شفع اور وتر کیا ہیں؟
وتر وہ نماز ہے جو اس دن کی آخری نماز ہوتی ہے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم وتر کو دن کی آخری نماز بنائیں۔
اس کا کیا مطلب ہے؟
لفظ ’شفع‘ کا لغوی معنی ’جفت‘ (دو) ہے جبکہ لفظ ’وتر‘ کا معنی ’طاق‘ ہے، کیونکہ یہ صرف ایک رکعت ہے۔
اس کا شرعی حکم
اگر نبی اکرم ﷺ نے کسی نماز کو کوئی نام دیا ہو، تو اسے ’سنت‘ کا درجہ دیا جاتا ہے، جسے بلاوجہ چھوڑنا قابلِ ملامت ہے۔ اگر آپ ﷺ نے اس کے لیے کسی اجر کی تخصیص فرمائی ہو، تو اسے ’رغیبہ‘ کہا جاتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو، تو اسے ’نفل‘ کہا جاتا ہے۔ وتر سنت ہے، اور دن میں واحد سنت یہی ہے۔ صبح (فجر) سے پہلے کی دو رکعتیں ’رغیبہ‘ ہیں۔ باقی تمام دن بھر کی نمازیں نفل ہیں۔
کیا وتر کو شفع کے بغیر پڑھا جا سکتا ہے؟
کوئی شخص وتر کی ایک رکعت تنہا بھی پڑھ سکتا ہے۔ یہ درست ہوگی، لیکن اسے ناقص سمجھا جاتا ہے۔
شفع کی کتنی رکعتیں ہیں؟
اس کی کم از کم تعداد دو ہے اور اس کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد نہیں۔ نفرِاوی فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ شفع کی دس رکعتیں پڑھا کرتے تھے، دو دو کر کے۔ (اگر کسی نے نفل کے طور پر لگاتار چار رکعتیں پڑھ لیں اور درمیان میں سلام نہ پھیرا، تو یہ مکروہ ہوگا لیکن نماز ہو جائے گی)۔
اس کا وقت کیا ہے؟
اسے عشاء کے بعد سے لے کر صبح کی نماز (کے فرض) سے پہلے تک کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے، چاہے فجر کا وقت داخل ہو چکا ہو، کیونکہ صبح (کے فرض) میں تاخیر کرنا گناہ نہیں ہے۔
اس میں کیا پڑھنا چاہیے؟
پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ اور دوسری میں سورۃ الکافرون کی تلاوت کرنا مستحب ہے۔ پھر وہ تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔ اس کے بعد ایک رکعت پڑھے، اور اس میں اخلاص، الفلق اور الناس کی تلاوت کرے۔ تاہم، کوئی بھی شخص جو سورتیں چاہے پڑھ سکتا ہے۔
اسے پڑھنے کا بہترین وقت کب ہے؟
کسی بھی اور تمام نوافل کے لیے رات کا بہترین حصہ رات کا آخری تہائی پہر ہے، سوائے اس شخص کے جسے ڈر ہو کہ وہ بیدار نہیں ہو سکے گا۔ ایسی صورت میں، وہ اسے سونے سے پہلے پڑھ لے۔
یہ سری (خاموش) ہے یا جہری (بلند آواز)؟
وتر اور رات کے تمام نوافل بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے، جبکہ دن کے نوافل خاموشی سے پڑھے جاتے ہیں۔ لیکن اگر کسی نے انہیں تبدیل کر دیا، تو اس پر کوئی حرج نہیں۔
اگر میں بھول جاؤں کہ میں نے شفع کی کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟
رکعتوں میں کسی بھی قسم کی بھول چوک کا معاملہ اسی طرح کیا جاتا ہے جیسے فرض نمازوں میں ہوتا ہے۔ آپ ایک رکعت کا اضافہ کریں گے اور پھر سہو (بھول کے دو سجدے) کریں گے۔
اگر میں غلطی سے وتر کی دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جاؤں تو کیا ہوگا؟
نفراوی فرماتے ہیں کہ آپ دوسری رکعت مکمل کر لیں اور پھر سلام کے بعد دو سجدہ سہو کریں۔
اگر میں نے وتر پڑھ لی لیکن رات کے درمیان بیدار ہو گیا تو کیا میں تہجد پڑھ سکتا ہوں؟
چونکہ یہ اتفاقاً ہوا، اس کے برعکس کہ جان بوجھ کر وتر کے بعد نوافل پڑھے جائیں، لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں اور انسان جتنی رکعتیں چاہے پڑھ سکتا ہے۔
کیا میں دو بار وتر پڑھ سکتا ہوں؟
”ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں۔“
کیا وتر گھر میں بہتر ہے یا مسجد میں؟
اس میں کوئی ترجیح نہیں، اگرچہ عام طور پر نفل گھر میں پڑھنا بہتر ہے۔
کیا میں بلاوجہ بیٹھ کر پڑھ سکتا ہوں؟
اسے بیٹھ کر (زمین پر) پڑھا جا سکتا ہے چاہے انسان بیمار یا زخمی نہ بھی ہو، لیکن اجر صرف آدھا ملے گا۔
وَأَقَلُّ الشَّفْعِ رَكْعَتَانِ، وَيُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ يَقْرَأَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى. وَفِي الثَّانِيَةِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ. ثُمَّ يَتَشَهَّدُ وَيُسَلِّمُ. ثُمَّ يُصَلِّي الْوِتْرَ رَكْعَةً، يَقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ. وَإِنْ زَادَ مِنَ الأَشْفَاعِ جَعَلَ آخِرَ ذٰلِكَ الْوِتْرَ. وَأَفْضَلُ اللَّيْلِ آخِرُهُ فِي الْقِيَامِ؛ فَمَنْ أَخَّرَ تَنَقُّلَهُ وَوِتْرَهُ إِلَى آخِرِهِ فَذٰلِكَ أَفْضَلُ إِلَّا مَنِ الْغَالِبُ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْتَبِهَ، فَلْيُقَدِّمْ وِتْرَهُ مَعَ مَا يُرِيدُ مِنَ النَّوَافِلِ أَوَّلَ اللَّيْلِ
ماخذ: رسالۃ ابن ابی زید اور الرسالہ(نفراوی)
تحریر: محمد السکندری
مترجم: محمد طلحہ بن فرید المالکی
مزید مالکی فقہ پڑھیں: Arkview.org
کلاسیکی کتب حاصل کریں: UmmahSpot.com
اردو میں دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