PDF Customizer

Tweak document styles and layout in real-time.

Text Direction & Font

Layout & Paper

Typography & Colors

24pt
11pt

Elements Visibility

Exit Editor
100%
Maliki Fiqh Urdu

ہمارا بلاگ

By: ابو محمد طلحہ بن فرید المالکی | Date: مارچ 23, 2022

تازہ ترین مراسلہ جات

حضرت احمد زروق رحمہ اللہ کی زرّیں نصیحتیں مراکش کے عظیم محدث، فقیہ، صوفی اور مربی کے رہنما ارشادات حضرت احمد زروق رحمہ اللہ مراکش کے عظیم محدث، فقیہ، صوفی اور مربی تھے۔ آپ کا وصال لیبیا کے شہر مصراتہ میں ہوا۔ آپ نے ایک موقع پر فرمایا تھا کہ آپ کی تعلیمات کی خوشبو ان کے جسم کے مٹی میں مل جانے کے بہت بعد تک دنیا میں پھیلتی رہے گی۔ چنانچہ یہ آپ کی کرامتوں میں سے ہے کہ صدیوں گزر جانے کے باوجود آج بھی آپ کے ارشادات دلوں کو زندہ کرتے، نفوس کی اصلاح کرتے اور سالکانِ راہِ حق کی رہنمائی کرتے ہیں۔ آپ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: “جان لو! اللہ تعالیٰ ہمیں اور تمہیں اپنی توفیقِ خاص عطا فرمائے، ہماری دنیا و آخرت کی اصلاح فرمائے، اور سفر و حضر میں ہمیں راہِ حق پر ثابت قدم رکھے۔” 🔑 توبہ، تقویٰ اور نیکی کی بنیاد یاد رکھو کہ توبہ ہر خیر کی کنجی ہے، تقویٰ وسیع ترین زادِ راہ ہے، اور نیک عمل صحیح فکر و بصیرت کا سرچشمہ ہے۔ انسان لغزشوں، کوتاہیوں اور غفلتوں سے خالی نہیں۔ اس لیے کبھی توبہ سے غافل نہ ہونا، کبھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع سے منہ نہ موڑنا، اور کبھی ان اعمال کو ترک نہ کرنا جو تمہیں اللہ کے قریب کرتے ہیں۔ جب بھی گناہ سرزد ہو تو فوراً توبہ کرو، جب بھی خطا ہو تو اطاعت اور فرمانبرداری کی طرف لوٹ آؤ، اور جب بھی سستی یا کمزوری محسوس ہو تو کوشش اور مجاہدہ ترک نہ کرو۔ ✨ اصلاحِ ظاہر و باطن کا سفر تمہاری اولین فکر یہ ہونی چاہیے کہ اپنے ظاہر کو ہر اس چیز سے پاک کرو جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ پھر مسلسل محاسبہ اور نصیحت کے ذریعے اپنے اعمال کی اصلاح کرتے رہو، یہاں تک کہ معاصی سے نفرت اور حدودِ شرع کی حفاظت تمہاری عادت بن جائے۔ اس کے بعد اپنے دل کی طرف متوجہ ہو جاؤ، اسے ذکر و فکر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی حضوری سے آراستہ کرو۔ ⏳ ابتدا اور انجام کا توازن انجام تک پہنچنے کی جلدی میں ابتدا کو ضائع نہ کرو، اور ابتدا کرتے وقت انجام سے غافل بھی نہ رہو۔ جو شخص ابتدا ہی میں انجام کا مطالبہ کرتا ہے وہ الٰہی عنایت سے محروم رہتا ہے، اور جو انجام کو نظر انداز کرکے سفر شروع کرتا ہے وہ راہنمائی سے محروم ہو جاتا ہے۔ 📜 اصولِ شریعت کی حاکمیت اپنے معاملات کو اصولِ شریعت کے مطابق قائم کرو، نہ کہ قصوں، خوابوں اور غیر مستند حکایات کے مطابق۔ صالحین کے حالات کو اپنے عزم کی تقویت کا ذریعہ بناؤ، نہ کہ ان کی ظاہری کیفیتوں کی محض نقالی کرو۔ ہمیشہ کسی واضح اور مضبوط بنیاد پر قائم رہو جس کی طرف ضرورت کے وقت رجوع کیا جا سکے۔ ⚖️ گفتگو اور نفس میں اعتدال فضول اور فحش گفتگو سے حتی المقدور اجتناب کرو۔ ایسی باتوں میں مشغول نہ ہو جن کا فائدہ تمہارے لیے واضح نہ ہو۔ اپنے نفس پر اس وقت تک بے جا سختی نہ کرو جب تک اس پر تمہاری گرفت مضبوط نہ ہو جائے، لیکن شرعی احکام کے معاملے میں اس کے ساتھ نرمی بھی نہ برتو۔ نفس ہمیشہ اعتدال سے بھاگتا اور افراط و تفریط کی طرف مائل رہتا ہے۔ 🤝 صالح رفاقت اور لوگوں سے معاملہ اپنے لیے ایک صالح ساتھی تلاش کرو جو تمہارے دینی سفر میں معاون ہو۔ اپنے ظاہری و باطنی معاملات میں اس سے مشورہ کرتے رہو۔ اس کے ساتھ اس کی استعداد اور حالات کے مطابق معاملہ کرو، کیونکہ کامل دوست بہت کم رہ گئے ہیں اور موافق ساتھی بھی نایاب ہو چکے ہیں۔ اپنے دینی و دنیاوی معاملات میں لوگوں سے محتاط رہو، الا یہ کہ تمہیں یقین ہو جائے کہ وہ اپنے رب کے ساتھ سچے تعلق، خواہشاتِ نفس سے آزادی اور پاکیزہ نیت کا حامل ہے۔ 🌍 حکمتِ الٰہی اور وقت کی تنظیم لوگوں کے ظاہر و باطن، ان کے نسب و کردار، اور ان کے اعمال و اخلاق کو سمجھنے کی کوشش کرو۔ ہر قوم اور ہر علاقے کی غالب صفات کو پہچانو، اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں اس کی حکمتوں پر غور کرتے رہو۔ اپنے وقت کو اس کی ضروریات کے مطابق منظم کرو۔ نہ سختی اختیار کرو اور نہ سستی。 مباح چیزوں میں بے اعتدالی بھی دل کو اپنے سفر سے پیچھے دھکیل دیتی ہے۔ 🍂 دنیا اور آخرت کا عمل دنیا کے لیے ایسے عمل کرو گویا تم ہمیشہ زندہ رہو گے، اور آخرت کے لیے ایسے تیاری کرو گویا کل ہی اپنے رب سے ملاقات ہونے والی ہے۔ ظاہری اسباب کو اختیار کرو، مگر انجامِ کار اور آخرت کی جواب دہی کو کبھی نہ بھولو۔ 🛡️ شہرت سے دوری اور ثباتِ قدم قیادت، شہرت اور مناصب سے حتی الامکان دور رہو۔ لیکن اگر ان میں مبتلا کر دیے جاؤ تو اپنی حدود کو پہچانو۔ اللہ تعالیٰ کے لیے خالص نیت سے عمل کرو، اور اس کے فیصلوں کے سامنے مکمل سپردگی اختیار کرو۔ اپنے تمام معاملات کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرو، تم لغزشوں سے محفوظ رہو گے۔ اپنی عبادات کو منظم کرو، تمہارے اوقات میں برکت پیدا ہوگی۔ کسی چیز کے بارے میں تعصب اختیار نہ کرو، خواہ وہ حق ہی کیوں نہ ہو، اس سے تمہارا دل لوگوں کے بارے میں سلامت رہے گا۔ 💎 عاجزی، حقوق اور تحفظِ راز کبھی ایسے مقام یا مرتبے کا دعویٰ نہ کرو جس کے تم اہل نہیں۔ بلکہ جس کے اہل ہو، اس کے دعوے میں بھی احتیاط سے کام لو۔ جو شخص اپنے مقام سے بلند دعویٰ کرتا ہے وہ ذلیل ہوتا ہے، اور جو عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند فرما دیتا ہے۔ لوگوں سے اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کرو، خواہ وہ قریبی ہوں یا اجنبی۔ اجنبی تمہارا مقروض نہیں، اور قریبی اتنا قیمتی ہے کہ اسے ملامتوں میں ضائع نہ کیا جائے۔ اپنے رازوں کی حفاظت کرو۔ یاد رکھو! تمہارے راز کے لیے تمہارے اپنے سینے سے زیادہ محفوظ کوئی جگہ نہیں۔ 🔄 معمولاتِ عبادات پر استقامت اپنے معمولات اور وظائف میں کمی نہ آنے دو۔ نشاط ہو یا سستی، اپنے نفس کو ڈھیل نہ دو۔ اگر کوئی عمل فوت ہو جائے تو اس کی تلافی کرو، اور اگر اصل عمل ممکن نہ ہو تو اس جیسا کوئی دوسرا نیک عمل اختیار کر لو。 اپنے نفس کی ایک لمحے کے لیے بھی اطاعت نہ کرو، اور اس کے دعووں پر اعتماد نہ کرو۔ اپنے عزم کی حفاظت کرو، اور جب کسی خیر کا ارادہ کرو تو فوراً اس کی طرف بڑھو، اس سے پہلے کہ ارادہ کمزور پڑ جائے۔ 🎯 محاسبہِ نفس اور حسنِ سلوک اپنا محاسبہ خصوصاً واجبات اور ضروری امور میں مسلسل جاری رکھو۔ جن چیزوں کی تمہیں ضرورت نہیں، انہیں چھوڑ دو، اگرچہ وہ مستحب ہی کیوں نہ ہوں۔ اپنی توانائیاں صرف ان امور پر صرف کرو جو حقیقتاً تمہارے لیے ضروری اور مفید ہیں۔ لوگوں کے ساتھ وہی معاملہ کرو جو تم اپنے لیے پسند کرتے ہو، اور ان کے حقوق ادا کرو۔ لوگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اختیار کرو اور ظلم و زیادتی سے بچو۔ اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو اسے بہترین انداز میں معاف کرکے آگے بڑھ جاؤ۔ شاعر نے خوب کہا ہے: اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارا دین محفوظ رہے، تمہارا نصیب مکمل ہو اور تمہاری عزت برقرار رہے، تو اپنی زبان کی حفاظت کرو اور کسی کے عیب کا ذکر نہ کرو؛ کیونکہ تمہارے بھی عیب ہیں اور دوسروں کے پاس بھی زبانیں ہیں۔ ♦ ♦ ♦ اور اگر تمہاری آنکھ کسی کا عیب دیکھے تو اسے کہو: “اے میری آنکھ! دوسروں کے پاس بھی آنکھیں ہیں۔” جامع نبوی ﷺ ارشادات ان تمام نصیحتوں کا خلاصہ رسول اللہ ﷺ کے اس جامع فرمان میں موجود ہے: «اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْتَ، وَأَتْبِعِ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقِ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ» “جہاں کہیں بھی ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور گناہ کے بعد نیکی کر لیا کرو وہ (نیکی) اس (گناہ) کو مٹا دے گی اور لوگوں کے ساتھ حسن اخلاق سے پیش آؤ۔” اور آپ ﷺ نے فرمایا: «كُلُّ ابْنِ آدَمَ خَطَّاءٌ وَخَيْرُ الْخَطَّائِينَ التَّوَّابُونَ» “آدم کا ہر بیٹا خطاکار ہے اور بہترین خطاکار وہ ہیں جو بہت زیادہ توبہ کرنے والے ہوں گے۔” اور فرمایا: «إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ نَفَثَ فِي رُوعِي أَنَّ نَفْسًا لَنْ تَمُوتَ حَتَّى تَسْتَكْمِلَ أَجَلَهَا، وَتَسْتَوْعِبَ رِزْقَهَا، فَاتَّقُوا اللَّهَ، وَأَجْمِلُوا فِي الطَّلَبِ» “بیشک روح القدس (حضرت جبرائیل علیہ السلام) نے میرے دل میں یہ بات ڈالی (پھونکی) ہے کہ کوئی بھی جان اس وقت تک ہرگز نہیں مرے گی جمع تک وہ اپنی مقررہ مدتِ حیات (عمر) اور اپنا مقررہ رزق پورا نہ کر لے۔ پس اللہ سے ڈرو اور رزق کو اچھے طریقے (عزت، وقار اور حلال راستے) سے طلب کرو۔” خلاصۂ کلام توبہ، تقویٰ اور نیک عملی ہر خیر، ہر اصلاح اور ہر کامیابی کی بنیاد ہیں۔ حق کا راستہ واضح ہے، لیکن اس پر استقامت اور اس کی تفصیلات نہایت اہم اور وزنی ہیں۔ تمام معاملات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں، اور حقیقی کامیابی اسی کے دستِ قدرت میں ہے۔ وَمَا تَوْفِيقِي إِلَّا بِاللَّهِ ۚ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ۔ والسلام۔ [...]
فوت شدہ نمازوں کی قضا کیسے کی جائے؟ تحریر: ریما اصغر و شاذی المصري | مراجعہ: مرابط بناویڈز 🕌 قضا نماز کیلکولیٹر اور سمارٹ ٹریکر اپنی چھوٹی ہوئی نمازوں کا حساب لگائیں، روزانہ کی بنیاد پر اپنی پیش رفت مانیٹر کریں اور متوقع تاریخِ تکمیل جانیں۔ جنس منتخب کریں: مرد عورت فقہی مسلک: حنفی (وتر کی قضا بھی شامل کریں) مالکی / شافعی / حنبلی (صرف ۵ فرائض) حساب کا طریقہ: عمر کے مطابق (خودکار حساب) براہِ راست سال درج کریں موجودہ عمر (سالوں میں): اپنی موجودہ عمر درج کریں۔ بلوغت کی عمر (سالوں میں): لڑکوں کے لیے عموماً 12-15 سال اور لڑکیوں کے لیے 9-15 سال۔ کتنے سال باقاعدگی سے نماز پڑھی؟ بلوغت کے بعد کا وہ عرصہ جس میں کوئی نماز قضا نہیں ہوئی۔ چھوٹی ہوئی نمازوں کے کل سال: ان سالوں کی تعداد لکھیں جن کی نمازیں قضا ہیں۔ ماہانہ اوسط ایامِ حیض (منہا کرنے کے لیے): وہ دن جن میں شرعی عذر کی وجہ سے نمازیں معاف ہوتی ہیں۔ روزانہ کا قضا ہدف (کتنے دن کی قضا روزانہ پڑھیں گے؟): اس ہدف سے آپ کے قضا کے خاتمے کا وقت معلوم ہوگا۔ حساب لگائیں اور ٹریکر فعال کریں 🕌 آپ کا ذاتی قضا ٹریکر سفر کا آغاز مبارک! 💡 یہ ریکارڈ خودکار طور پر اسی براؤزر میں محفوظ رہے گا اور ہر بار وزٹ کرنے پر اپ ڈیٹ ہوتا رہے گا۔ مجموعی قضا کی ادائیگی کی پیش رفت: 0% اللہ تعالیٰ آپ کے عزم کو قبول فرمائے اور استقامت عطا کرے۔ روزانہ کا ہدف 0 دن متوقع مدتِ تکمیل حساب لگایا جا رہا ہے... ⚡ ایک کلک لاگنگ: ➕ پورے 1 دن کی نمازیں ➕ پورے 5 دن کی نمازیں ➕ پورے 30 دن کی نمازیں نماز کل قضا درکار ادا شدہ قضا باقی نمازیں فوری تبدیلی کریں 🌅 فجر 0 0 +1 +5 -1 ☀️ ظہر 0 0 +1 +5 -1 🌤️ عصر 0 0 +1 +5 -1 🌅 مغرب 0 0 +1 +5 -1 🌌 عشاء 0 0 +1 +5 -1 🕌 وتر (واجب) 0 0 +1 +5 -1 🔄 نیا حساب لگائیں (ٹریکر ری سیٹ کریں) تاخیر سے بچنا اگر کوئی نماز بھول جانے کی وجہ سے یا جان بوجھ کر چھوٹ جائے تو اس کی قضا جلد از جلد کرنا مؤکد ہے، الا یہ کہ کوئی معتبر عذر موجود ہو، جیسے روزی کمانے کی ضرورت، جیسا کہ عدوی نے ذکر کیا ہے۔ بلکہ بلا عذر قضا میں تاخیر کرنا گناہ ہے۔ عملی طور پر، سب سے پہلے انسان کو پابندی کے ساتھ موجودہ نمازیں ادا کرنے کی عادت ڈالنی چاہیے، پھر بعد میں فوت شدہ نمازوں کی قضا شروع کرنی چاہیے۔ لہٰذا یہ مناسب ہے کہ پہلے اپنی بروقت نمازوں کو مستحکم کیا جائے، پھر قضا نمازوں کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ شمار کہاں سے شروع ہوگا؟ نماز اس وقت فرض ہوتی ہے جب عاقل مسلمان بلوغت کو پہنچ جائے۔ مرد کے لیے بلوغت احتلام (منی کا اخراج) سے حاصل ہوتی ہے اور عورت کے لیے پہلا حیض سے۔ لہٰذا: نو مسلم شخص: اپنی اسلام قبول کرنے کی تاریخ سے نمازوں کا حساب کرے گا۔ جن اوقات میں کوئی شخص مجنون تھا: ان اوقات کی نمازیں اس کے ذمہ نہیں ہوں گی۔ بچپن میں جو نمازیں ترک ہوئیں: بلوغت سے پہلے کی ان نمازوں کی قضا لازم نہیں۔ نماز کو مختصر کرنے کا طریقہ؟ بعض لوگ جن پر بہت زیادہ قضا نمازیں ہیں، پوچھتے ہیں کہ کیا وہ صرف فرائض ادا کر سکتے ہیں تاکہ نماز مختصر ہو جائے؟ یہ کافی نہیں ہوگا، کیونکہ تین سے زیادہ سنن کو جان بوجھ کر چھوڑ دینا نماز کو باطل کر دیتا ہے اگر سجدۂ سہو کے ذریعے اس کی تلافی نہ کی جائے، اور سجدۂ سہو صرف بھول جانے کی صورت میں مشروع ہے، جان بوجھ کر سنت چھوڑنے کی صورت میں نہیں۔ مذکورہ مضمون کے آخر میں فرائض اور سنن کی فہرست ذکر کی گئی ہے۔ البتہ فضائل (مستحباتِ خفیفہ) کو چھوڑا جا سکتا ہے، مثلاً: رکوع و سجدہ میں تسبیحات (لیکن طمانینہ نہیں) فجر اور ظہر میں طویل سورتیں پڑھنا فجر کا قنوت سلام سے پہلے فتنوں سے پناہ کی دعا یہ تمام امور فضائل ہیں، جنہیں قصداً چھوڑنے میں گناہ نہیں۔ موجودہ نماز مقدم ہے یا قضا؟ اگر صرف ایک دن کی نمازیں فوت ہوئی ہوں تو پہلے انہی کی قضا ادا کی جائے، خواہ اس دوران موجودہ نماز کا وقت نکل جائے۔ لیکن اگر ایک دن سے زیادہ نمازیں فوت ہوں (مازری کے مطابق چھ نمازیں)، تو پہلے موجودہ نماز ادا کی جائے، پھر قضا نمازیں پڑھی جائیں۔ یہی ابن القاسم کا موقف ہے جسے مدونہ میں نقل کیا گیا ہے۔ روزانہ کتنی قضا نمازیں پڑھوں؟ امام مالک نے فرمایا کہ روزانہ پانچ دن کی نمازوں سے کم قضا کرنا کوتاہی ہے۔ تاہم آج کے حالات میں بعض علماء نے مشورہ دیا ہے کہ ہر فرض نماز کے بعد ایک قضا نماز پڑھی جائے، یوں روزانہ ایک مکمل دن کی قضا ادا ہو جائے گی۔ عدوی فرماتے ہیں کہ اس کی کوئی مقرر تعداد نہیں؛ ہر شخص اپنی استطاعت کے مطابق قضا کرے۔ ضروری ہے کہ فوت شدہ سالوں کی تعداد کا اندازہ زیادہ لگایا جائے تاکہ یقین ہو جائے کہ تمام فوت شدہ نمازیں ادا ہو چکی ہیں۔ کیا قضا نمازیں ترتیب کے ساتھ ادا کرنی ہوں گی؟ پانچوں نمازیں ترتیب کے ساتھ ادا کرنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر: اگر فجر، ظہر اور عصر فوت ہو گئی ہوں اور مغرب کا وقت آ جائے تو پہلے فجر, پھر ظہر، پھر عصر پڑھی جائے، اس کے بعد مغرب ادا کی جائے، خواہ اس دوران مغرب کا وقت نکل جائے۔ اگر دو دن کی نمازیں فوت ہوں تو: ❌ غلط طریقہ پہلے دو فجر، پھر دو ظہر، پھر دو عصر پڑھنا۔ ✅ صحیح طریقہ پہلے مکمل پہلے دن کی (فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء) ادا کی جائے، پھر دوسرے دن کی (فجر، ظہر، عصر، مغرب، عشاء) پڑھی جائے۔ سفر میں فوت ہوئی نمازوں کی قضا اصول یہ ہے کہ نماز اسی کیفیت پر قضا کی جائے گی جس کیفیت پر واجب ہوئی تھی۔ لہٰذا اگر سفر میں ظہر، عصر یا عشاء قصر کے ساتھ واجب ہوئی تھی تو قضا بھی قصر کے ساتھ کی جائے گی۔ جمعہ کی قضا کیسے ہوگی؟ فوت شدہ جمعہ کی نماز چار رکعت عام ظہر کی صورت میں ادا کی جائے گی۔ اگر دن میں جہری نماز کی قضا کروں تو کیا بلند آواز سے پڑھوں؟ نماز اسی کیفیت کے مطابق پڑھی جائے گی جس کیفیت میں فوت ہوئی تھی، نہ کہ موجودہ وقت کے مطابق۔ لہٰذا: اگر عصر کے وقت فجر کی قضا پڑھیں تو قراءت بلند آواز سے ہوگی۔ اگر رات میں ظہر کی قضا پڑھیں تو قراءت آہستہ ہوگی۔ (جہری قراءت کی کم از کم مقدار یہ ہے کہ آدمی اپنی زبان حرکت دے اور خود اپنی آواز سن سکے۔ سری قراءت میں بھی یہی کم از کم مقدار ہے۔) کیا مکروہ اوقات میں قضا نماز پڑھی جا سکتی ہے؟ فجر کے بعد طلوعِ آفتاب تک اور عصر کے بعد غروبِ آفتاب تک نفل نماز ممنوع ہے۔ لیکن قضا نماز فرض ہے، اس لیے عدوی کے مطابق فجر اور عصر کے بعد قضا نماز ادا کی جا سکتی ہے۔ البتہ اگر لوگ غلط فہمی میں مبتلا ہوں اور اسے ناجائز سمجھیں تو بہتر ہے کہ قضا نماز کسی اور وقت ادا کی جائے۔ اگر نماز کے دوران یاد آئے کہ ایک نماز فوت ہے؟ منوفی نے اس مسئلے میں دو اقوال نقل کیے ہیں: پہلا قول: ترتیب واجب ہے جب فوت شدہ نماز یاد آئے تو موجودہ نماز باطل ہو جاتی ہے۔ خواہ امام ہو، مقتدی ہو یا اکیلا نماز پڑھ رہا ہو، اسے نماز توڑنی ہوگی۔ مثال: اگر مغرب پڑھتے ہوئے یاد آئے کہ عصر فوت ہو گئی تھی تو مغرب توڑ کر پہلے عصر پڑھے، پھر مغرب دوبارہ ادا کرے۔ دوسرا قول: ترتیب مستحب ہے ترتیب مستحب ہے، واجب نہیں ہے۔ لہٰذا مغرب مکمل کرے، پھر عصر کی قضا ادا کرے۔ البتہ اگر مغرب کا وقت ابھی باقی ہو تو مغرب کو دوبارہ پڑھنا مستحب ہوگا۔ کیا قضا باقی ہونے کی حالت میں سنت یا نفل نماز پڑھ سکتا ہوں؟ جس شخص کے ذمہ قضا نمازیں ہوں وہ عام نوافل میں مشغول نہ ہو، مثلاً ظہر سے پہلے چار رکعت نفل وغیرہ، بلکہ اپنی قضا نمازوں پر توجہ دے۔ البتہ درج ذیل نمازیں ادا کرے گا: فجر سے پہلے دو رکعت سنت وتر نمازِ عید نمازِ استسقاء نمازِ کسوف و خسوف تحیۃ المسجد اسی طرح ضرورت کے وقت استخارہ بھی کر سکتا ہے۔ اگر تہجد پڑھنا چاہے تو تہجد کی جگہ قضا نمازیں ادا کرے۔ تراویح نفل ہے، اس لیے جب تک قضا نمازیں باقی ہوں تراویح ادا نہیں کی جائے گی۔ کیا تراویح کے ساتھ قضا کی نیت کر سکتا ہوں؟ فقہِ مالکی میں مقتدی کی نیت امام کی نیت کے موافق ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا جب امام تراویح کی نیت سے نماز پڑھا رہا ہو تو مقتدی قضا نماز کی نیت نہیں کر سکتا۔ نماز کے ارکان اور سنن (فقہِ مالکی) نماز کے چودہ فرائض نمبر فرض رکن 1نیت 2تکبیرۃ الاحرام 3اس کے لیے قیام 4سورۂ فاتحہ کی قراءت 5فاتحہ کے لیے قیام 6رکوع 7رکوع سے اٹھنا 8سجدہ 9سجدہ سے اٹھنا 10پہلا سلام 11سلام کے لیے بیٹھنا 12فرائض کی ترتیب 13اعتدال 14طمانینہ نماز کی آٹھ سنن نمبر سنت عمل 1جہاں آہستہ پڑھنا ہو وہاں آہستہ پڑھنا 2جہاں بلند آواز سے پڑھنا ہو وہاں بلند آواز سے پڑھنا 3فاتحہ کے بعد سورت پڑھنا 4تمام تکبیریں (سوائے تکبیرۃ الاحرام کے) 5رکوع سے اٹھتے وقت سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہنا 6پہلا تشہد 7دوسرا تشہد 8تشہد کے لیے بیٹھنا مآخذ: مرشد المعین (ابن عاشر) اور عدوی علی کفایۃ الطالب الربانی۔ [...]
مالکی مذہب میں بلیوں کی خرید و فروخت کا حکم تحریر: شیخ رامی نصور (Shaykh Rami Nsour) مالکی مذہب کے مطابق بلیوں کی خرید و فروخت جائز ہے۔ فقہائے مالکیہ نے اس حوالے سے واضح احکامات بیان کیے ہیں جن کی تفصیل ذیل میں دی جا رہی ہے۔ امام خلیل رحمہ اللہ کا موقف “وجاز هر وسبع للجلد” ترجمہ: “بلی اور درندے کی خرید جائز ہے، درندے کے بارے میں (مراد) اس کی کھال ہے۔” فقہائے مالکیہ نے وضاحت کی ہے کہ اس عبارت میں بلی کے بارے میں جواز مطلق ہے (یعنی ہر جائز منفعت کے لیے)، جبکہ درندوں کے بارے میں جواز صرف ان کی کھال سے فائدہ اٹھانے کے اعتبار سے ہے۔ امام دُسوقی اور البنانی کی تشریح “وأما الهر فيجوز بيعه لينتفع به حيا” ترجمہ: “رہی بلی، تو اس کی بیع جائز ہے تاکہ اس سے زندہ حالت میں فائدہ اٹھایا جائے۔” مزید یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ المدونة کے ظاہر مفہوم کے مطابق بلی سے زندہ اور مردہ دونوں حالتوں میں فائدہ اٹھانے کے لیے اس کی خرید و فروخت جائز ہے، اور یہی توضیح امام مواّق نے بھی بیان کی ہے۔ خلاصہ کلام: بلی کی خرید و فروخت مالکی مذہب میں مطلقاً جائز ہے۔ ماخذ: مختصر خلیل، حاشیۃ الدسوقی۔ اصل عربی نصوص (ملاحظہ فرمائیں) قال الشيخ خليل: وجاز هر وسبع للجلد. قال البناني: وأما الهر فيجوز بيعه لينتفع به حيا. [...]
مالکی مذہب میں اذان اُس اذان سے کچھ مختلف ہے جو عموماً سنی جاتی ہے، یعنی وہ اذان جو صحابیِ رسول حضرت عبد اللہ بن زیدؓ کے خواب کے ذریعے منقول ہوئی۔ امام مالکؒ نے اُس اذان کو ترجیح دی جسے خود نبی کریم ﷺ نے حضرت ابو محذورہؓ کو سکھایا تھا، جس کا واقعہ ذیل میں مذکور ہے۔ بعد میں یہی اذان مدینہ منورہ میں بھی رائج ہوئی۔ اس کا فرق یہ ہے کہ اس کی ابتدا صرف دو تکبیروں سے ہوتی ہے اور اس میں دونوں شہادتوں کا ترجیع (تکرار) شامل ہے۔ امام مالکؒ نے اذان میں حد سے زیادہ لے اور گانے کے انداز (تطریب) کو ناپسند فرمایا، البتہ تھوڑی سی خوش الحانی (تحبیر) کی اجازت دی۔ ذیل میں تین مثالیں ہیں، جن میں تیسری مثال اُس مقدارِ خوش الحانی کو ظاہر کرتی ہے جو اذان میں جائز ہے۔ الفاظِ اذان اللہ اکبر (2 مرتبہ) *أشهد أن لا إله إلا الله (2 مرتبہ، آہستہ)*أشهد أن محمدًا رسول الله (2 مرتبہ، آہستہ) أشهد أن لا إله إلا الله (2 مرتبہ، بلند آواز سے)أشهد أن محمدًا رسول الله (2 مرتبہ، بلند آواز سے) حي على الصلاة (2 مرتبہ)حي على الفلاح (2 مرتبہ) الله أكبر (2 مرتبہ)لا إله إلا الله (1 مرتبہ) *اس سے مراد ترجیع ہے، یعنی دونوں شہادتوں کو پہلے آہستہ کہنا، پھر دوبارہ بلند آواز سے دہرانا۔ ممنوع لحن: اذان کے الفاظ کو اس طرح غلط ادا کرنا کہ ان کا معنی بدل جائے یا فاسد ہو جائے، حرام ہے۔ مکروہ تطریب: حد سے زیادہ اور مبالغہ آمیز لے اور خوش الحانی مکروہ ہے، اگرچہ تلفظ درست ہی کیوں نہ ہو۔ جائز تحبیر: ایسی معتدل خوش الحانی جائز ہے جو اذان کو خوبصورت بنائے لیکن گانے کی صورت اختیار نہ کرے۔ (اس کی مثال اوپر مذکور تیسری ریکارڈنگ ہے) مستحب ترجیع: ابو محذورہؓ کی اذان کا سب سے نمایاں امتیاز، جسے امام مالکؒ نے ترجیح دی، ترجیع ہے، یعنی دونوں شہادتوں کی تکرار۔ پہلے انہیں آہستہ کہا جاتا ہے، پھر بلند آواز سے دہرایا جاتا ہے۔ شوافع بھی ترجیع کو بہت مؤکد سمجھتے ہیں کیونکہ اس کی تائید صحیح مسلم کی صحیح حدیث سے ہوتی ہے، جیسا کہ ذیل میں مذکور ہے۔ اس کے برعکس احناف اور حنابلہ حضرت عبد اللہ بن زیدؓ اور حضرت بلالؓ کی اذان کو ترجیح دیتے ہیں جس میں ترجیع نہیں ہوتی اور جو چار تکبیروں سے شروع ہوتی ہے، نہ کہ دو سے۔ مؤذن کے لیے باوضو ہونا بھی مستحب ہے۔ ابو محذورہؓ کی اذان کا پس منظر اسلام قبول کرنے سے پہلے حضرت ابو محذورہؓ نوجوانوں کے ایک ایسے گروہ میں شامل تھے جو اذان کا مذاق اڑاتے اور اس کی نقل اتارتے ہوئے اس کے کلمات دہراتے تھے۔ یہ واقعہ فتح مکہ کے کچھ ہی عرصہ بعد پیش آیا، جب بہت سے لوگ ظاہری طور پر اسلام میں داخل ہو چکے تھے لیکن ابھی ایمان ان کے دلوں میں پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا۔ یہ واقعہ غزوۂ حنین کے لیے طائف کی جانب سفر کے دوران پیش آیا۔ جب نبی کریم ﷺ کو اس واقعے کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے حضرت ابو محذورہؓ کو بلایا، ان سے گفتگو فرمائی، پھر انہیں اپنے قریب کیا، ان کے سینے پر اپنا دستِ مبارک رکھا، ان کے لیے دعا فرمائی، اور انہیں چاندی کے سکوں کی ایک تھیلی عطا فرمائی۔ پھر آپ ﷺ نے انہیں اذان کے کلمات ایک ایک کرکے خود سکھائے اور انہوں نے دہرائے۔ وہ اذان جو انہیں سکھائی گئی، یہ تھی: الله أكبر، الله أكبر؛ أشهد أن لا إله إلا الله (دو مرتبہ) أشهد أن محمدًا رسول الله (دو مرتبہ) پھر اسے دوبارہ دہرایا جائے: أشهد أن لا إله إلا الله (دو مرتبہ) أشهد أن محمدًا رسول الله (دو مرتبہ) حي على الصلاة (دو مرتبہ) حي على الفلاح (دو مرتبہ) الله أكبر (دو مرتبہ) لا إله إلا الله اس کے بعد حضرت ابو محذورہؓ نے درخواست کی کہ انہیں مسجد الحرام، مکہ مکرمہ کا مستقل مؤذن مقرر کیا جائے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کی یہ درخواست قبول فرما لی، اور حضرت ابو محذورہؓ اسی منصب پر فائز رہے، اور شاذ و نادر ہی مکہ سے باہر گئے، یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعے کی روایات متعدد کتبِ حدیث، از جمله صحیح مسلم، میں مذکور ہیں۔ ابو یوسفؒ کا امام مالکؒ سے مناظرہ ترتیب المدارک میں قاضی عیاضؒ نے امام ابو یوسفؒ (جو امام ابو حنیفہؒ کے جلیل القدر شاگرد اور بعد میں عباسی خلافت کے قاضی  القضاۃبنے) اور امام مالکؒ کے درمیان ایک مکالمہ نقل کیا ہے: امام ابو یوسفؒ نے امام مالکؒ سے کہا: “آپ ترجیع کے ساتھ اذان دیتے ہیں، حالانکہ اس بارے میں آپ کے پاس نبی ﷺ سے کوئی حدیث نہیں ہے۔” امام مالکؒ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: “سبحان الله! میں نے اس سے زیادہ عجیب بات کبھی نہیں دیکھی۔ اذان یہاں ہر روز، دن میں پانچ مرتبہ، گواہوں کے سامنے دی جاتی رہی ہے۔ لوگوں نے اسے اپنے باپ دادا سے رسول اللہ ﷺ کے زمانے سے وراثت میں پایا ہے۔ کیا اس کے لیے بھی فلاں نے فلاں سے روایت کیا، جیسی سند درکار ہے؟ ہمارے نزدیک یہ (نسل در نسل منتقل ہونے والا عملی تواتر) روایات سے زیادہ مضبوط ہے۔” قاضی ابو یوسفؒ امام مالکؒ کے اس موقف سے مطمئن ہو گئے۔ (ابن القصار) اصول اگرچہ امام مالکؒ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اذان مختلف طریقوں سے سکھائی، لیکن انہوں نے ابو محذورہؓ کی اذان کو دو وجوہات کی بنا پر ترجیح دی۔ پہلی وجہ یہ کہ نبی کریم ﷺ نے یہی الفاظ اور طریقہ سکھایا، جیسا کہ صحیح مسلم میں مروی ہے۔ دوسری وجہ یہ کہ اس روایت کی تائید عمل سے ہوتی ہے؛ یعنی مدینہ منورہ میں پہلے تین ادوار کے اہلِ علم مسلمانوں کے مسلسل اجتماعی عمل سے۔ امام مالکؒ، ان کے معاصرین، اور ان کے شاگردوں نے مسجد نبوی میں ہزاروں تابعینِ کرام کی موجودگی میں روزانہ پانچ مرتبہ یہی اذان سنی۔ ان ہزاروں تابعین نے یہی اذان صحابۂ کرام سے روزانہ پانچ مرتبہ سنی تھی، اور صحابہ نے اسے نبی کریم ﷺ سے حاصل کیا تھا۔ کیا ان میں سے کوئی بھی اس کے الفاظ یا طریقے میں تبدیلی کر سکتا تھا؟ اگر کوئی ایسا کرتا تو یقیناً اس کی اصلاح کر دی جاتی۔ پس یہ فقہ حدیث اور عمل، دونوں پر مبنی ہے۔ تحریر: طارق پٹنم اور حرا ہاشمینظرِ ثانی: محمد سليمان الغاتيمترجم : محمد طلحہ بن فرید المالکی مالکی فقہ کی آن لائن تعلیم آرک ویو پر حاصل کریں۔ [...]
