عمل سے ہوتی ہے؛ یعنی مدینہ منورہ میں پہلے تین ادوار کے اہلِ علم مسلمانوں کے مسلسل اجتماعی عمل سے۔

امام مالکؒ، ان کے معاصرین، اور ان کے شاگردوں نے مسجد نبوی میں ہزاروں تابعینِ کرام کی موجودگی میں روزانہ پانچ مرتبہ یہی اذان سنی۔ ان ہزاروں تابعین نے یہی اذان صحابۂ کرام سے روزانہ پانچ مرتبہ سنی تھی، اور صحابہ نے اسے نبی کریم ﷺ سے حاصل کیا تھا۔ کیا ان میں سے کوئی بھی اس کے الفاظ یا طریقے میں تبدیلی کر سکتا تھا؟ اگر کوئی ایسا کرتا تو یقیناً اس کی اصلاح کر دی جاتی۔ پس یہ فقہ حدیث اور عمل، دونوں پر مبنی ہے۔

تحریر: طارق پٹنم اور حرا ہاشمی
نظرِ ثانی: محمد سليمان الغاتي
مترجم : محمد طلحہ بن فرید المالکی

مالکی فقہ کی آن لائن تعلیم آرک ویو پر حاصل کریں۔