مالکی مذہب میں بلیوں کی خرید و فروخت کا حکم
مالکی مذہب کے مطابق بلیوں کی خرید و فروخت جائز ہے۔ فقہائے مالکیہ نے اس حوالے سے واضح احکامات بیان کیے ہیں جن کی تفصیل ذیل میں دی جا رہی ہے۔
امام خلیل رحمہ اللہ کا موقف
“وجاز هر وسبع للجلد”
ترجمہ: “بلی اور درندے کی خرید جائز ہے، درندے کے بارے میں (مراد) اس کی کھال ہے۔”
فقہائے مالکیہ نے وضاحت کی ہے کہ اس عبارت میں بلی کے بارے میں جواز مطلق ہے (یعنی ہر جائز منفعت کے لیے)، جبکہ درندوں کے بارے میں جواز صرف ان کی کھال سے فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے ہے۔
امام دُسوقی اور البنانی کی تشریح
“وأما الهر فيجوز بيعه لينتفع به حيا”
ترجمہ: “رہی بلی، تو اس کی بیع جائز ہے تاکہ اس سے زندہ حالت میں فائدہ اٹھایا جائے۔”
مزید یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ المدونة کے ظاہر مفہوم کے مطابق بلی سے زندہ اور مردہ دونوں حالتوں میں فائدہ اٹھانے کے لیے اس کی خرید و فروخت جائز ہے، اور یہی توضیح امام مواّق نے بھی بیان کی ہے۔
خلاصہ کلام: بلی کی خرید و فروخت مالکی مذہب میں مطلقاً جائز ہے۔
اصل عربی نصوص (ملاحظہ فرمائیں)
- قال الشيخ خليل: وجاز هر وسبع للجلد.
- قال البناني: وأما الهر فيجوز بيعه لينتفع به حيا.