طہارت، یعنی پاکیزگی، پانی کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ شرعی طہارت کے باب میں پانی اُس ہلکے اور بہنے والے مائع کو کہا جاتا ہے جس میں رنگ، بو، یا ذائقہ نہ ہو۔ پانی کی تین قسمیں ہیں: ۔ طَہُور: پاک اور پاک کرنے والا پانی ۔ طَاہِر: پاک لیکن پاک نہ کرنے والا پانی ۔ نَجِس: ناپاک پانی طَہُور پانی کیا ہے؟ طَہُور وہ پانی ہے جو خود پاک ہو اور دوسروں کو پاک کرنے والا بھی ہو، یعنی وہ صاف ہو اور ہر قسم کی طہارت، جیسے وضو اور غسل، کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ طَہُور ہونے کے لیے پانی کے رنگ، بو، اور ذائقے میں تبدیلی نہیں ہونی چاہیے۔ قدرتی آبی ذخائر طَہُور ہوتے ہیں، اگرچہ ان میں موجود قدرتی چیزوں جیسے معدنیات، مٹی، یا دیگر اشیاء کی وجہ سے پانی میں کچھ تبدیلی آ جائے۔ جھیلیں، دریا، نہریں، سمندر، چشمے، کنویں، نیز بارش کا پانی، پگھلی ہوئی برف، اولے، اور ژالہ باری کا پانی سب طَہُور ہیں۔ وہ پانی بھی طَہُور ہے جو اپنے برتن کی وجہ سے متاثر ہو جائے، جیسے بالٹی، پانی کی بوتل، پائپ، یا نلی وغیرہ۔ اسی طرح نل کا پانی بھی طَہُور ہے، اگرچہ اس میں کچھ مادے شامل کیے گئے ہوں، بشرطیکہ اتنی مقدار شامل نہ کی گئی ہو کہ پانی کا رنگ، ذائقہ، یا بو بدل جائے۔ وہ پانی بھی طَہُور شمار ہوتا ہے جو ایسی چیز سے متاثر ہو جائے جس سے بچنا ممکن نہ ہو۔ مثال کے طور پر ایسا پانی جو باربی کیو کے دھوئیں یا بخور کے بخارات سے متاثر ہو گیا ہو۔ طَاہِر پانی کیا ہے؟ طَاہِر وہ پانی ہے جو پاک تو ہو لیکن پاک کرنے والا نہ ہو، یعنی وہ صاف ہو اور عام استعمالات میں کام آ سکتا ہو، لیکن شرعی طہارت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ طَاہِر پانی وہ ہے جس کے رنگ، بو، یا ذائقے میں کسی پاک چیز کی وجہ سے تبدیلی آ گئی ہو۔ مثال کے طور پر صابن والا پانی یا صفائی کا اسپرے نجاست کو شرعاً پاک نہیں کرتے، اگرچہ وہ اسے دور کر دیتے ہیں۔ نجاست کی شرعی تطہیر کے لیے ضروری ہے کہ طَہُور پانی اُس جگہ پر بہے اور صاف حالت میں بہہ کر نکلے۔ ایک اور مثال سوئمنگ پول کا پانی ہے جس میں کلورین کی بو ہو؛ اسے طہارت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ نَجِس پانی کیا ہے؟ نَجِس پانی وہ ہے جو ناپاک ہو اور کسی بھی استعمال کے قابل نہ ہو، حتیٰ کہ عام استعمالات کے لیے بھی نہیں۔ نَجِس پانی وہ ہے جس کے رنگ، بو، یا ذائقے میں نجاست کی وجہ سے تبدیلی آ گئی ہو۔ ایسے پانی کو فوراً پھینک دینا واجب ہے۔ نجاست کیا ہے؟ نجاست وہ چیز ہے جو شرعاً ناپاک ہو اور جسے فوراً دور کرنا اور نماز کی جگہ، کپڑوں، اور جسم سے ہٹانا واجب ہو، بشرطیکہ انسان قادر ہو اور اسے یاد ہو۔ درج ذیل چیزیں نجس ہیں: ۔ بہنے والا خون۔ ہر وہ چیز جو اگلے یا پچھلے مقام سے خارج ہو* ۔ قے اور معدے کا تیزاب اوپر آنا ۔ پیپ اور زخم سے نکلنے والی ہر رطوبت ۔ مائع نشہ آور اشیاء ۔ ہر مردار چیز** *سوائے اُن جانوروں کے جو کھانے کے لیے حلال ہیں (ان کا فضلہ نجس نہیں ہے) **سوائے سمندری مخلوقات، شرعی طریقے سے ذبح کیے گئے جانور کے گوشت، مردہ انسان، یا ایسے مردہ کیڑوں کے جن میں بہنے والا خون نہیں ہوتا ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ نجاست کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر کوئی شخص نجاست کے حوض میں مکمل طور پر ڈوب بھی جائے تو اس کا وضو نہیں ٹوٹتا۔ البتہ اس پر طہارتُ الخَبَث لازم ہوتی ہے، یعنی نجاست کو پاک پانی سے اس طرح دھونا کہ پانی صاف ہو کر بہہ جائے۔ نماز کے لیے کم از کم مطلوبہ طہارت میں داغ اور بو کے مکمل زائل کرنے کا مکلف نہیں بنایا گیا۔ تحریر: رحمہ اصغر نظرِ ثانی: شادى المصری مترجم محمد طلحہ بن فرید المالکی ماخذ: ابن عاشر کی المرشد المعين، متن العزية مالکی فقہ کا مطالعہ آرک ویو پر کریں۔ [...]
کمر سیدھی کرنا بیٹھنے سے متعلق تین واجبات میں سے پہلا اعتدال ہے، یعنی مکمل طور پر سیدھا بیٹھنا، نہ کہ سجدے سے آدھا اٹھنا۔ سکون اختیار کرنا تین واجبات میں سے دوسرا طمأنینہ ہے، یعنی کم از کم ایک لمحے کے لیے ریڑھ کی ہڈی کو ساکن رکھنا۔ سلام کے لیے بیٹھنا تین واجبات میں سے تیسرا یہ ہے کہ نماز سے نکلتے وقت (السلام علیکم کہتے ہوئے) بیٹھے ہونا ضروری ہے۔ تشہد تشہد پڑھنا سنت مؤکدہ ہے، اور اگر کوئی اسے بھول جائے تو سجدۂ سہو کے ذریعے اس کی تلافی کر سکتا ہے۔ اگرچہ تشہد کے مختلف الفاظ منقول ہیں، تاہم فضیلت یہ ہے کہ اسے درج ذیل الفاظ کے ساتھ پڑھا جائے، جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے منبر سے تعلیم دی: .التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ. الزَّاكِيَاتُ لِلَّهِ. الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ.السَّلَامُ عَلَيْك أَيُّه النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَكَاتُهُ.السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينأَشْهَدُ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ.و َأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ Al-tahiyatu lillah. Al-Zakiyyatu lillah. Al-tayyibatu al-salawatu lillah. Al-salamu ‘alayka ayyuha al-Nabiyyu wa rahmatullahi wa barakatuh. Al-salamu ‘alayna wa ‘ala ‘ibadillah al-salihin. Ashhadu an la ilaha illah Allah wahdahu la sharika lahu, wa ashhadu anna Muhammadan ‘abduhu wa rasuluh. الصلاۃ الإبراهيمية تشہد کے بعد نبی ﷺ پر درود پڑھنا بھی فضیلت ہے۔ امام مالک کے نزدیک اس کا پسندیدہ صیغہ یہ ہے: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلى آلِ مُحَمَّدٍوارْحَمْ مُحَمَّداً وآلَ مُحَمَّدٍ.وبارِكْ عَلى مُحَمَّدٍ وعلى آلِ مُحَمَّدٍكَما صَلَّيْتَ ورَحِمْتَ وبارَكْتَعلى إبراهيمَ وعلى آلِ إبراهيمَفِي العَالَمِين إِنَّكَ حَميدٌ مَجيد Allahumma salli ‘ala Muhammadin wa ‘ala aali Muhammadin, Warham Muhammadan wa aala Muhammadin, Wa barik ‘ala Muhammadin wa ‘ala aali Muhammadin, kama sallayta wa rahimta wa barakta ‘ala Ibrahima wa ‘ala aali Ibrahima. Fi al-alamina, innaka Hamidun Majid. دو سجدوں کے درمیان کیا پڑھا جائے دو سجدوں کے درمیان کوئی فرض یا سنت ذکر مقرر نہیں۔ انسان “رب اغفر لي” کہہ کر مغفرت طلب کر سکتا ہے یا اس جیسی دیگر دعائیں کر سکتا ہے۔ اسی طرح اپنے والدین یا کسی اور کے لیے بھی دعا کی جا سکتی ہے۔ سلام سے پہلے دعا رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنّيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِوَأَعُوذُ بِكَ مِنْ فِتْـنَةِ الْـمَحْيَا وَالْـمَمَاتِوَمِنْ فِتْـنَةِ الْقُبْرِوَمِنْ فِتْـنَةِ الْـمَسِيحِ الدَّجَّالِوَمِنْ عَذَابِ النَّارِوَسُوءِ الْـمَصِيرِ Rabbana atina fi al-dunya hasanatan wa fi al-akhirati hasanatan waqina ‘adhaab al-nari. Wa a‘udhu bika min fitnati al-mahya wa al-mamati. Wa min fitnati al-qabr. Wa min fitnati al-masih al-dajjal. Wa min ‘adhabi al-nari wa su’ al-masir. کیسے بیٹھا جائے یہ فضیلت (مستحب) ہے کہ تورّک کے طریقے پر بیٹھا جائے، جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے، یعنی بائیں کولہے پر بیٹھنا جبکہ بایاں پاؤں دائیں پنڈلی کے نیچے ہو۔ دایاں پاؤں کھڑا ہو اور انگلیاں مڑی ہوئی ہوں۔ پہلی اور دوسری تشہد میں اس طرح بیٹھنا مستحب ہے، لیکن دو سجدوں کے درمیان نہیں۔ انگلی کو کیسے اور کب حرکت دی جائے اپنی انگلی کو تصویر کے مطابق رکھیں اور اسے پورے وقت طواف کی سمت میں آگے پیچھے یا دائرے کی شکل میں حرکت دیتے رہیں۔ شہادت پڑھتے وقت بھی اسے حرکت دینا بند نہ کریں۔ بیٹھنے کا ناپسندیدہ طریقہ ایڑیوں پر بیٹھنا کسی بھی وقت مکروہ ہے، جیسا کہ اس طرح: تحریر: رحمہ اصغرمراجعہ: شادي المصريمترجم : محمد طلحہ بن فرید المالکیمآخذ: العشماویہ، اخضری، ابن عاشر، اور العزیہ۔ مزید مالکی فقہ پڑھیں: Arkview.orgاردو میں دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ہمارے ٹیلیگرام سے جڑیں۔ [...]
زکوٰۃ الفطر، جسے اسلامی فقہی اصطلاح میں “صدقۃ الفطر”، “زکوٰۃ الابدان” (بدن کی زکوٰۃ) یا “زکوٰۃ النفوس” (جان کی زکوٰۃ) بھی کہا جاتا ہے، دینِ اسلام کا ایک اہم مالی و بدنی فریضہ ہے جو رمضان المبارک کے روزوں کے اختتام اور عید الفطر کے موقع پر ادا کیا جاتا ہے ۔ فقہِ مالکی، جو امام دار ہجرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ کی آراء اور مدینہ منورہ کے عمل پر مبنی ہے، اس فریضے کو محض ایک مالی صدقہ نہیں بلکہ ایک عظیم الشان روحانی عمل قرار دیتی ہے جو روزے دار کے روزوں کی تطہیر اور معاشرے کے مفلس طبقات کی اعانت کا ذریعہ بنتا ہے ۔ مالکی فقہاء کے نزدیک یہ زکوٰۃ براہِ راست انسانی جسم اور اس کی بقا سے وابستہ ہے، اسی لیے اس کا تعلق نصابِ مال سے نہیں بلکہ انسانی جان کی موجودگی اور اس کی استطاعت سے ہے ۔ اس مراسلہ میں مالکی مذہب کے مستند مآخذ کی روشنی میں زکوٰۃ الفطر کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے، جس میں اس کی شرعی حیثیت، ادائیگی کا وقت، اجناس کی مقدار، زیرِ کفالت افراد کے مسائل اور عصری تقاضوں کے مطابق قیمت کی ادائیگی جیسے اہم موضوعات شامل ہیں ۔ زکوٰۃ الفطر کی شرعی حیثیت اور وجوب کے دلائل فقہِ مالکی کے مشہور اور معتمد قول کے مطابق زکوٰۃ الفطر ایک “واجب” فریضہ ہے ۔ امام مالک کے متبعین اور مالکی فقہ کے محققین نے اس کے وجوب پر قرآن، سنت اور اجماع سے استدلال کیا ہے۔ قرآنِ کریم کی سورۃ الاعلیٰ کی آیت “قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى” (بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے پاکیزگی حاصل کی) کی تفسیر میں جلیل القدر تابعی عکرمہ بن عبداللہ اور دیگر مفسرین نے اسے صدقہ فطر سے تعبیر کیا ہے، کیونکہ اس آیت کے فوراً بعد ذکرِ الٰہی اور نماز (عید) کا ذکر ہے ۔ سنتِ نبوی میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت مالکی فقہ میں بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جس میں صراحت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر مسلمان، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، چھوٹا ہو یا بڑا، اس پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو بطور صدقہ فطر “فرض” کیا ہے ۔ مالکی فقہاء کے نزدیک لفظ “فرض” یہاں وجوب کے معنی میں ہے، اور اگرچہ بعض قدیم مالکی آراء میں اسے “سنتِ مؤکدہ” بھی کہا گیا ہے، لیکن مالکی مذہب کا فتویٰ اور مشہور قول وجوب ہی پر قائم ہے ۔ وجوب کی اس دلیل کو تقویت دینے کے لیے امام ابن المنذر اور امام بیہقی جیسے ائمہ کے اقوال نقل کیے جاتے ہیں جنہوں نے اس فریضے پر امتِ مسلمہ کے اجماع کا ذکر کیا ہے ۔ مالکی فقہ میں اس وجوب کی نوعیت ایسی ہے کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر اسے ترک کرے تو وہ گناہ گار ہے، اور اگر اس کی مشروعیت کا انکار کرے تو وہ دین کی ایک اہم ضرورت کا منکر قرار پاتا ہے، تاہم سنت والے مرجوح قول کی وجہ سے وجوب کے منکر پر کفر کا حکم نہیں لگایا جاتا ۔ وجوب کی شرائط اور استطاعت کا معیار مالکی فقہ میں زکوٰۃ الفطر کے وجوب کے لیے چند بنیادی شرائط کا پایا جانا ضروری ہے، جو اسے زکوٰۃ الاموال سے ممتاز کرتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم شرط اسلام اور حریت (آزاد ہونا) ہے ۔ چونکہ یہ ایک بدنی عبادت اور تطہیر کا ذریعہ ہے، اس لیے یہ صرف مسلمانوں پر واجب ہے اور کسی غیر مسلم کی طرف سے اس کی ادائیگی کا مطالبہ نہیں کیا جاتا ۔ اسی طرح، آزاد ہونا بھی ایک بنیادی شرط ہے، کیونکہ غلام اپنی ذات کا مالک نہیں ہوتا اور اس کی ذمہ داری اس کے مالک پر عائد ہوتی ہے ۔ مالکی فقہاء کے نزدیک استطاعت کا معیار زکوٰۃِ مال کے نصاب سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں استطاعت سے مراد یہ ہے کہ ایک مسلمان کے پاس عید کے دن اور رات کے لیے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی بنیادی ضروریات (خورد و نوش، لباس اور مکان) سے زائد ایک صاع غلہ موجود ہو ۔ اگر کسی شخص کے پاس اتنی مقدار موجود ہے، تو وہ صاحبِ استطاعت شمار ہوگا اور اس پر اپنی اور اپنے زیرِ کفالت افراد کی طرف سے فطرانہ دینا لازم ہوگا ۔ مالکی فقہ کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اگر کسی شخص کے پاس عید کے دن نقد رقم یا غلہ موجود نہیں، لیکن اسے امید ہے کہ وہ بعد میں کما لے گا یا قرض واپس کر سکے گا، تو اسے قرض لے کر بھی یہ فریضہ ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے تاکہ وہ اجرِ عظیم سے محروم نہ رہے ۔ شرائطِ وجوبمالکی فقہی تفصیلاسلامادائیگی کرنے والے کا مسلمان ہونا لازمی ہے ۔حریتصرف آزاد مسلمان پر واجب ہے، غلام کی طرف سے مالک ادا کرے گا ۔استطاعتعید کے دن اور رات کی ضرورت سے زائد ایک صاع کی موجودگی ۔وقت کی گنجائشوجوب کے وقت (غروبِ آفتاب یا فجر) زندہ ہونا ضروری ہے ۔ ادائیگی کا وقت: وجوب، جواز اور فضیلت زکوٰۃ الفطر کی ادائیگی کے حوالے سے مالکی فقہ میں وقت کی تقسیم نہایت باریک بینی سے کی گئی ہے۔ اس میں تین اہم اوقات کا تذکرہ ملتا ہے: وقتِ وجوب، وقتِ فضیلت اور وقتِ جواز ۔ وقتِ وجوب (Obligation Time) مالکی مذہب میں مشہور قول یہ ہے کہ زکوٰۃ الفطر رمضان المبارک کے آخری دن سورج غروب ہوتے ہی واجب ہو جاتی ہے ۔ یہ وہ لمحہ ہے جب روزہ دار رمضان کی عبادت مکمل کر کے افطار کی حالت میں داخل ہوتا ہے، اسی لیے اسے “فطر” (روزہ کھولنے) کی زکوٰۃ کہا جاتا ہے ۔ ایک دوسرا قول، جو امام مالک سے ہی مروی ہے، یہ ہے کہ اس کا وجوب عید الفطر کے دن فجر طلوع ہونے پر ہوتا ہے ۔ ان دونوں اقوال کے درمیان عملی فرق ان بچوں کے معاملے میں ظاہر ہوتا ہے جو عید کی رات پیدا ہوں؛ اگر وجوب غروبِ آفتاب پر مانا جائے تو بعد میں پیدا ہونے والے بچے پر زکوٰۃ واجب نہیں، لیکن اگر فجر پر مانا جائے تو واجب ہوگی ۔ وقتِ فضیلت اور جواز (Preferred and Permissible Times) مالکی فقہاء کے نزدیک ادائیگی کا سب سے “افضل وقت” عید کے دن نمازِ عید کے لیے نکلنے سے پہلے، طلوعِ فجر کے بعد کا وقت ہے ۔ اس کی حکمت یہ ہے کہ عید کی خوشیوں کے آغاز پر ہی فقراء تک ان کا حصہ پہنچ جائے ۔ تاہم، انتظامی سہولت اور مستحقین کی تلاش کے پیشِ نظر، مالکی مذہب میں عید سے ایک یا دو دن پہلے (اور بعض روایات میں تین دن پہلے) بھی ادائیگی کی اجازت دی گئی ہے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل اس پر شاہد ہے کہ وہ عید سے دو تین دن پہلے ہی وصول کنندگان کو صدقہ بھیج دیا کرتے تھے ۔ اگر کوئی شخص بلا عذر نمازِ عید کے بعد تک تاخیر کرتا ہے، تو مالکی فقہ میں اسے مکروہ اور گناہ قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس سے اس فریضے کا بنیادی مقصد (فقراء کو اس دن سوال سے بے نیاز کرنا) فوت ہو جاتا ہے ۔ لیکن اگر تاخیر ہو جائے، تب بھی یہ فریضہ ذمہ سے ساقط نہیں ہوتا، بلکہ اسے قضا کے طور پر ادا کرنا واجب رہتا ہے ۔ مقدار اور پیمائش کے مسائل: صاع اور مد کی تحقیق مقدار کے لحاظ سے تمام مالکی فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر فرد کی طرف سے “ایک صاع” غلہ دینا ضروری ہے ۔ صاع کی پیمائش میں مالکی مذہب “صاعِ مدینہ” کو معیار مانتا ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ کے پیمانے ہی کو برکت اور شرعی احکام کے لیے منتخب فرمایا تھا ۔ صاع کی تعریف یہ ہے کہ یہ “چار مد” کے برابر ہوتا ہے ۔ ایک مد سے مراد ایک اوسط قامت والے انسان کے دونوں ہاتھوں کی بھرپور چلو (حفنہ) ہے، جس میں ہاتھ نہ تو بہت زیادہ کھلے ہوں اور نہ ہی سختی سے بند ہوں ۔ چونکہ مختلف اجناس کا وزن ان کی کثافت (Density) کے لحاظ سے مختلف ہوتا ہے، اس لیے اسے کلوگرام میں تبدیل کرتے وقت مالکی فقہاء نے احتیاط کے پہلو کو مدِنظر رکھا ہے ۔ جنسحالتوزن (تقریباً کلوگرام)گندم (سالم)غلہ2.50 کلوگرامگندم (آٹا)پسائی شدہ2.25 کلوگرامجو (سالم)غلہ1.75 کلوگرامجو (آٹا)پسائی شدہ1.50 کلوگرامچاولسالم2.67 کلوگرامکھجورخشک1.80 کلوگرام عصری تناظر میں، اگر کوئی شخص احتیاطاً  تین کلوگرام گندم یا چاول فی کس نکالتا ہے، تو وہ مالکی فقہ کے مطابق یقیناً بری الذمہ ہو جاتا ہے ۔ مالکی فقہاء نے یہ بھی صراحت کی ہے کہ اگر غلہ دستیاب نہ ہو اور کوئی پکی ہوئی روٹی دینا چاہے، تو اس کی مقدار اس طرح متعین کی جائے گی کہ اس میں استعمال ہونے والا آٹا صاع کی مقدار کے برابر ہو ۔ اجناس کا انتخاب اور “غالب قوتِ بلد” کا تصور مالکی فقہ میں زکوٰۃ الفطر کی جنس کے انتخاب کے لیے ایک جامع اصول مقرر کیا گیا ہے جسے “غالب قوتِ بلد”(علاقے کی عمومی خوراک) کہا جاتا ہے ۔ حدیثِ مبارکہ میں جن نو اشیاء کا تذکرہ ملتا ہے—گندم، جو، سلْت (ایک قسم کا جو)، کھجور، کشمش، پنیر (اقط)، مکئی، باجرہ اور چاول—انہی کو مالکی فقہاء نے بنیادی فہرست قرار دیا ہے ۔ مالکی موقف کی انفرادیت یہ ہے کہ اگر کسی علاقے میں ان نو اصناف کے علاوہ کوئی اور چیز بطور بنیادی خوراک استعمال ہوتی ہو، تو وہاں اسی سے فطرانہ ادا کرنا جائز بلکہ بہتر ہے ۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ غریب کو وہ چیز ملے جو وہ روزمرہ زندگی میں کھانے کے لیے استعمال کرتا ہے، نہ کہ وہ چیز جو اس کے لیے اجنبی یا غیر ضروری ہو ۔ اگر کوئی شخص اعلیٰ درجے کی جنس (مثلاً گندم) چھوڑ کر ادنیٰ درجے کی جنس (مثلاً جو) سے فطرانہ دینا چاہے جبکہ اس علاقے کی عمومی خوراک گندم ہو، تو مالکی فقہاء کے نزدیک یہ ناپسندیدہ ہے اور بعض صورتوں میں اسے ناکافی بھی سمجھا جا سکتا ہے اگر وہ عام معیار سے بہت نیچے ہو ۔ زیرِ کفالت افراد کی ذمہ داری اور مالکی فقہ کا “نفقہ” ماڈل مالکی فقہ میں زکوٰۃ الفطر کی ادائیگی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایک مسلمان صرف اپنی طرف سے ہی نہیں، بلکہ ان تمام مسلمانوں کی طرف سے بھی ادائیگی کا پابند ہے جن کا نفقہ (خرچہ) اس کے ذمہ واجب ہے ۔ یہ ذمہ داری رشتہ داری، ازدواجیت اور ملکیت کے تعلق پر مبنی ہے ۔ اولاد اور والدین کی طرف سے ادائیگی والد پر واجب ہے کہ وہ اپنے چھوٹے بچوں کی طرف سے فطرانہ ادا کرے جن کا اپنا کوئی مال نہیں ہے ۔ لڑکوں کے معاملے میں یہ ذمہ داری بلوغت اور ان کے کمانے کے قابل ہونے تک رہتی ہے، جبکہ لڑکیوں کے معاملے میں یہ ذمہ داری اس وقت تک برقرار رہتی ہے جب تک ان کی شادی نہ ہو جائے اور وہ اپنے شوہر کے گھر منتقل نہ ہو جائیں ۔ اگر بچوں کا اپنا مال ہو، تو بعض مالکی محققین کے نزدیک ان کے مال سے بھی نکالا جا سکتا ہے، لیکن باپ کا اپنی طرف سے نکالنا افضل ہے ۔ اسی طرح، اگر کسی شخص کے والدین غریب اور اس کے زیرِ کفالت ہوں، تو ان کی طرف سے فطرانہ نکالنا اس پر واجب ہے ۔ بیوی کا فطرانہ اور ازدواجی تعلق مالکی فقہ کے مطابق شوہر پر اپنی بیوی کا صدقہ فطر ادا کرنا واجب ہے، خواہ بیوی مالدار ہی کیوں نہ ہو ۔ یہ اس لیے ہے کہ صدقہ فطر “نفقہ” (کھانے پینے کے خرچے) کے تابع ہے، اور چونکہ بیوی کا نفقہ شوہر پر لازم ہے، اس لیے اس کا فطرانہ بھی اسی کے ذمہ ہے ۔ اگر بیوی “ناشزہ” (نافرمان اور شوہر کا گھر چھوڑ کر جانے والی) ہو اور اس کا نفقہ ساقط ہو چکا ہو، تو مالکی فقہ میں اس کا فطرانہ بھی شوہر کے ذمہ سے ساقط ہو جاتا ہے ۔ طلاقِ رجعی کی صورت میں، جب تک عدت باقی ہے، شوہر پر ادائیگی لازم ہے ۔ جنین (ناپیدا بچہ) کا حکم مالکی مذہب میں حاملہ خاتون کے پیٹ میں موجود بچے (جنین) کی طرف سے زکوٰۃ الفطر کی ادائیگی “واجب” نہیں ہے ۔ تاہم، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عمل کی پیروی کرتے ہوئے اسے “مستحب” (پسندیدہ) قرار دیا گیا ہے ۔ اگر بچہ عید کی رات سورج غروب ہونے سے پہلے پیدا ہو جائے (مشہور قول کے مطابق)، تو اس کی ادائیگی واجب ہو جاتی ہے ۔ قیمت (نقدی) کی ادائیگی: قدیم موقف اور جدید مالکی فتاویٰ مالکی فقہ کے کلاسیکی اور “مشہور” موقف کے مطابق زکوٰۃ الفطر کو غلے (جنس) کی صورت میں ہی نکالنا ضروری ہے، اور قیمت یا نقدی (Cash) کی صورت میں ادائیگی “غیر مجزی” (نا کافی) سمجھی جاتی ہے ۔ امام مالک سے مروی ہے کہ انہوں نے قیمت کی ادائیگی کو ناپسند فرمایا کیونکہ یہ سنتِ نبوی کے ظاہری الفاظ کے خلاف ہے ۔ تاہم، موجودہ دور میں مالکی اکثریت والے ممالک کے سرکاری اداروں اور مفتیانِ کرام نے فقہِ حنفی اور مقاصدِ شریعہ کی روشنی میں نقدی کی ادائیگی کے جواز کا فتویٰ دیا ہے ۔ مراکش (Morocco): وہاں کی اعلیٰ علمی کونسل (المجلس العلمی الاعلیٰ) نے فتویٰ جاری کیا ہے کہ آج کے دور میں غریب کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے نقدی زیادہ “افضل” اور “انفع” (زیادہ فائدہ مند) ہے، کیونکہ غریب اس رقم سے اپنی مرضی کی چیزیں خرید سکتا ہے ۔ الجزائر اور تونس: ان ممالک میں بھی ہر سال حکومت کی طرف سے ایک مخصوص رقم (مثلاً مراکش میں 13 درہم یا مصر میں 35 پاؤنڈ) بطور کم از کم مقدار مقرر کی جاتی ہے تاکہ عوام کے لیے ادائیگی میں آسانی ہو ۔ یہ تبدیلی اس فکری بنیاد پر ہے کہ صدقہ فطر کا اصل مقصد “اغناء” (غریب کو بے نیاز کرنا) ہے، اور موجودہ معاشی نظام میں غلہ ذخیرہ کرنے کے بجائے رقم غریب کے لیے زیادہ کارآمد ثابت ہوتی ہے ۔ مستحقین اور تقسیم کے مالکی اصول زکوٰۃ الفطر کے مستحقین کے حوالے سے مالکی فقہ کا موقف نہایت واضح ہے: یہ صرف “مسلم فقراء اور مساکین” کے لیے ہے ۔ اگرچہ زکوٰۃِ مال کے آٹھ مصارف ہیں، لیکن مالکی فقہاء نے فطرانہ کو صرف ان دو بنیادی طبقات تک محدود رکھا ہے تاکہ عید کے دن کوئی بھوکا نہ رہے ۔ مستحقین کی تفصیلمالکی فقہی احکامفقراء و مساکینبنیادی اور اولین مستحق، جنہیں عید کے دن کھانے کی ضرورت ہو ۔غیر مسلم (ذمی)مالکی فقہ میں غیر مسلم کو صدقہ فطر دینا جائز نہیں ہے ۔بنو ہاشمساداتِ کرام (آلِ بیت) کو زکوٰۃ اور صدقہ فطر دینا جائز نہیں ۔قریبی رشتہ داروہ رشتہ دار جن کا نفقہ واجب نہیں (مثلاً بھائی، چچا)، انہیں دینا افضل ہے ۔ تقسیم کے عمل میں مالکی فقہ اس بات کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کہ انسان خود اپنے ہاتھوں سے مستحق تلاش کر کے اسے دے، یا کسی قابلِ اعتماد ادارے یا امام کو وکیل بنائے ۔ ایک غریب کو کئی لوگوں کا فطرانہ دینا یا ایک شخص کا فطرانہ کئی غریبوں میں بانٹنا، دونوں صورتیں مالکی فقہ میں جائز ہیں ۔ نقلِ زکوٰۃ: جغرافیائی حدود اور منتقلی کا حکم مالکی فقہ میں “نقلِ زکوٰۃ” (زکوٰۃ کو ایک شہر سے دوسرے شہر بھیجنا) کے حوالے سے عمومی قاعدہ یہ ہے کہ زکوٰۃ اسی جگہ تقسیم کی جائے جہاں ادا کرنے والا خود موجود ہے ۔ یہ اصول “حقِ جوار” (پڑوس کے حق) پر مبنی ہے، تاکہ ہر بستی کے غریب اپنے ہی علاقے کے لوگوں کی سخاوت سے مستفید ہوں ۔ مالکی فقہاء نے منتقلی کے لیے “مسافتِ قصر” (تقریباً 80 کلومیٹر) کی حد مقرر کی ہے ۔ بلا ضرورت اس حد سے باہر زکوٰۃ بھیجنا مکروہ ہے، لیکن اگر دوسرے علاقے میں زیادہ ضرورت مند لوگ ہوں، یا وہاں قحط زدہ اور جنگ زدہ مسلمان ہوں، یا وہاں قریبی رشتہ دار رہتے ہوں، تو ایسی صورت میں منتقلی نہ صرف جائز بلکہ مستحسن ہو جاتی ہے ۔ مسافر کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ جہاں عید کی رات گزارے، وہیں اپنا فطرانہ ادا کرے، جبکہ اس کے اہل و عیال کی طرف سے فطرانہ ان کے اپنے شہر میں ادا کیا جائے گا ۔ خلاصہ اور فقہی بصیرت زکوٰۃ الفطر مالکی فقہ کی روشنی میں ایک ایسی جامع عبادت ہے جو انفرادی پاکیزگی اور اجتماعی فلاح و بہبود کا حسین سنگم ہے ۔ امام مالک کی تعلیمات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ دین کے احکام پر عمل پیرا ہوتے ہوئے انسانی ضرورت اور سماجی وقار کو اولیت دی جائے ۔ مالکی فقہ کا “صاعِ مدینہ” سے لگاؤ سنتِ نبوی سے محبت کی علامت ہے، جبکہ “غالب قوتِ بلد” کا اصول بدلتے ہوئے جغرافیائی اور معاشی حالات میں دین کی لچک کو ظاہر کرتا ہے ۔ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ عید کی خوشیوں میں اپنے ارد گرد کے مفلسوں کو شامل کرے، وقتِ مقررہ پر اپنا اور اپنے زیرِ کفالت افراد کا حصہ نکالے، اور اس مالی فریضے کو اللہ کی دی ہوئی توفیق پر شکرانے کے طور پر ادا کرے ۔ اگرچہ قدیم مالکی موقف غلے کی ادائیگی پر زور دیتا ہے، لیکن عصری اجتہاد نے نقدی کی صورت میں جو سہولت پیدا کی ہے، وہ بھی شریعت کے مقاصد اور فقراء کی مصلحت کے عین مطابق ہے، بشرطیکہ اسے خلوصِ نیت اور شرعی حدود کے اندر رہتے ہوئے سرانجام دیا جائے ۔ 📄 احکامِ زکوٰۃ الفطر مالکی مذہب کے مطابق زکوٰۃ الفطر کے احکام پر مبنی اس مفصل مراسلہ کو پی ڈی ایف کی صورت میں ڈاؤنلوڈ کریں۔ ڈاؤنلوڈ کریں [...]
”نبی اکرم ﷺ ہمیں تمام معاملات میں استخارہ کرنے کا طریقہ اسی طرح سکھاتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی سورتیں سکھاتے تھے“ (بخاری)۔ نمازِ استخارہ، جس کا لغوی معنی بہترین انتخاب کی طلب کے لیے دعا ہے، فیصلہ سازی کا ایک بنیادی ستون ہے جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے سکھایا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ سے یہ واضح کرنے کی درخواست کی جاتی ہے کہ آیا ہم نے درست انتخاب کیا ہے یا نہیں، اور یہ ایک مخصوص نماز اور دعا کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ امام دردیؒر نے استخارہ کو ان ”خزانوں“ میں سے ایک قرار دیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کے ذریعے ظاہر فرمائے، اور اس بات پر زور دیا کہ ”کوئی بھی عقلمند شخص جو کسی معاملے کا ارادہ رکھتا ہو، اسے اس (استخارہ) کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔“ اس کی اہمیت خلیل ابن اسحاق المالکیؒ کے اس قول سے مزید اجاگر ہوتی ہے جنہوں نے اپنی مشہور کتاب ’مختصر‘ کے مقدمے میں نوٹ کیا: ”میں نے استخارہ کرنے کے بعد ان کی درخواست کا جواب دیا،“ جو کہ اس بابرکت عمل پر بڑے علماء کے بھروسے کو ظاہر کرتا ہے۔ تعریف لغوی اعتبار سے، استخارہ خیر طلب کرنے یا بہترین انتخاب چاہنے سے مشتق ہے۔ فقہ میں، صلاۃ الاستخارہ سے مراد ایک مخصوص عبادت ہے: دو رکعت نفل نماز جس کے بعد ایک خاص دعا مانگی جاتی ہے، تاکہ کسی مخصوص، جائز معاملے کے بارے میں اللہ کی رہنمائی حاصل کی جا سکے۔ نبی اکرم ﷺ نے ”تمام معاملات میں“ اسے سکھا کر اس کی اہمیت پر زور دیا۔ صحابی حضرت جابرؓ نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ استخارہ اسی طرح سکھاتے تھے جیسے وہ قرآن کی کوئی سورت سکھاتے تھے، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسے کتنی باریک بینی اور اہتمام کے ساتھ سیکھنا اور ادا کرنا چاہیے۔ شرعی حکم مالکی مذہب میں، جیسا کہ دیگر مذاہب میں ہے، نمازِ استخارہ ادا کرنا ایک مستحب یا پسندیدہ سنت قرار دیا گیا ہے۔ یہ فرض نہیں ہے۔ اس کی مشروعیت براہ راست صحیح بخاری میں موجود واضح ہدایات سے ماخوذ ہے جیسا کہ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے۔ امام دردیؒر فرماتے ہیں کہ چونکہ یہ ایک نبوی ”خزانہ“ ہے جس کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے، لہٰذا جب انسان حقیقی غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہا ہو تو کسی جائز وجہ کے بغیر اسے چھوڑ دینا اللہ کی رحمت اور وضاحت حاصل کرنے کا موقع ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ یہ کس لیے کی جاتی ہے؟ استخارہ ان حالات کے لیے مشروع ہے جن میں جائز معاملات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ہو، جیسے ابتدائی تحقیقات اور ضروری چھان بین مکمل ہونے کے بعد شریک حیات کا انتخاب۔ استخارہ ان انتخابات میں رہنمائی کے لیے ایک ذریعہ ہے جہاں متعدد قابل قبول آپشنز موجود ہوں یا جہاں کسی جائز عمل کے نتائج واضح نہ ہوں (مثال کے طور پر نوکری کی پیشکشوں، تعلیمی راستوں، بڑی جائز خریداریوں، سفر کے منصوبوں، یا کاروباری منصوبوں کے درمیان فیصلہ کرنا)۔ یہ اس سوال پر بھی لاگو ہوتا ہے کہ وہ کام جو پہلے سے ہی اچھے معلوم ہوں، انہیں کب یا کیسے انجام دیا جائے۔ یہ کب نہیں کرنا چاہیے • فرائض • حرام کام • مکروہ اعمال • وہ معاملات جو پہلے ہی واضح یا طے شدہ ہوں: اگر تحقیق، مشورہ، اور غور و فکر کسی حتمی فیصلے تک پہنچا چکے ہوں، تو عام طور پر استخارہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ استخارہ کا مقصد حقیقی شک کو دور کرنا ہے۔ اسے کیسے ادا کریں وضو کریں۔ دل میں دو رکعت نماز ادا کرنے اور رہنمائی طلب کرنے کی واضح نیت کریں۔ سورہ فاتحہ کے بعد کافرون اور اخلاص پڑھنا افضل ہے (لیکن ضروری نہیں)۔ نماز کے بعد، بیٹھے رہیں، دعا کے لیے ہاتھ اٹھائیں، تین بار استغفار کریں، نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجیں، پھر استخارہ کی دعا پڑھیں: آڈیو عربی دعا اللَّهُمَّ إنِّي أَسْتَخِيرُكَ بِعِلْمِكَ وَأَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ وَأَسْأَلُكَ مِنْ فَضْلِكَ الْعَظِيمِ فَإِنَّكَ تَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ وَتَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ وَأَنْتَ عَلَّامُ الْغُيُوبِ اللَّهُمَّ إنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ (وَيُسَمِّيهِ) خَيْرٌ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ فَيَسِّرْهُ لِي، ثُمَّ بَارِكْ لِي فِيهِ وَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ هَذَا الْأَمْرَ شَرٌّ لِي فِي دِينِي وَمَعَاشِي وَعَاقِبَةِ أَمْرِي عَاجِلِهِ وَآجِلِهِ فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ حَيْثُ كَانَ، ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ نقل حرفی (Transliteration) Allahumma inni astakhiruka bi ‘ilmika wa astaqdiruka bi qudratika wa as’aluka min fadlika al-‘azim fa’innaka ta‘lam wa la a‘lamu wa taqdir wa la aqdir wa anta ‘allamu al-ghuyub. Allahumma in kunta ta‘lam anna hadha al-amra khayrun li fi dini wa ma‘ashi wa ‘aqibati amri, ‘aajilihi wa ajilihi faqdurhu li wa yassirhu li, thumma barik li fihi. Wa in kunta ta‘lam anna hadha al-amra sharrun li fi dini wa ma‘ashi wa ‘aqibata amri, wa ‘aajiliji wa ajilihi fasrifhu anni wasrifni anhu waqdur liya al-khayra haythu kana thumma raddini bih. ترجمہ اے اللہ، بے شک میں تیرے علم کے واسطے سے تجھ سے خیر مانگتا ہوں۔ اور تیری قدرت کے واسطے سے تجھ سے طاقت مانگتا ہوں۔ اور میں تیرے عظیم فضل کا سوال کرتا ہوں۔ کیونکہ بے شک تو قدرت رکھتا ہے، اور میں قدرت نہیں رکھتا۔ تو جانتا ہے، اور میں نہیں جانتا، کیونکہ تو غیب کا جاننے والا ہے۔ اے اللہ، اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے میرے دین، میری معاش، اور میرے انجام کار، میری دنیا اور آخرت میں بہتر ہے، تو اسے میرے لیے مقدر کر دے، اسے میرے لیے آسان کر دے، اور پھر میرے لیے اس میں برکت عطا فرما۔ اور اگر تیرے علم میں یہ کام میرے لیے میرے دین، میری معاش، اور میرے انجام کار، دنیا اور آخرت میں برا ہے، تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے۔ اور میرے لیے بھلائی مقدر کر دے جہاں کہیں بھی وہ ہو، اور مجھے اس پر راضی کر دے۔ کلیدی جملوں کا مفہوم اللہ کا کامل علم (بِعِلْمِكَ) اس کی مطلق قدرت (أَسْتَقْدِرُكَ بِقُدْرَتِكَ) ہماری حدود (فَإِنَّكَ تَقْدِرُ وَلَا أَقْدِرُ، وَتَعْلَمُ وَلَا أَعْلَمُ) تقدیر الٰہی کی طلب (فَاقْدُرْهُ لِي) آسانی کی طلب (يَسِّرْهُ لِي) برکت کی طلب (بَارِكْ لِي فِيهِ) نقصان سے پھر جانے کی طلب (فَاصْرِفْهُ عَنِّي وَاصْرِفْنِي عَنْهُ) بھلائی کی طلب (وَاقْدُرْ لِي الْخَيْرَ) اطمینان کی طلب (ثُمَّ رَضِّنِي بِهِ) کیا مجھے اپنی حاجت کا ذکر کرنا ضروری ہے؟ ”ہذا الامر“ (یہ کام) پڑھتے وقت، انسان کو چاہیے کہ یا تو مخصوص مسئلے کو واضح طور پر ذہن میں رکھے یا زبان سے اس کا ذکر کرے (دُسوقی)۔ تعبیر اور عمل یہ پہچاننا کہ نماز استخارہ کے بعد رہنمائی کس طرح ملتی ہے، اکثر خوابوں یا مافوق الفطرت نشانیوں کے بجائے لطیف اور عملی ہوتی ہے۔ انسان کو بنیادی طور پر دو اشاروں پر توجہ دینی چاہیے: اندرونی رجحان یا نفرت کا احساس: ایک اہم نشانی شرح صدر ہے – یعنی دل میں اس کام کو کرنے (یا چھوڑنے) کی طرف آسانی، راحت، اور جھکاؤ کا احساس۔ یہ وہ بنیادی اشارہ ہے جس کا ذکر دُسوقی جیسے شارحین نے کیا ہے۔ اس کے برعکس، مستقل نفرت، سینے میں گھٹن، اس امکان کے بارے میں ناخوشی، یا یہ احساس کہ انسان اپنے آپ کو اپنے رجحان کے خلاف مجبور کر رہا ہے، اس راستے سے دور ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے (دُسوقی)۔ واقعات میں آسانی یا رکاوٹ: مشاہدہ کریں کہ استخارہ کرنے کے بعد حقیقی دنیا میں معاملات کیسے کھلتے ہیں۔ کیا کام مکمل کرنے کا راستہ نمایاں طور پر آسان ہو گیا ہے؟ کیا رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں یا ان پر آسانی سے قابو پا لیا گیا ہے؟ یہ آسانی ایک مضبوط مثبت اشارہ ہے۔ اس کے برعکس، اگر کسی کو ہر موڑ پر مستقل، نمایاں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اور معقول کوشش کے باوجود چیزیں مسلسل رکتی یا پیچیدہ ہوتی رہتی ہیں، تو یہ تجویز کرتا ہے کہ اللہ آپ کو اس سے پھیر رہا ہے۔ تکرار ابن السنی کہتے ہیں کہ اگر حقیقی غیر یقینی صورتحال برقرار رہے، تو استخارہ کو دہرانا جائز ہے (کچھ سات بار تک تجویز کرتے ہیں)، اور اس کی نیت کو دیگر نوافل کے ساتھ ملایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر، مغرب کے بعد کی دو رکعتوں کی نیت کو استخارہ کے ساتھ ملانا۔ مشورہ (استشارہ) استشارہ یہ ہے کہ ان لوگوں سے مشورہ کیا جائے جو زیر غور معاملے کے بارے میں سب سے زیادہ جانتے ہیں۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا، ”کوئی شخص ناکام نہیں ہوتا جب وہ استخارہ کرتا ہے، اور نہ ہی کوئی شرمندہ ہوتا ہے جب وہ استشارہ (مشورہ) کرتا ہے، اور نہ ہی کوئی محتاج ہوتا ہے جب وہ کفایت شعاری اختیار کرتا ہے“ (طبرانی)۔ درحقیقت، نفرِاوی فرماتے ہیں کہ مشورہ استخارہ پر مقدم ہے۔ بھروسے اور عمل کے ساتھ آگے بڑھنا استخارہ کا مقصد غیر فعالیت (سستی) پیدا کرنا نہیں ہے۔ خلوصِ دل سے نماز اور دعا ادا کرنے کے بعد، انسان کو اس عمل کی طرف بڑھنا چاہیے جس کی طرف دل کا جھکاؤ ہو، اور ساتھ ہی مشاہدہ کی گئی بیرونی آسانی یا رکاوٹ کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ دُسوقی خواب یا معجزاتی نشانی کے لیے غیر معینہ مدت تک انتظار کرنے سے منع کرتے ہیں۔ دستیاب نشانیوں، استدلال اور مشاورت کی بنیاد پر فیصلہ کریں، اور پھر اللہ پر بھروسہ رکھیں، اور اس کی تقدیر کو قبول کریں۔ بھروسے کے ساتھ عمل کلید ہے۔ اللہ فرماتا ہے، ”اور اللہ پر بھروسہ رکھو؛ اور اللہ ہی کارساز کافی ہے“ (33:3 احزاب)۔ کیا یہ کوئی اور کر سکتا ہے؟ دردیؒر فرماتے ہیں کہ آپ اسے کسی اور کے حوالے نہیں کر سکتے کہ آپ خود نہ کریں۔ ساتھ ہی، نفرِاوی نوٹ کرتے ہیں کہ استخارہ بنیادی طور پر ایک دعا ہے اور دوسرے لوگ بھی کر سکتے ہیں۔ لہٰذا، یہ صرف اسی صورت میں کوئی اور آپ کے لیے کر سکتا ہے جب آپ بھی اسے کریں۔ استخارہ کیا نہیں ہے یہ ضروری چھان بین (due diligence) کا متبادل نہیں ہے۔ یہ خوابوں یا نشانیوں کی ضمانت نہیں ہے؛ صرف خواب پر انحصار کرنا ناپسندیدہ ہے۔ یہ کامل نتیجے کی ضمانت نہیں ہے۔ یہ پراکسی (وکیل) کے ذریعے نہیں کیا جا سکتا؛ انسان کو خود بھی اسے کرنا چاہیے۔ ماخذ (Sources): • دردیؒر، احمد بن محمد۔ الشرح الکبیر علیٰ مختصر خلیل۔ • دُسوقی، محمد بن احمد۔ حاشیہ الدُسوقی علیٰ الشرح الکبیر۔ • ابن السنی، ابو بکر۔ عمل الیوم و اللیلۃ۔ • غریانی، صادق۔ مدونۃ الفقہ المالکی و ادلتہ؛ جلد 1، صفحہ 25۔ • صدیقی، محمد بن علان۔ دلیل الفالحین شرح ریاض الصالحین۔ تحریر: علی اے بن سعد الماجد سیمینری (AlmajdSeminary.com) میں عربی میں مالکی فتویٰ پروگرام کا مطالعہ کریں۔ [...]
شفع اور وتر کیا ہیں؟ وتر وہ نماز ہے جو اس دن کی آخری نماز ہوتی ہے، کیونکہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم وتر کو دن کی آخری نماز بنائیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ لفظ ’شفع‘ کا لغوی معنی ’جفت‘ (دو) ہے جبکہ لفظ ’وتر‘ کا معنی ’طاق‘ ہے، کیونکہ یہ صرف ایک رکعت ہے۔ اس کا شرعی حکم اگر نبی اکرم ﷺ نے کسی نماز کو کوئی نام دیا ہو، تو اسے ’سنت‘ کا درجہ دیا جاتا ہے، جسے بلاوجہ چھوڑنا قابلِ ملامت ہے۔ اگر آپ ﷺ نے اس کے لیے کسی اجر کی تخصیص فرمائی ہو، تو اسے ’رغیبہ‘ کہا جاتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو، تو اسے ’نفل‘ کہا جاتا ہے۔ وتر سنت ہے، اور دن میں واحد سنت یہی ہے۔ صبح (فجر) سے پہلے کی دو رکعتیں ’رغیبہ‘ ہیں۔ باقی تمام دن بھر کی نمازیں نفل ہیں۔ کیا وتر کو شفع کے بغیر پڑھا جا سکتا ہے؟ کوئی شخص وتر کی ایک رکعت تنہا بھی پڑھ سکتا ہے۔ یہ درست ہوگی، لیکن اسے ناقص سمجھا جاتا ہے۔ شفع کی کتنی رکعتیں ہیں؟ اس کی کم از کم تعداد دو ہے اور اس کی کوئی زیادہ سے زیادہ حد نہیں۔ نفرِاوی فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ شفع کی دس رکعتیں پڑھا کرتے تھے، دو دو کر کے۔ (اگر کسی نے نفل کے طور پر لگاتار چار رکعتیں پڑھ لیں اور درمیان میں سلام نہ پھیرا، تو یہ مکروہ ہوگا لیکن نماز ہو جائے گی)۔ اس کا وقت کیا ہے؟ اسے عشاء کے بعد سے لے کر صبح کی نماز (کے فرض) سے پہلے تک کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے، چاہے فجر کا وقت داخل ہو چکا ہو، کیونکہ صبح (کے فرض) میں تاخیر کرنا گناہ نہیں ہے۔ اس میں کیا پڑھنا چاہیے؟ پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ اور دوسری میں سورۃ الکافرون کی تلاوت کرنا مستحب ہے۔ پھر وہ تشہد پڑھے اور سلام پھیر دے۔ اس کے بعد ایک رکعت پڑھے، اور اس میں اخلاص، الفلق اور الناس کی تلاوت کرے۔ تاہم، کوئی بھی شخص جو سورتیں چاہے پڑھ سکتا ہے۔ اسے پڑھنے کا بہترین وقت کب ہے؟ کسی بھی اور تمام نوافل کے لیے رات کا بہترین حصہ رات کا آخری تہائی پہر ہے، سوائے اس شخص کے جسے ڈر ہو کہ وہ بیدار نہیں ہو سکے گا۔ ایسی صورت میں، وہ اسے سونے سے پہلے پڑھ لے۔ یہ سری (خاموش) ہے یا جہری (بلند آواز)؟ وتر اور رات کے تمام نوافل بلند آواز سے پڑھنا افضل ہے، جبکہ دن کے نوافل خاموشی سے پڑھے جاتے ہیں۔ لیکن اگر کسی نے انہیں تبدیل کر دیا، تو اس پر کوئی حرج نہیں۔ اگر میں بھول جاؤں کہ میں نے شفع کی کتنی رکعتیں پڑھی ہیں؟ رکعتوں میں کسی بھی قسم کی بھول چوک کا معاملہ اسی طرح کیا جاتا ہے جیسے فرض نمازوں میں ہوتا ہے۔ آپ ایک رکعت کا اضافہ کریں گے اور پھر سہو (بھول کے دو سجدے) کریں گے۔ اگر میں غلطی سے وتر کی دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جاؤں تو کیا ہوگا؟ نفراوی فرماتے ہیں کہ آپ دوسری رکعت مکمل کر لیں اور پھر سلام کے بعد دو سجدہ سہو کریں۔ اگر میں نے وتر پڑھ لی لیکن رات کے درمیان بیدار ہو گیا تو کیا میں تہجد پڑھ سکتا ہوں؟ چونکہ یہ اتفاقاً ہوا، اس کے برعکس کہ جان بوجھ کر وتر کے بعد نوافل پڑھے جائیں، لہٰذا اس میں کوئی حرج نہیں اور انسان جتنی رکعتیں چاہے پڑھ سکتا ہے۔ کیا میں دو بار وتر پڑھ سکتا ہوں؟ ”ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں۔“ کیا وتر گھر میں بہتر ہے یا مسجد میں؟ اس میں کوئی ترجیح نہیں، اگرچہ عام طور پر نفل گھر میں پڑھنا بہتر ہے۔ کیا میں بلاوجہ بیٹھ کر پڑھ سکتا ہوں؟ اسے بیٹھ کر (زمین پر) پڑھا جا سکتا ہے چاہے انسان بیمار یا زخمی نہ بھی ہو، لیکن اجر صرف آدھا ملے گا۔ ماخذوَأَقَلُّ الشَّفْعِ رَكْعَتَانِ، وَيُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ يَقْرَأَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى. وَفِي الثَّانِيَةِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ. ثُمَّ يَتَشَهَّدُ وَيُسَلِّمُ. ثُمَّ يُصَلِّي الْوِتْرَ رَكْعَةً، يَقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ. وَإِنْ زَادَ مِنَ الأَشْفَاعِ جَعَلَ آخِرَ ذٰلِكَ الْوِتْرَ. وَأَفْضَلُ اللَّيْلِ آخِرُهُ فِي الْقِيَامِ؛ فَمَنْ أَخَّرَ تَنَقُّلَهُ وَوِتْرَهُ إِلَى آخِرِهِ فَذٰلِكَ أَفْضَلُ إِلَّا مَنِ الْغَالِبُ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْتَبِهَ، فَلْيُقَدِّمْ وِتْرَهُ مَعَ مَا يُرِيدُ مِنَ النَّوَافِلِ أَوَّلَ اللَّيْلِ ماخذ: رسالۃ ابن ابی زید اور الرسالہ(نفراوی) تحریر: محمد السکندری مترجم: محمد طلحہ بن فرید المالکی مزید مالکی فقہ پڑھیں: Arkview.orgکلاسیکی کتب حاصل کریں: UmmahSpot.comاردو میں دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ [...]
