وضو کے لیے کون سا پانی استعمال کیا جا سکتا ہے؟

طہارت، یعنی پاکیزگی، پانی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ شرعی طہارت کے باب میں پانی اُس ہلکے اور بہنے والے مائع کو کہا جاتا ہے جس میں رنگ، بو، یا ذائقہ نہ ہو۔ پانی کی تین قسمیں ہیں:

  1. ۔ طَہُور: پاک اور پاک کرنے والا پانی
  2. ۔ طَاہِر: پاک لیکن پاک نہ کرنے والا پانی
  3. ۔ نَجِس: ناپاک پانی

طَہُور پانی کیا ہے؟

طَہُور وہ پانی ہے جو خود پاک ہو اور دوسروں کو پاک کرنے والا بھی ہو، یعنی وہ صاف ہو اور ہر قسم کی طہارت، جیسے وضو اور غسل، کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ طَہُور ہونے کے لیے پانی کے رنگ، بو، اور ذائقے میں تبدیلی نہیں ہونی چاہیے۔

قدرتی آبی ذخائر طَہُور ہوتے ہیں، اگرچہ ان میں موجود قدرتی چیزوں جیسے معدنیات، مٹی، یا دیگر اشیاء کی وجہ سے پانی میں کچھ تبدیلی آ جائے۔ جھیلیں، دریا، نہریں، سمندر، چشمے، کنویں، نیز بارش کا پانی، پگھلی ہوئی برف، اولے، اور ژالہ باری کا پانی سب طَہُور ہیں۔

وہ پانی بھی طَہُور ہے جو اپنے برتن کی وجہ سے متاثر ہو جائے، جیسے بالٹی، پانی کی بوتل، پائپ، یا نلی وغیرہ۔ اسی طرح نل کا پانی بھی طَہُور ہے، اگرچہ اس میں کچھ مادے شامل کیے گئے ہوں، بشرطیکہ اتنی مقدار شامل نہ کی گئی ہو کہ پانی کا رنگ، ذائقہ، یا بو بدل جائے۔

وہ پانی بھی طَہُور شمار ہوتا ہے جو ایسی چیز سے متاثر ہو جائے جس سے بچنا ممکن نہ ہو۔ مثال کے طور پر ایسا پانی جو باربی کیو کے دھوئیں یا بخور کے بخارات سے متاثر ہو گیا ہو۔

طَاہِر پانی کیا ہے؟

طَاہِر وہ پانی ہے جو پاک تو ہو لیکن پاک کرنے والا نہ ہو، یعنی وہ صاف ہو اور عام استعمالات میں کام آ سکتا ہو، لیکن شرعی طہارت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ طَاہِر پانی وہ ہے جس کے رنگ، بو، یا ذائقے میں کسی پاک چیز کی وجہ سے تبدیلی آ گئی ہو۔

مثال کے طور پر صابن والا پانی یا صفائی کا اسپرے نجاست کو شرعاً پاک نہیں کرتے، اگرچہ وہ اسے دور کر دیتے ہیں۔ نجاست کی شرعی تطہیر کے لیے ضروری ہے کہ طَہُور پانی اُس جگہ پر بہے اور صاف حالت میں بہہ کر نکلے۔ ایک اور مثال سوئمنگ پول کا پانی ہے جس میں کلورین کی بو ہو؛ اسے طہارت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

نَجِس پانی کیا ہے؟

نَجِس پانی وہ ہے جو ناپاک ہو اور کسی بھی استعمال کے قابل نہ ہو، حتیٰ کہ عام استعمالات کے لیے بھی نہیں۔ نَجِس پانی وہ ہے جس کے رنگ، بو، یا ذائقے میں نجاست کی وجہ سے تبدیلی آ گئی ہو۔ ایسے پانی کو فوراً پھینک دینا واجب ہے۔

نجاست کیا ہے؟

نجاست وہ چیز ہے جو شرعاً ناپاک ہو اور جسے فوراً دور کرنا اور نماز کی جگہ، کپڑوں، اور جسم سے ہٹانا واجب ہو، بشرطیکہ انسان قادر ہو اور اسے یاد ہو۔ درج ذیل چیزیں نجس ہیں:

  • ۔ بہنے والا خون۔
  • ہر وہ چیز جو اگلے یا پچھلے مقام سے خارج ہو*
  • ۔ قے اور معدے کا تیزاب اوپر آنا
  • ۔ پیپ اور زخم سے نکلنے والی ہر رطوبت
  • ۔ مائع نشہ آور اشیاء
  • ۔ ہر مردار چیز**

*سوائے اُن جانوروں کے جو کھانے کے لیے حلال ہیں (ان کا فضلہ نجس نہیں ہے)

**سوائے سمندری مخلوقات، شرعی طریقے سے ذبح کیے گئے جانور کے گوشت، مردہ انسان، یا ایسے مردہ کیڑوں کے جن میں بہنے والا خون نہیں ہوتا

ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ نجاست کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص نجاست کے حوض میں مکمل طور پر ڈوب بھی جائے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹتا۔ البتہ اس پر طہارتُ الخَبَث لازم ہوتی ہے، یعنی نجاست کو پاک پانی سے اس طرح دھونا کہ پانی صاف ہو کر بہہ جائے۔ نماز کے لیے کم از کم مطلوبہ طہارت میں داغ اور بو کے مکمل زائل کرنے کا مکلف نہیں بنایا گیا۔

تحریر: رحمہ اصغر

نظرِ ثانی: شادى المصری

مترجم محمد طلحہ بن فرید المالکی

ماخذ: ابن عاشر کی المرشد المعين، متن العزية

مالکی فقہ کا مطالعہ آرک ویو پر کریں۔