لغوی اعتبار سے قرآن میں لفظ ’قنوت‘ کا مفہوم دعا مانگنا، خاموش رہنا اور قیام کرنا ہے۔ نماز میں قنوت سے مراد صبح (فجر) کی نماز کی آخری رکعت میں مانگی جانے والی ایک خاموش دعا ہے۔ مالکی مذہب میں یہ ہلکی درجہ کی مستحب (مندوب) ہے اور اس کی تفصیل درج ذیل ہے: تفصیل یہ صرف فجر کی نماز میں پڑھی جاتی ہے۔ دوسری رکعت میں۔ رکوع سے پہلے۔ خاموشی سے (سری) پڑھی جاتی ہے۔ کوئی بھی دعا مانگی جا سکتی ہے۔ ذیل میں دی گئی ’دعاِ حَفْد و خَلْع‘ پڑھنا مستحب ہے۔ قنوت کے لیے پسندیدہ دعا اے اللہ ہم تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، اور تجھ سے مغفرت طلب کرتے ہیں، اور تجھ پر ایمان لاتے ہیں، اور تجھ پر بھروسہ کرتے ہیں، اور تیرے حضور عاجزی اختیار کرتے ہیں، اور ہم (برائی کو) چھوڑتے ہیں اور ترک کرتے ہیں ہر اس شخص کو جو تیرا انکار کرے۔ اے اللہ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تیرے لیے نماز پڑھتے ہیں اور سجدہ کرتے ہیں، اور تیری ہی طرف ہم کوشش کرتے اور لپکتے ہیں۔ ہم تیری رحمت کے امیدوار ہیں اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں۔ بے شک تیرا عذاب کافروں کو پہنچنے والا ہے۔ انگریزی (ترجمہ) O Allah we seek Your help alone. We seek Your forgiveness. We believe in You. We rely on You. We humble ourselves before You. We and forsake for Your sake, and abandon whoever rejects You. O Allah, we worship You alone. We pray and prostrate to You alone. Unto You alone we strive and hurry. We seek Your mercy and fear your painful punishment. For your punishment of non-believers is immanent. عربی (متن) اللَّهُمَّ إنَّا نَسْتَعِينُكَ وَنَسْتَغْفِرُك وَنُؤْمِنُ بِك وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْك وَنَخْشَعُ لَك وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَكْفُرُكَ اللَّهُمَّ إيَّاكَ نَعْبُدُ وَلَك نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْك نَسْعَى وَنَحْفِدُ نَرْجُو رَحْمَتَكَ وَنَخَافُ عَذَابَكَ الْجِدَّ إنَّ عَذَابَك بِالْكَافِرِينَ مُلْحِقٌ آڈیو یہ خاموشی سے کیوں پڑھی جاتی ہے؟ دُسوقی فرماتے ہیں کہ دعا کا اصل حکم یہ ہے کہ اسے ریاکاری کے خوف سے خاموشی سے مانگا جائے، لہٰذا قنوت بھی خاموشی سے پڑھی جاتی ہے۔ کیا ہم دو سجدہ سہو کریں گے اگر ہم اسے جان بوجھ کر یا بھول کر چھوڑ دیں؟ یہ ایک ہلکا سا استحبابی عمل (مندوب) ہے نہ کہ سنتِ مؤکدہ، لہٰذا اگر کوئی اسے نہ پڑھے، خواہ جان بوجھ کر ہی کیوں نہ ہو، تو اس پر کوئی سجدہ سہو نہیں ہے۔ یہ رکوع سے پہلے کیوں ہے؟ نفرِاوی بخاری کی حدیث نقل کرتے ہیں: حضرت انسؓ سے نبی اکرم ﷺ کی قنوت کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے یہ رکوع سے پہلے کی۔ سائل نے کہا، کسی نے بتایا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے یہ رکوع کے بعد کی۔ حضرت انسؓ نے فرمایا، وہ غلطی پر ہے، آپ ﷺ نے رکوع کے بعد صرف ایک مہینے تک قنوت کی تھی جب آپ کے بھیجے گئے مبلغین کو دھوکے سے شہید کر دیا گیا تھا، تو آپ ﷺ نے ایک ماہ تک اس قبیلے کے خلاف بددعا فرمائی، پھر آپ رک گئے۔ اگر کوئی رکوع سے پہلے اسے پڑھنا بھول جائے تو کیا حکم ہے؟ اگر کوئی اسے رکوع سے پہلے پڑھنا بھول جائے تو وہ اسے رکوع کے بعد پڑھ سکتا ہے۔ رکوع سے پہلے پڑھنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ دیر سے آنے والے کو رکعت میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اگر کسی شخص نے رکوع کر لیا، پھر قنوت یاد آئی اور وہ قنوت پڑھنے کے لیے واپس کھڑا ہو گیا، اور پھر دوبارہ رکوع میں چلا گیا، تو اس کی نماز باطل ہو جائے گی کیونکہ اس نے ایک مستحب (مندوب) کے لیے فرض کو چھوڑ دیا اور ایک رکعت میں دو بار رکوع کرنے کا مرتکب ہوا۔ کیا ہم دیگر نمازوں میں قنوت کر سکتے ہیں؟ یہ صرف صبح (فجر کی نماز) میں ہلکا سا مستحب (مندوب) عمل ہے اور کسی بھی دوسری نماز میں، بشمول رمضان، اس کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے۔ ایک شاذ (اکیلے راوی کی) روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بار مغرب میں قنوت کی، لیکن صحابہ کرامؓ نے اس پر کبھی عمل نہیں کیا، چنانچہ نفرِاوی کے مطابق اسے استثنیٰ یا منسوخ سمجھا جاتا ہے اور اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ تاہم، اگر یہ کسی اور نماز میں پڑھ لی جائے تو نماز باطل نہیں ہوتی۔ یہ پسندیدہ دعا کہاں سے آئی؟ نفرِاوی، ابو داؤد کی روایت نقل کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم ﷺ ان قبائل کے خلاف قنوت کر رہے تھے جنہوں نے ستر قراءِ قرآن کو شہید کیا تھا، تو جبریل امین علیہ السلام نازل ہوئے اور نبی اکرم ﷺ کو بتایا کہ آپ کو رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے، نہ کہ کسی کے خلاف بددعا کرنے کے لیے، اور پھر انہیں وہ دعا سکھائی جس کا ذکر ہم نے اوپر کیا ہے۔ چنانچہ، نبی اکرم ﷺ نے اسے پسند فرمایا اور اپنے رب کے پاس واپس جانے تک اس پر عمل کرتے رہے۔ ابن وہب، سیوطی اور دیگر کئی علماء ذکر کرتے ہیں کہ یہ دعا دراصل قرآن کی دو سورتیں تھیں جو سورۃ الحفد اور سورۃ الخلع کے نام سے معروف تھیں، لیکن بعد میں وہ منسوخ ہو گئیں۔ ابن مسعودؓ نے انہیں اپنے مصحف میں لکھ رکھا تھا۔ ابن ابی شیبہ کی ’مصنف‘ میں درج ہے کہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ قنوت میں ان کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ مشہور دعا ’اللھم اھدنا فیمن ھدیت‘ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ ’المدونۃ‘ میں بیان کیا گیا ہے کہ مندرجہ بالا دعا وہی ہے جسے نبی اکرم ﷺ نے ترجیح دی۔ ’التلقین‘ میں قاضی عبد الوہاب اسی دعا کو نقل کرتے ہیں لیکن درج ذیل اضافی سطور کے ساتھ: اللَّهُمَّ اهْدِنَا فِيمَنْ هَدَيْت، وَعَافِنَا فِيمَنْ عَافَيْت وَقِنَا شَرَّ مَا قَضَيْت، إنَّك تَقْضِي بِالْحَقِّ وَلَا يُقْضَى عَلَيْك وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْت وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْت تَبَارَكْت رَبَّنَا وَتَعَالَيْت آڈیو Allahumma ihdina fi man hadayt, wa ‘afina fi man ‘afayt Wa qina sharra ma qadayt, innaka taqdi wa la yuqda ‘alayk. Wa innahu la yadhillu man walayt, wa la ya‘izzu man ‘adayt Tabarakta rabbana wa ta‘alayt اے اللہ، ہمیں ہدایت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے ہدایت دی، اور ہمیں عافیت دے ان لوگوں میں جنہیں تو نے عافیت دی۔ اور ہمیں بچا اس چیز کے شر سے جس کا تو نے فیصلہ کیا، بے شک تو حق کا فیصلہ کرتا ہے اور تیرے خلاف فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اور بے شک وہ ذلیل نہیں ہوتا جسے تو دوست رکھے، اور وہ عزت نہیں پاتا جس سے تو دشمنی رکھے۔ اے ہمارے رب تو بابرکت اور عالی شان ہے۔ اگر تقدیر لکھی جا چکی ہے تو ہم اس سے پناہ کیسے مانگ سکتے ہیں؟ یہ دعا تقدیر سے پناہ مانگتی ہے، جس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم کسی ایسی چیز کی درخواست کیسے کر سکتے ہیں جو ناقابل تصور ہو، جیسے کہ اپنی تقدیر سے بچنا۔ قرافی اس کا جواب یہ دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ کچھ تقدیریں مشروط (قدرِ معلق) ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، کوئی بری چیز اس شرط پر واقع ہوگی کہ بندہ دعا نہیں کرتا۔ اگر وہ دعا کر لیتا ہے، تو وہ واقعہ رونما نہیں ہوتا۔ یا اس کے برعکس۔ ایک اور مفہوم یہ ہے کہ یہ فیصلے کے اندر موجود نقصان کی تخصیص کرتی ہے۔ یعنی فیصلہ تو نازل ہوگا لیکن وہ ہمیں نقصان نہیں پہنچائے گا، بالکل اسی طرح جیسے بارش برستی ہے لیکن اگر ہم گھر کے اندر ہوں تو ہمیں اس سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا۔ کیا ہم ہاتھ اٹھائیں گے؟ نفرِاوی فرماتے ہیں کہ قنوت پڑھتے وقت ہاتھ نہیں اٹھانے چاہئیں، بالکل اسی طرح جیسے سورہ فاتحہ کے بعد آمین کہتے وقت یا تشہد کے بعد دعا مانگتے وقت ہاتھ نہیں اٹھائے جاتے۔ کیا قضا نمازوں میں قنوت پڑھنا مستحب ہے؟ اگر کسی شخص کی امام کے ساتھ پہلی رکعت چھوٹ جائے اور جماعت کے سلام پھیرنے کے بعد اس پر ایک رکعت باقی ہو، تو معتمد قول یہ ہے کہ اس کے لیے اپنی چھوٹی ہوئی رکعت میں قنوت کرنا اب بھی مستحب (مندوب) ہے۔ اسی طرح، اگر کسی کی صبح کی نماز چھوٹ جائے اور وہ بعد میں اسے قضا کے طور پر پڑھے، تو اس کی قضا نماز میں بھی قنوت کرنا مستحب ہے۔ اگر امام بلند آواز میں قنوت پڑھے یا بالکل نہ پڑھے تو کیا حکم ہے؟ اگر امام شافعی مسلک سے ہو اور بلند آواز میں دعا کرے تو ہمیں آمین کہنا چاہیے اور اپنی الگ قنوت نہیں پڑھنی چاہیے جبکہ وہ اپنی پڑھ رہا ہو۔ اگر امام حنفی مسلک سے ہو اور قنوت نہ پڑھے، تو آپ اس کی قراءت مکمل ہونے کے بعد رکوع میں جانے سے پہلے جلدی سے دعا پڑھ سکتے ہیں۔ تحریر: شادی المصرىمترجم: محمد طلحہ بن فرید المالکیماخذ: الرسالہ (نفراوی) اور الشرح الکبیر (دُسوقی) مزید مالکی فقہ پڑھیں: Arkview.orgکلاسیکی کتب حاصل کریں: UmmahSpot.comاردو میں دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ [...]
سوالکیا میں وضو میں جرابوں پر مسح کر سکتا ہوں؟ جوابوضو میں مسح صرف خف یعنی وہ چمڑے کی جرابیں جنہیں ٹخنوں سے اوپر تک پہنا جاتا ہے، پر کیا جا سکتا ہے۔ عام جرابوں، چاہے وہ واٹر پروف ہی کیوں نہ ہوں، پر مسح جائز نہیں۔ خف پر مسح تب تک جائز ہے جب وہ وضو کے ساتھ پہنے ہوں اور اس کی کوئی مدت مقرر نہیں۔ اس کے شرائط درج ذیل ہیں: خف پر مسح کی شرائط خف ایسا چمڑا ہونا چاہیے جس پر کوئی کوٹ نہ ہو، جیسے پالش، موم، رنگ وغیرہ۔ مالکی مکتب میں غیر چرمی واٹر پروف جرابیں خف نہیں سمجھی جاتیں کیونکہ امام مالک نے استثنیٰ پر قیاس نہیں کیا۔ چمڑا پاکیزہ ہونا چاہیے، یعنی وہ ناپاک یا غیر ذبیحہ چمڑا نہیں ہونا چاہیے۔ خف کو سلائی کے ذریعے بنایا ہونا چاہیے۔ خف اس حصے کو ڈھانپے جو وضو میں دھونا لازم ہے، یعنی پاؤں سے لے کر ٹخنے تک۔ خف پہن کر مسلسل چلنا ممکن ہونا چاہیے۔ خف پہننے کی شرائط خف پانی سے حاصل ہونے والی طہارت کی حالت میں پہننا ضروری ہے، یعنی وضو کرنے کے بعد پہننا چاہیے، نہ کہ تيمم کے بعد۔ خف پہنے والا شخص اللہ کی نافرمانی کا مرتکب نہ ہو، جیسے چوری شدہ خف پہننا، یا سفر میں نافرمانی کرنا وغیرہ۔ خف آسانی اور سکون کے لیے پہنا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ، یہ سنت کی پیروی کے مقصد سے بھی پہنا جا سکتا ہے۔ خف کے باطل ہونے کی صورتیں اگر کوئی جنابت یا بڑی نجاست کی حالت میں ہو، تو خف پہننا جائز نہیں رہتا۔ اگر کوئی خف اتار دے اور وضو ختم ہو جائے، تو اسے دوبارہ وضو کرنا ضروری ہے۔ خف میں چھوٹے سوراخ ہوسکتے ہیں جو پورے خف کے ایک تہائی سے کم ہوں، لیکن اگر سوراخ ایک تہائی سے زیادہ ہو جائے تو خف جائز نہیں رہتا۔ اگر کوئی شخص اپنے پاؤں کا آدھا یا اس سے زیادہ حصہ خف سے باہر نکالے جبکہ پاکی کی حالت میں نہ ہو، تو اسے دوبارہ وضو کرنا ہوگا۔ (اگر آدھے سے کم حصہ نکالا ہو تو وضو باطل نہیں ہوتا، چاہے اس وقت وضو میں نہ بھی ہو۔) ان پر مسح کیسے کیا جائے؟ خف کے اوپر مسح فرض ہے، جبکہ نیچے کی طرف مسح سنت ہے۔ خف پر مسح کرنے کا مستحب طریقہ یہ ہے کہ دائیں ہاتھ کو پاؤں کے اوپر رکھا جائے اور بائیں ہاتھ کو پاؤں کے نیچے، پھر انگلیوں سے لے کر ٹخنے تک مسح کیا جائے۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ تحریر: رحمہ اصغرنظرثانی: شادی المصرىماخذ: متن العزیہ، عمروسی مزید مالکی فقہ پڑھیں: Arkview.orgکلاسیکی کتب حاصل کریں: UmmahSpot.comاردو میں دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ [...]
سوال:میرا دوست حادثے میں اپنی کلائی توڑ بیٹھا ہے اور اس پر کاسٹ(پلاسٹر) نما چیز لگی ہے۔ کیا وہ اس ہاتھ کو بالکل چھوئے بغیر وضو کر سکتا ہے کیونکہ وہ حرکت بھی نہیں دے سکتا؟ اور کیا اس صورت میں وہ تیمم کر سکتا ہے؟ اعضا پر وضو کرنے کے درجے صورتِ حال کے مطابق درج ذیل ہیں: اگر کسی شخص کو ایسی بیماری یا چوٹ ہو جس میں زیادہ پانی لگانے سے عضو کو نقصان پہنچے، حالت خراب ہو جائے یا شفا میں تاخیر ہو، تو دھونے کی بجائے عضو کا مسح کرنا جائز ہے۔ اگر براہِ راست پانی سے مسح کرنا بھی اسی طرح نقصان دہ ہو، یعنی عضو کو نقصان پہنچانا، حالت خراب کرنا یا شفا میں تاخیر کرنا، تو جبیرہ یا جوڑے (جیسے سپلنٹ، کاسٹ، یا چوٹ پر لگائی گئی دوا) کے اوپر مسح کرنا جائز ہے۔ اگر جبیرہ یا جوڑے کے اوپر مسح کرنا ممکن نہ ہو تو اس کے اوپر موجود کور کے اوپر مسح کیا جا سکتا ہے (مثلاً کچھ ڈاکٹر کاسٹ پر پانی کے داخلے سے روکنے کے لیے پلاسٹک بیگ ڈالنے کا مشورہ دیتے ہیں)۔ اگر بالکل بھی اس عضو کو کسی چیز سے چھونا ممکن نہ ہو تو اسے چھوڑ دینا جائز ہے۔ اگر کسی بھی عضو پر مسح کرنا ممکن نہ ہو تو اس صورت میں تیمم کیا جاتا ہے۔ چونکہ آپ کے دوست کی چوٹ صرف ہاتھ کی ہے، اسے چاہیے کہ وہ جبیرہ یا کور کے اوپر مسح کرے، اور تیمم نہ کرے کیونکہ باقی اعضا دھوئے جا سکتے ہیں۔ واللہ أعلم۔ تحریر: رحمہ اصغرجائزہ: دکتور شادی المصریماخذ: متن العزّیة مزید مالکی فقہ پڑھیں: Arkview.orgکلاسیکی کتب حاصل کریں: UmmahSpot.comاردو میں دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ [...]
وضو کو توڑ دینے والی چیزیں (نواقضِ وضو) درج ذیل ہیں: بیت الخلا جانا اور اگلے یا پچھلے مقام سے خارج ہونے والی معمول کی چیزیں، جیسے پیشاب وغیرہ کا نکلنا، ہوا کا خارج ہونا، پاخانہ آنا، مذی (شرمگاہ سے نکلنے والا پتلا رطوبت)، اور ودی (پیشاب کے بعد نکلنے والا گاڑھا مادہ)۔ عام حواس کا زائل ہوجانا، جیسے بے ہوشی طاری ہونا، گہری نیند*، عارضی جنون (طبی وجہ سے یا جن کے اثر کی وجہ سے)، یا نشہ و سُکر کی کوئی بھی صورت۔ کسی مرد کا اپنے ہی عضوِ تناسل کو ہتھیلی یا انگلیوں کے اندرونی حصے سے چھونا۔** وضو کے ہونے یا نہ ہونے میں شک پیدا ہونا۔ مخالف جنس کو چھونا، ایسے شخص کو جس سے عموماً جنسی لذت کا امکان ہو، جبکہ لذت کا ارادہ موجود ہو یا واقعی لذت محسوس ہو جائے۔ کافر ہو جانا۔ *گہری نیند کی پہچان یہ ہے کہ سوتے ہوئے انسان دوسروں کی آواز نہ سن سکے، یا سر جھٹکے تو جاگے نہیں، یا ہاتھ میں پکڑی ہوئی چیز گر جائے اور پھر بھی آنکھ نہ کھلے۔ مالکی فقہ میں بیٹھے ہونا یا لیٹے ہونا اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ گہری نیند وضو توڑ دیتی ہے، چاہے انسان بیٹھا ہوا ہی کیوں نہ ہو۔ ہلکی نیند وضو نہیں توڑتی، چاہے انسان لیٹا ہوا ہو۔**یہ حکم صرف اس صورت میں ہے جب کوئی مرد اپنے ہی عضوِ تناسل کو چھوئے۔ اگر وہ اپنے بیٹے کا ڈائپر بدلتے ہوئے اس کا عضوِ تناسل دھوئے اور براہِ راست ہاتھ لگے، تو اس سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا۔ اسی طرح یہ حکم عورت پر لاگو نہیں ہوتا، چاہے وہ خود کو چھوئے یا مخالف جنس کے ستر والے حصے کو چھوئے۔ ماخذ نواقض الوضوء ستة عشر بول و ريح سلس إذا ندر و غائط نوم ثقيل مذي سکر و إغماء جنون ودي لمس و قبلة و ذا إن وجدت لذة عادة کذا إن قصدت إلطاف مرأة كذا مس الذکر و الشك في الحدث کفر من کفر ماخذ: ابن عاشر کی مرشد المعین تحریر: رحمہ اصغرمترجم: محمد طلحہ بن فرید المالکی مزید مالکی فقہ پڑھیں: Arkview.orgکلاسیکی کتب حاصل کریں: UmmahSpot.comاردو میں دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ [...]
شفع اور وتر کیا ہیں؟ وتر وہ نماز ہے جو دن کی تمام نمازوں کا اختتام کرتی ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ دن کی آخری نماز وتر ہو۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ عربی میں لفظ شَفْع کا لغوی معنی ہے جفت یا جوڑا، جبکہ لفظ وتر کا معنی ہے طاق، کیونکہ وتر ایک ہی رکعت پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کا حکم اگر نبی کریم ﷺ نے کسی نماز کو خاص نام دیا ہو تو وہ سنت شمار ہوتی ہے، اور بلا وجہ اسے چھوڑ دینا مذموم ہے۔ اگر آپ ﷺ نے کسی نفل کے لیے خاص ثواب بیان کیا ہو تو اسے رغیبہ کہا جاتا ہے۔ اور اگر نہ کوئی نام ہو اور نہ خاص فضیلت کا ذکر ہو تو اسے نفل کہتے ہیں۔ وتر ایک سنت ہے، اور دن بھر کی نمازوں میں واحد سنت یہی ہے۔ فجر سے پہلے کی دو رکعتیں رغیبہ ہیں۔ باقی تمام نوافل نفل کہلاتی ہیں۔ کیا شفع کے بغیر وتر ادا ہو سکتا ہے؟ ایک رکعت وتر اکیلے بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ یہ درست تو ہو گا، لیکن غیر کامل سمجھا جاتا ہے۔ شفع کی کتنی رکعتیں ہیں؟ اس کی کم از کم رکعتیں دو ہیں، اور زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد نہیں۔ نَفراوی کے مطابق نبی کریم ﷺ عموماً دس رکعتیں شفع کی پڑھتے تھے، دو دو رکعت کرکے۔اگر کوئی چار رکعت نفل ایک ہی سلام کے ساتھ ملا کر پڑھ لے تو یہ مکروہ مگر درست ہے۔ اس کا وقت کیا ہے؟ شفع عشا کے بعد سے لے کر فجر کی نماز سے پہلے تک کسی بھی وقت پڑھا جا سکتا ہے۔اگرچہ فجر کا وقت داخل ہوجائے اور ابھی نمازِ فجر ادا نہ کی ہو، تب بھی شفع پڑھنا جائز ہے، کیونکہ صبح میں تاخیر کرنا گناہ نہیں۔ اس میں کیا پڑھنا چاہیے؟ سنت یہ ہے کہ: پہلی رکعت میں سورۃ الأعلى دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون پھر تشہد پڑھ کر سلام پھیرا جائے۔ اس کے بعد ایک رکعت وتر پڑھی جائے، اور اس میں: سورۃ الإخلاص سورۃ الفلق سورۃ الناس پڑھنا مستحب ہے۔البتہ چاہے تو کوئی بھی سورت پڑھ سکتا ہے۔ اس کا افضل وقت کب ہے؟ رات کی تمام نوافل کا سب سے بہتر وقت آخری تہائی رات ہے۔البتہ اگر کسی کو اندیشہ ہو کہ وہ اتنی دیر میں بیدار نہیں ہو سکے گا تو وہ سونے سے پہلے پڑھ لے۔ اسے جہراً پڑھنا ہے یا سرّاً؟ وتر اور رات کے نوافل کو بلند آواز کے ساتھ پڑھنا افضل ہے، جبکہ دن کے نوافل آہستہ آواز سے پڑھے جاتے ہیں۔اگر کوئی اس کے برعکس پڑھ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اگر شفع کی رکعتوں میں بھول ہو جائے تو کیا کرے؟ شفع میں بھول ویسے ہی  ہے جیسے فرض نماز میں۔اگر رکعتوں میں شک ہو تو ایک رکعت کا اضافہ کرے اور آخر میں سجدۂ سہو کے دو سجدے کرے۔ اگر غلطی سے وتر کی دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جاؤں تو کیا کریں؟ نَفراوی کے مطابق ایسی صورت میں دوسری رکعت پوری کریں، پھر سلام کے بعد دو سجدۂ سہو کریں۔ اگر میں نے وتر پڑھ لیا ہو لیکن رات کے دوران دوبارہ بیدار ہو جاؤں تو کیا تہجد پڑھ سکتا ہوں؟ یہ چونکہ غیر ارادی طور پر ہوا ہے، یعنی وتر کے بعد جان بوجھ کر نوافل پڑھنے کا ارادہ نہیں تھا، اس لیے اس میں کوئی حرج نہیں۔ آپ جتنی چاہیں رکعتیں پڑھ سکتے ہیں۔ کیا وتر دو بار پڑھا جا سکتا ہے؟ “ایک رات میں دو وتر نہیں ہوتے۔” وتر گھر میں بہتر ہے یا مسجد میں؟ اس میں خاص ترجیح نہیں۔اگرچہ عمومی اصول یہ ہے کہ نوافل گھر میں زیادہ افضل ہیں۔ کیا بغیر کسی عذر کے بیٹھ کر شفع یا وتر پڑھ سکتے ہیں؟ جی ہاں، شفع اور وتر بیٹھ کر بھی پڑھے جا سکتے ہیں، چاہے بیماری یا تکلیف نہ بھی ہو۔البتہ اس صورت میں اجر نصف رہ جاتا ہے۔ ماخذ وَأَقَلُّ الشَّفْعِ رَكْعَتَانِ، وَيُسْتَحَبُّ لَهُ أَنْ يَقْرَأَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى. وَفِي الثَّانِيَةِ بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَقُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ. ثُمَّ يَتَشَهَّدُ وَيُسَلِّمُ. ثُمَّ يُصَلِّي الْوِتْرَ رَكْعَةً، يَقْرَأُ فِيهَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، وَالْمُعَوِّذَتَيْنِ. وَإِنْ زَادَ مِنَ الأَشْفَاعِ جَعَلَ آخِرَ ذٰلِكَ الْوِتْرَ. وَأَفْضَلُ اللَّيْلِ آخِرُهُ فِي الْقِيَامِ؛ فَمَنْ أَخَّرَ تَنَقُّلَهُ وَوِتْرَهُ إِلَى آخِرِهِ فَذٰلِكَ أَفْضَلُ إِلَّا مَنِ الْغَالِبُ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَنْتَبِهَ، فَلْيُقَدِّمْ وِتْرَهُ مَعَ مَا يُرِيدُ مِنَ النَّوَافِلِ أَوَّلَ اللَّيْلِ رسالة ابن أبي زيد القيرواني اور الفواكه الدواني على رسالة ابن أبي زيد القيرواني تحریر: محمد السکندری اور شادی المصریمترجم: محمد طلحہ بن فرید المالکی مزید مالکی فقہ پڑھیں: Arkview.orgکلاسیکی کتب حاصل کریں: UmmahSpot.comاردو میں دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ [...]
سجودِ سہو کیا ہے؟ سجود السہو نماز کے اختتام سے پہلے یا بعد میں کیے جانے والے دو سجدوں کو کہا جاتا ہے۔ “سَہْو” کا مطلب بھول جانا ہے، اس لیے یہ سجدے اس وقت کیے جاتے ہیں جب کوئی شخص نماز میں کسی فرض یا سنت کو بھول جائے (جو نیچے درج ہیں)، نہ کہ جب کوئی جان بوجھ کر انہیں چھوڑ دے۔ ان دو سجدوں کا حکم یہ ہے کہ یہ سنت ہیں۔ سجود السہو کیسے کیا جاتا ہے؟ اگر نماز میں کچھ بھول گیا ہو تو پورا تشہد مکمل کرے، پھر اللہ اکبر کہہ کر عام طریقے کے مطابق سجدے میں چلا جائے۔ یہ دو مرتبہ کرے، پھر صرف تشہد کے پہلے حصے کی تلاوت کرے، پھر نماز سے نکل جائے۔ اور اگر نماز میں کچھ زیادہ کر دیا گیا ہو تو یہ طریقہ نماز سے نکلنے کے بعد کرے، پھر دوبارہ سلام پھیرے۔ یہ کب کیا جاتا ہے؟ یہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کوئی شخص فرض یا سنت میں سے کچھ بھول جائے، جیسا کہ نیچے بیان کیا گیا ہے۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر کسی فرض یا سنت کو ترک کر دے تو کیا حکم ہے؟ جان بوجھ کر کسی فرض کو چھوڑ دینا نماز کو باطل کر دیتا ہے، جبکہ جان بوجھ کر کسی سنت کو چھوڑنا مکروہ ہے (اگرچہ خلیل کہتے ہیں کہ یہ نماز کو باطل کر دیتا ہے، جو اس کے انتہائی ناپسندیدہ ہونے کی طرف اشارہ ہے)۔ فرائض اور سنن نیچے درج ہیں۔ چونکہ اس نے سنت کو جان بوجھ کر چھوڑا ہے، اس لیے اسے اس کی تلافی کرنے کا حق نہیں دیا جاتا۔ فرض بھول جانا اگر کوئی فرض بھول جائے لیکن نماز کے اندر ہی اسے یاد آ جائے، تو وہ فوراً اپنے ذہن میں اُس پوری رکعت کو منسوخ کر دے، واپس اُسی مقام پر لوٹ آئے جہاں سے فرض رہ گیا تھا، اور اُس رکعت کو دوبارہ ادا کرے۔ پھر نماز سے سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدۂ سہو کرے۔ اگر وہ نماز ختم کر چکا ہو، تب بھی وہ چھوٹی ہوئی رکعت دوبارہ ادا کر سکتا ہے، اور پھر اس کے بعد سجدۂ سہو کرے۔ لیکن اگر فرض کی تلافی کرنے میں زیادہ وقت گزر گیا ہو تو نماز باطل ہو جاتی ہے اور اسے دوبارہ ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ نماز کے فرائض نیچے درج ہیں۔ سنت بھول جانا فرض کو بھولنے کے برخلاف، سنت کو بھولنے پر رکعت روک کر دوبارہ ادا نہیں کی جاتی۔ بلکہ نماز جاری رکھی جاتی ہے اور پھر سلام سے پہلے دو سجدے کر کے اس کی تلافی کی جاتی ہے۔ آٹھ سنتیں نیچے درج ہیں۔ سلام سے پہلے یا بعد؟ اگر کسی کو نیچے دی گئی سنتوں میں سے کوئی سنت بھول گئی ہو، تو اس کی تلافی سلام سے پہلے دو سجدے کر کے کی جاتی ہے، جسے “قبلی” یعنی “سلام سے پہلے” کہتے ہیں۔لیکن اگر کوئی اضافی عمل کرے، تو نماز مکمل کرنے کے  بعد دو سجدے کیے جاتے ہیں، جسے “بعدی” یعنی “سلام کے بعد” کہا جاتا ہے، پھر دوبارہ سلام پھیر کر نماز مکمل کی جاتی ہے۔ مثالیں اگر کوئی ظہر کی نماز کو بلند آواز سے پڑھے یا مغرب کو خاموشی سے پڑھے، یا تشہد کے لیے نہ بیٹھے، یا چار رکعتوں کی بجائے تین رکعت پڑھے، تو ایسے نقائص کی بنا پر وہ نماز سے نکلنے سے پہلے دو سجدے کرے گا۔لیکن اگر وہ غلطی سے نماز میں اضافہ کر دے، جیسے ایک اضافی رکعت پڑھ لے، یا تیسری رکعت میں کوئی سورہ پڑھ لے، یا اضافی تشہد پڑھے، تو ایسے میں وہ سجدہ سہو سلام کے بعد کرے گا۔ غلطی سے اضافہ اور کمی اگر کوئی کچھ حصہ نماز میں بڑھا دے لیکن کچھ اور حصہ بھول جائے، تو کمی کو فوقیت دی جاتی ہے، اس لیے وہ سجدے سہو سلام سے پہلے کرے گا۔ سجود السہو کو پہلے یا بعد میں غلطی سے بدل دینا اگر کسی کو نماز سے نکلنے سے پہلے سجدہ سہو کرنا تھا لیکن اس نے نماز سے نکلنے کے بعد کیا، یا برعکس، تو اس صورت میں نماز صحیح شمار ہوگی اور یہ کافی ہے۔ حرکت کے دوران یاد آنا اگر کسی کو یاد آئے کہ اسے تشہد کےلیے بیٹھنا ہے لیکن وہ پہلے ہی اٹھنے کی حرکت میں ہو، تو وہ صرف اسی صورت میں بیٹھنے کی حالت میں واپس جائے گا جب اس کا ایک ہاتھ یا گھٹنا ابھی زمین سے لگا ہوا ہو۔ اگر چاروں اعضا (دونوں ہاتھ اور دونوں گھٹنے) ہوا میں ہوں، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اٹھ چکا ہے، لہٰذا اسے بس نماز جاری رکھنی چاہیے اور پھر نماز سے نکلنے سے پہلے دو سجدے کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگلی رکعت کے لیے کھڑا ہونا فرض ہے جبکہ تشہد کے لیے بیٹھنا سنت ہے، اور فرض سنت پر فوقیت رکھتا ہے۔(اگر اس کے اعضا زمین سے اٹھے ہوئے ہوں اور پھر بھی وہ بیٹھنے کی حالت میں واپس آ جائے تو نماز صحیح رہے گی،  سیدی خلیل کے مطابق۔ لیکن اگر وہ اگلی رکعت کے لیے فاتحہ پڑھنا شروع کر چکا تو اسے واپس بیٹھنا جائز نہیں، اور اگر بیٹھ گیا تو نماز باطل ہو جائے گی۔) امام کے پیچھے نماز میں غلطی کرنا امام ہماری غلطیوں کو ڈھانپ دیتا ہے، اس لیے امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے نیچے دی گئی آٹھ سنتوں کے حوالے سے ہماری غلطیوں پر سجودِ سہو نہیں کیا جاتا۔ نماز میں غلطی سے بات کرنا نماز میں چند الفاظ غلطی سے بولنے پر نماز سے نکلنے کے بعد دو سجدے کر کے تلافی کی جاتی ہے۔ اگر امام کے پیچھے نماز پڑھ رہے ہوں تو کچھ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ امام ہماری غلطیوں کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ اگر بات زیادہ ہو جائے تو نماز باطل ہو جاتی ہے۔ نماز میں جان بوجھ کر بات کرنا اگر جان بوجھ کر تھوڑا یا زیادہ بولا جائے تو یہ گناہ ہے اور نماز باطل ہو جاتی ہے۔اگر بات کرنا فرضی ہو، جیسے کسی کی جان بچانے کے لیے، تو اس کا اجر ملے گا لیکن نماز پھر بھی باطل ہوگی۔اگر یہ امام کی تلاوت یا حرکت میں غلطی درست کرنے کے لیے ہو، تو نہ گناہ ہے اور نہ سجدہ سہو لازم ہے۔ ایسے موقع پر وہ صرف درست آیت پڑھتا ہے یا امام کو حرکت کی غلطی کی طرف متوجہ کرنے کے لیے “سبحان اللہ” کہتا ہے۔ اگر کوئی سجود السہو کرنا ہی بھول جائے؟ اگر آپ آٹھ سنتوں میں سے کوئی سنت بھول گئے اور سجدہ سہو کرنا بھی بھول گئے، تو اگر زیادہ وقت نہ گزرا ہو تو سجدہ سہو کر کے تلافی کر لیں۔ لیکن اگر بہت وقت گزر چکا ہو تو سجدہ سہو نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی نماز دوبارہ پڑھنی پڑے گی۔اگر غلطی اضافہ کی نوعیت کی ہو، تو چاہے کتنا ہی وقت گزر جائے، اس کی تلافی کرنی چاہیے۔ نماز میں رکعتوں کی تعداد بھول جانا جو شخص بھول گیا ہے اسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھولا ہے۔ لیکن جو شخص شک میں ہے اسے معلوم نہیں ہوتا کہ اس نے کتنی رکعتیں ادا کی ہیں یا نہیں۔ دونوں کے لیے طریقہ کار ایک جیسا ہے۔اگر نماز میں رکعتوں کی تعداد بھول جائے اور یقین نہ ہو کہ صحیح تعداد پوری ہوئی ہے یا نہیں، تو وہ اپنے ذہن میں کم تعداد کو بنیاد بنا کر نماز جاری رکھے، اور پھر نماز سے نکلنے سے پہلے دو سجدے کرے۔ اگر میں ہمیشہ نماز میں بھول جاتا ہوں ایسے شخص کے لیے سجودِ سہو نہیں،  جو نماز میں ہمیشہ بھولتا رہے۔ اس شخص کو “مستنکح الشک” یعنی ہمیشہ بھولنے والا کہا جاتا ہے، اور اس کی ہدایت یہی ہے کہ اسے بھول جانا نظر انداز کرنا چاہیے۔ اگر میں کسی فضیلت کو بھول گیا کسی فضیلت کو بھول جانا یا جان بوجھ کر چھوڑ دینا، چاہے وجہ ہو یا نہ ہو، اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا اور نماز صحیح رہتی ہے، مگر بغیر کسی وجہ کے صرف سستی کی بنا پر چھوڑنا مکروہ ہے۔ نماز کے چودہ فرائض نیت تکبیر تحریمہ یعنی نماز میں اللہ اکبر کہتے ہوئے داخل ہونا اس کے لیے کھڑا ہونا سورہ فاتحہ پڑھنا اس کے لیے کھڑا ہونا رکوع رکوع سے اٹھنا پیشانی کے ساتھ سجدہ کرنا سجدے سےاُٹھتے ہوئے  بیٹھنا (جلوس) ہر دفعہ اٹھتے وقت کمر سیدھی کرنا (اعتدال) ہر رکن میں ٹھہراؤ (طمأنینہ) فرائض کو ترتیب سے ادا کرنا السلام علیکم کہہ کر نماز سے نکلنا سلام کے لیے بیٹھنا نماز کی آٹھ سنتیں جہاں قرأت آہستہ ہونی چاہیے وہاں خاموشی سے تلاوت کرنا جہاں قرأت بلند ہونی چاہیے وہاں بلند آواز سے پڑھنا فاتحہ کے بعد سورۃ  ملانا تمام تکبیریں (سوائے تکبیرِ تحریمہ کے جو فرض ہے) رکوع سے اٹھتے وقت سمع اللہ لمن حمدہ کہنا پہلا تشہد دوسرا تشہد تشہد کے لیے بیٹھنا آٹھ سنتیں یاد رکھنے کے لیے عربی شعر: سينان شينان كذا جيمانتاءان عدد السنن الثمان معنی:یہ شعر آٹھ سنتوں کی تعداد یاد رکھنے کا ایک آسان طریقہ ہے۔ سينان = السر والسورة (آہستہ آواز میں تلاوتاور فاتحہ کے بعد سورۃ پڑھنا) شينان = تشهد الأول والتشهد الأخير (پہلا تشہد اور آخری تشہد) جيمان = الجهر، والجلوس (جہر یعنی بلند آواز سے پڑھنا، اور بیٹھنا) التاءان = التحميد والتكبير (سمع اللہ لمن حمدہ  کہنااور تکبیر) مصنف: شادي المصريمترجم : محمد طلحہ بن فرید المالکیماخذ: الفواكه الدواني على رسالة ابن أبي زيد القيرواني، اخضري، ابن عاشر، شرح العشماوية مزید معلومات کے لیے: مالکی فقہ کا مطالعہ کریں Arkview.org پر۔ ابن عاشر کا ترجمہ اور شرح SharhApp.com پر پڑھیں۔ اردو میں متن ابن عاشر اور دیگر فقہی کتب پڑھنے کے لئے یہاں کلک کیجئے۔ [...]
اگر کوئی شخص حج یا عمرہ کے احرام سے نکلنے کے لیے اپنا سر منڈوانا نہ چاہے، تو دونوں جنسوں (مرد اور عورت) کے لیے لازم ہے کہ پورے سر سے بال کاٹیں۔ مرد کے لیے بہتر یہ ہے کہ بالوں کو سر کی جڑوں کے قریب تک کاٹ دیا جائے۔ اگر مرد صرف ایک انگلی کے برابر لمبائی (تقریباً ایک انچ) میں بال کاٹ لے، تب بھی یہ کافی ہے، جیسا کہ حبیب بن طاہر کے قول سے ظاہر ہوتا ہے۔ عورت کے لیے صرف ایک انگلی کے برابر بال کاٹنا کافی ہے۔ خلیل فرماتے ہیں: ماخذ: ثم حلقه ولو بنورة إن عم رأسه والتقصير مجز وهو سنة المرأة: تأخذ قدر الأنملة والرجل من قرب أصله تحریر: شادِی المصرِینظرثانی: رامی نصور [...]
عید الاضحیٰ کے موقع پر ہر شخص (جو غلام نہ ہو) کے لیے سنت مؤکدہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے قربانی کرے۔ کسی قربانی کی قیمت کو دوسروں کے ساتھ تقسیم کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر کئی لوگ مل کر ایک قربانی خریدیں تو یہ قربانی ان میں سے کسی کے لیے بھی درست نہیں ہوگی۔ (یہ محض ایک عام صدقہ شمار ہوگا، قربانی نہیں۔) البتہ، ایک شخص اپنی قربانی کے اجر کو دوسروں کے ساتھ شریک کرنے کی نیت کر سکتا ہے، لیکن اس کے لیے کچھ شرائط ہیں: وہ شخص ایک ہی گھرانے میں رہتا ہو۔ وہ شخص کسی طرح اس کا رشتہ دار ہو، جیسے بیوی یا بیٹا۔ وہ شخص قربانی کرنے والے کا مالی طور پر محتاج ہو۔ حوالہ: مختصر خلیل تحریر: ایمان صالح [...]
ذبح کے شرائط ________________________________________ تمییز (سمجھ بوجھ) جو شخص نابالغ ہو، یا مجنون، یا بیہوش، یا نشے میں ہو، اس کا ذبح کرنا درست نہیں۔ ________________________________________ اسلام یا اہل کتاب ہونا ذابح (ذبح کرنے والا) مسلمان یا اہل کتاب ہونا چاہیے۔ اہل کتاب سے مراد نصرانی (عیسائی) اور یہودی ہیں۔ مجوسی، مشرک، دہریہ، اور مرتد کی ذبیحہ درست نہیں۔ نوٹ: قربانی اور ہدی میں خصوصاً یہ شرط ہے کہ ذابح مسلمان ہو۔ لہٰذا نصرانی یا یہودی کا ذبح شدہ جانور قربانی یا ہدی میں درست نہیں۔ ________________________________________ وہ حصے کاٹنا جو ذبیحہ کے لیے ضروری ہیں ذکاة میں جو حصہ قطع کرنا واجب ہے، اسے حلقوم میں ذبح کرنا ضروری ہے۔ اس میں پورا حلقوم اور ودجان کا قطع کرنا لازم ہے۔ حلقوم وہ نالی ہے جس سے سانس گزرتا ہے، اس کا کچھ حصہ کاٹنا کافی نہیں ہوتا۔ ودجان گردن کے دونوں طرف کی دو رگیں ہیں جو جسم کی زیادہ تر رگوں سے جڑی ہوتی ہیں اور دماغ سے بھی منسلک ہیں۔ اگر ان میں سے ایک کو کاٹا جائے اور دوسرے کو یا اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا جائے تو ذبیحہ کھانے کے قابل نہیں ہوگی۔ لیکن مرئ، جسے بَلْعوم کہتے ہیں، جو حلقوم کے نیچے ایک سرخ رگ ہے اور منہ اور معدے کے سر سے جڑی ہوتی ہے، اسے کاٹنا شرط نہیں ہے۔ یہ حصہ کھانا معدے تک پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ امام شافعی نے اسے شرط قرار دیا ہے۔ ________________________________________ کاٹنے کی جگہ قطع کا آغاز گردن کے اگلے حصے (مقدم) سے ہونا چاہیے، پس گردن کے پچھلے حصے (قفا) سے ذبح کرنا کافی نہیں۔ البتہ اگر ذبح گردن کی ایک جانب سے شروع کیا جائے اور چھری کو دوسری جانب کی طرف جھکا دیا جائے، تو ذبیحہ کھایا جا سکتا ہے — بشرطیکہ ذبح کے آغاز میں نُخاع نہ کاٹا گیا ہو، یعنی وہ نس جو گردن کو ریڑھ کی ہڈی (سلسلة الظهر) سے جوڑتی ہے، وہ حلقوم اور ودجان تک پہنچنے سے پہلے نہ کٹی ہو۔ اور اگر کسی نے چھری کو پلٹ کر اسے ودجان اور حلقوم کے نیچے داخل کیا اور ان کو کاٹ دیا، تو سحنون اور دیگر فقہاء نے فرمایا کہ ایسا ذبیحہ کھایا نہیں جائے گا، جیسا کہ جاہل لوگ پرندوں کو ذبح کرتے وقت اکثر ایسا کرتے ہیں۔ ________________________________________ ذبح کرنے کا آلہ ذبح ایسے آلے سے ہونا چاہیے جو تیز دھار رکھتا ہو، خواہ وہ آلہ لوہے کا ہو یا کسی اور چیز کا، جیسے شیشہ، پتھر، یا بوص (نیزہ نما لکڑی) — بشرطیکہ اس میں کاٹنے کی صلاحیت ہو۔ لیکن دانت یا ناخن سے ذبح کرنا جائز نہیں، چاہے وہ ذابح کے جسم سے جُڑا ہو یا جدا ہو۔ اسی طرح ایسا آلہ جو دباؤ ڈالنے والا ہو (مثقّل)، جیسے پتھر سے مار کر یا سر کو کچل کر جانور کو مارنا، یا صرف دانتوں سے پھاڑ کر یا ہاتھ سے ہی گردن توڑ دینا — ان تمام صورتوں میں ذبح جائز نہیں۔ ________________________________________ ذبح کا طریقہ ذابح کو چاہیے کہ وہ ذبح کے دوران آلہ (چاقو وغیرہ) نہ اٹھائے جب تک ذبح مکمل نہ ہو جائے۔ اگر اس نے آلہ اٹھا لیا اور درمیان میں فاصلہ زیادہ ہو گیا، تو ذبیحہ کسی بھی حال میں حلال نہیں ہوگی — چاہے اس نے یہ وقفہ اختیاراً کیا ہو یا اضطراراً مجبوری سے۔ لیکن اگر وقفہ زیادہ نہ ہو تو کوئی حرج نہیں، اور یہ “زیادہ” یا “کم” ہونے کا معیار عرف (عام لوگوں کی عادت و فہم) پر ہے۔ یہ حکم اس صورت میں ہے جب ذبح کے دوران جانور کے کچھ قاتل اعضاء ) مقاتل) کٹ چکے ہوں۔ لیکن اگر پہلے ذبح میں مقاتل میں سے کچھ بھی نہ کٹا ہو، تو پھر کسی بھی صورت میں وقفہ نقصان دہ نہیں، کیونکہ اس وقت دوسری ذبح پہلی سے بالکل الگ سمجھی جائے گی۔، لہٰذا اگر وقفہ طویل ہو، تو دوسری مرتبہ ذبح کرتے وقت نئی نیت اور تسمیہ (بسم اللہ) دوبارہ کہنا لازم ہوگا۔ کیا لیکن فاصلہ زیادہ نہ ہو تو نیت اور تسمیہ دوبارہ ضروری نہیں۔ ________________________________________ ذابح کی نیت قطع کرنے کے وقت ذابح کی نیت اس ذبح کی ادائیگی کی ہونی چاہیے، یعنی جانور کو حلال کرنے کی نیت کے ساتھ ذبح کرے۔ اگر نیت صرف جانور کو مارنے کی ہو یا صرف ضرب لگانے کی ہو چاہے قطع ذبح کے مقام پر ہی ہو، یا قطع کرنے والا ذابح غیر متمیز (جیسے بیمار یا دیوانہ) ہو، تو ایسی ذبیحہ کھانے کے قابل نہیں ہوگی۔________________________________________ نوٹ: • اونٹ کی ذکاة میں نحر کرنا سنت ہے، اور ضرورت کے وقت اس کا ذبح کرنا جائز ہے۔ • بھیڑ کی ذکاة میں ذبح کرنا سنت ہے، اور ضرورت کے وقت اس کا نحر کرنا جائز ہے۔ • گائے کی ذکاة میں ذبح کرنا سنت ہے، لیکن نحر کرنا بھی بغیر ضرورت جائز ہے۔ • جو شخص بغیر ضرورت اور بغیر سنت کے (مثلاً اونٹ کو ذبح کے بجائے نحر کرے، یا بھیڑ کو نحر کے بجائے ذبح کرے) ذبح کرے، تو فقہا میں اس بارے اختلاف ہے: o بعض نے کہا کہ ایسا ذبیحہ حرام ہے اور کھایا نہیں جا سکتا۔ o بعض نے اسے صرف کراہت سمجھا ہے۔ [...]
استاذ: بشیر بن بابا علی ولد بابا علی فقہ امام مالکؒ کے مطابق باب: احکامِ صیام جو شخص روزے کی حالت میں قے سے مغلوب ہو جائے، اس کا کیا حکم ہے؟ اور کیا وہ قے کے سبب روزہ ٹوٹ جانے کے بعد کھا پی سکتا ہے؟ الحمد لله، والصلاة والسلام على رسول الله، وعلى آله وصَحْبِه ومَن والاه، أمَّا بعدُ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو اللہ کے رسول، ان کے آل اور صحابہ پر، اور جو ان کے طریقے پر چلے، اما بعد۔ پہلی بات: جسے قے غلبہ کر جائے، اگر وہ اس کے حلق میں واپس نہ جائے، یا واپس جائے لیکن حلق تک پہنچنے سے پہلے رک جائے، تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں، اور اس کا روزہ صحیح ہے۔ دوسری بات: اس پر کوئی قضاء نہیں، نہ وجوباً اور نہ ہی استحباباً، چاہے وہ بیماری کی وجہ سے ہو یا معدے کے بھرنے کی وجہ سے، اور چاہے وہ کھانے کی حالت سے تبدیل ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، یہ اس وقت ہے جب اسے معلوم ہو کہ کچھ بھی واپس جا کر حلق میں نہیں پہنچا۔ تیسری بات: اگر کسی کو قے غلبہ کر جائے اور وہ اس کے حلق میں واپس چلی جائے، خواہ مغلوب ہو یا غیر مغلوب، اور وہ بھول چکا ہو، تو اس میں اختلاف ہے: پہلا قول: امام مالک سے ابن ابی اویس نے “المبسوط” میں روایت کیا ہے کہ اگر کچھ واپس جائے، تو اس پر قضاء لازم ہوگی، خواہ اس نے اسے نگلا نہ ہو۔ دوسرا قول: امام مالک نے “مختصر ما لیس في المختصر” میں فرمایا کہ اگر وہ بھول گیا ہو تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں۔ امام اللخمی فرماتے ہیں: صحیح یہ ہے کہ دیکھا جائے، اگر قے زبان تک پہنچ گئی ہو اور وہ اسے باہر نکال سکتا تھا لیکن اس نے اسے نگل لیا، تو اس پر قضاء لازم ہوگی۔ اور اگر وہ ایسے مقام تک نہ پہنچی ہو جہاں سے وہ اسے باہر نکال سکتا، تو اس پر کچھ بھی لازم نہیں۔ چوتھی بات: اگر قے منہ تک پہنچنے کے بعد اس نے جان بوجھ کر اسے دوبارہ اندر لے لیا، تو اس پر قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔ نوٹ: جسے قے غلبہ کر جائے، وہ زبردستی باہر نکلتی ہے، اس لیے وہ اس کے حلق میں واپس جانے سے محفوظ ہوتا ہے۔ اور چونکہ اس کا اس میں کوئی اختیار نہیں، تو یہ احتلام کے مشابہ ہے۔ پانچویں بات: جسے قے غلبہ کر جائے، اس کے بعد کھانا پینا جائز نہیں۔ اور جو شخص ایسا جان بوجھ کر کرے یا لاعلمی میں کرے، اس پر قضاء اور کفارہ دونوں لازم ہوں گے۔ واللہ سبحانہ وتعالیٰ اعلم [...]
❓ هل تؤم المرأة النساء في العشاء والتراويح عند المالكية؟ کیا مالکیہ کے ہاں عورت عشاء اور تراویح میں عورتوں کی امامت کر سکتی ہے؟ جواب: 🔹  مشهور مذهب المالكية أن المرأة لا تؤم مطلقا لا في فرض و لا في نفل لا رجالا ولو أهل بيتها ومحارمها و لا نساء و لا صبيانامالکیہ کے مشہور مذهب کے مطابق عورت کبھی بھی امام نہیں بن سکتی، نہ فرض نماز میں نہ نفل نماز میں، چاہے وہ اپنے گھر والوں اور محارم کے لیے ہو، نہ عورتوں اور نہ بچوں کے لیے۔ 📖  قال الشيخ ابن أبي زيد القيرواني في الرسالة” و لا تؤم المرأة في فريضة و لا نافلة لا رجالا و لا نساء”شیخ ابن ابی زید القیروانی نے الرسالہ میں فرمایا “عورت نہ فرض نماز میں اور نہ نفل نماز میں امام نہیں بن سکتی، نہ مردوں کے لیے اور نہ عورتوں کے لیے۔” 📜  وعليه نص خليل في المختصر..و قال الشيخ الددردير في الشرح الكبير عند الكلام عمن لا تصح إمامته لغيره ” (أو) بان (امرأة) ولو لمثلها في فرض أو نفل”اس کے مطابق خلیل نے المختصر میں نص قائم کیا ہے، اور شیخ الددردیر نے الشرح الکبیر میں ان لوگوں کے متعلق فرمایا جن کی امامت صحیح نہیں “(یا) اگر وہ (عورت) ہو، خواہ اپنے جیسے کسی عورت کے لیے ہو، فرض یا نفل نماز میں۔” 📌  وفي حاشية الدسوقي:”(قوله في فرض أو نفل) أي ولو مع فقد رجل يؤتم به.”اور حاشیہ دسوقی میں آیا ہے: “(قوله في فرض أو نفل) یعنی چاہے ایسا کوئی مرد نہ ملے جس سے امامت کی جا سکے۔”  ⚠️فإن اجتمعت جماعة من النساء في فريضة أو في نافلة تطلب لها الجماعة كالتراويح و لم يجدن إماما ذكرا صلين منفردات ، فإن أمتهن إحداهن لم تصح صلاتهن و وجب عليهن قضاء الفريضة مطلقا…اگر خواتین کی جماعت فرض یا نفل نماز کے لیے جمع ہو جیسے تراویح اور انہیں کوئی مرد امام نہ ملے، تو اگر انہوں نے کسی ایک عورت کی امامت کی تو ان کی نماز درست نہیں ہوگی اور ان پر فرض نماز کی قضا واجب ہوگی… 💡  هذا قول المالكية وهو قول الحسن البصري وسليمان بن يسار ومروي عن سيدنا علي بن ابي طالب وعن نافع مولى ابن عمریہ مالکیہ کا قول ہے، اور یہی حسن بصری، سلیمان بن یسار کا قول ہے، اور یہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور نافع مولیٰ ابن عمر سے مروی ہے۔  ⚖️ وعندنا في المذهب قول آخر :اور ہمارے مذهب میں ایک اور قول بھی ہے:  🔸 وهو جواز إمامتها للنساء رواه ابن أيمن القرطبي عن مالك وهي رواية ضعيفة اختارها اللخمي عند عدم وجود من يؤمهن من الرجال ، ورجحها الرجراجي في مناهج التحصيل لأن النظر في الأدلة يوافقها عنده.جو کہ خواتین کی امامت کی جوازیت ہے، جسے ابن ایمن القرطبي نے مالک سے روایت کیا ہے؛ یہ ایک ضعیف روایت ہے جسے اللخمی نے اس وقت اختیار کیا جب مرد امامت کے لیے موجود نہ ہوں، اور رجراجی نے مناہج التحصیل میں اسے ترجیح دی کیونکہ ان کے نزدیک دلائل اس کے موافق ہیں۔  🔸 وهذا يوافق قول الجمهور بجواز إمامتها للنساء في الفرض والنفل مع الكراهة عند الحنفية ، وذهب عدد من الفقهاء إلى جواز إمامتها لهن في النفل دون الفرض وتقف إن أمت في وسطهم ولا تتقدم.اور یہ جمهور کا قول سے مطابقت رکھتا ہے کہ خواتین کی امامت فرض و نفل دونوں میں جواز رکھتی ہے، اگرچہ الحنفی کے نزدیک اس پر کراهت ہے؛ اور کئی فقہاء نے نفل میں ان کی امامت کو جواز قرار دیا، بشرطِ یہ کہ اگر عورت امامت کرے تو وہ صف کے درمیان کھڑی ہو اور آگے نہ بڑھے۔ 📌  دلائلِ الجمهور: 📖 حديث أم ورقة بنت نوفل: حديث أم ورقة بنت نوفل: أن النبي -صلى الله عليه وسلم- “كان يزورها في بيتها وجعل لها مؤذنا يؤذن لها، وأمرها أن تؤم أهل دارها” رواه النسائي وأحمد حدیث ام ورقة بنت نوفل: کہ نبی ﷺ ان کے گھر تشریف لاتے تھے، اور ان کے لیے ایک مؤذن مقرر کیا تھا جو انہیں اذان دیتا تھا، اور ان سے حکم کیا کہ وہ اپنے گھر والوں کی امامت کریں۔ (روایت: امام نسائی اور احمد) 📖 أثر عائشة رضي الله عنها: أثر عائشة رضي الله عنها “أنها صلت بنسوة العصر فقامت وسطهن” ، وفي رواية ريطة الحنفية “أن عائشة رضي الله عنها “أمتهن وقامت بينهن في صلاة مكتوبة” رواه ابن حزماثر عائشہ رضی اللہ عنہا: کہ انہوں نے عصر کی نماز خواتین کے ساتھ پڑھیں اور صف کے درمیان کھڑی ہوئیں؛ اور ریطة الحنفیہ کی روایت میں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی امامت کی اور ان کے درمیان نماز پڑھیں۔ (روایت: ابن حزم) 📖 ما روته حجيرة عن أم سلمة: ما روته حجيرة عن أم سلمة أنها “أمتهن فقامت وسطا حجیرہ کی روایت: کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ان کی امامت کی اور وہ صف کے درمیان کھڑی ہوئیں۔  ⚠️ وهذه الأحاديث مختلف فيها كلها لا تسلم من طعن في أسانيدها ولم ترو في الصحيحيناور یہ تمام احادیث ایک دوسرے سے مختلف ہیں، جن کی اسناد پر اعتراض کیا گیا ہے، اور یہ صحیحین میں روایت نہیں ہوئی ہیں۔ دلائلِ المالکیہ: قول مالك في المدونة : “لا تؤم المرأة” هكذا باطلاق وفي روايات أخرى جاء مفصلا لاتؤم الرجال والنساء ,وقد يكون ذلك مستندا لعمل أهل المدينة. مالک کا قول المدونة میں: “لا تؤم المرأة.” یعنی عورت امام نہیں بن سکتی؛ یہ باطلاق اور دوسری روایات میں مفصل بیان ہوا کہ عورت نہ مردوں اور نہ عورتوں کی امامت کر سکتی، اور یہ ممکن ہے کہ یہ موقف مدینہ کے عمل پر مبنی ہو۔ واستدلوا بعموم ما ورد في تأخير المرأة في الصفوف ومن باب أولى الإمامة ، وما ورد في عدم توليتها فيدخل في ذلك ولاية الصلاة. اور انہوں نے اس دلیل سے استدلال کیا کہ عورت کو صفوں میں پیچھے رکھنے کی عمومی روایت موجود ہے، اور ساتھ ہی یہ کہ اس کی ولایت نہ سنبھالنے کی بھی روایت ہے جو امامت میں شامل ہے۔ استدلوا بأثر عن سيدنا علي بن أبي طالب:” لا تؤم المرأة” رواه ابن أبي شيبة وفيه عموم النهي عن إمامتها. انہوں نے ہمارے سردار علی بن ابی طالب کا اثر پیش کیا کہ “لا تؤم المرأة.” (روایت ابن ابی شیبہ) جس میں امامت سے متعلق عمومی منع ظاہر ہے۔ واستدلوا بما ورد عن نافع مولى ابن عمر رضي الله عنهما كما ففي مصنف ابن أبي شيبة :”عن ابن عون، قال: كتبت إلى نافع أسأله أتؤم المرأة النساء؟ فقال: لا أعلم المرأة تؤم النساء” انہوں نے نافع مولیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت سے بھی استدلال کیا، جیسا کہ ابن ابی شیبہ کے مصنف میں آیا ہے: “عن ابن عون، قال: كتبت إلى نافع أسأله أتؤم المرأة النساء؟ فقال: لا أعلم، المرأة تؤم النساء.” من حيث النظر قالوا أن من شروط الإمامة الذكورية ولا وجه للتفريق بين ان يكون ذلك لجماعة الرجال أو للنساء فكل من لا تصح إمامته للرجال لا تصح للنساء نظری لحاظ سے انہوں نے کہا کہ امامت کی شرائط میں مردانہ ہونا ایک شرط ہے اور اس میں فرق نہیں پڑتا کہ جماعت مردوں کی ہو یا عورتوں کی؛ لہٰذا جو شخص مردوں کی امامت کے قابل نہیں وہ عورتوں کی امامت کے قابل بھی نہیں۔  📌 خلاصہ:  ✔️ العمل بمشهور المذهب في البلاد المالكية هو الصواب والله أعلم ، وللخروج من الخلاف في المسألة وخاصة في الفريضة فإذا اجتمعت نساء صلين الفريضة منفردات وهذا أحوط فإن صلاتهم منفردات متفق على صحتها ، وصلاتهن جماعة بإمامة إحداهن مختلف فيها والخروج من الخلاف مستحب مع التسليم بوجود خلاف معتبر في المسألة.مالکیہ میں مشہور مذهب پر عمل کرنا ہی صحیح ہے، اللہ بہتر جانتا ہے؛ اور اختلاف سے بچنے کے لیے، خصوصاً فرض نماز میں، اگر خواتین کی جماعت منفرد نماز ادا کرے (جو سب کے لیے محفوظ تر ہو) کیونکہ انفرادی نماز کی صحت پر اتفاق ہے؛ جبکہ جماعت میں امامت کے حوالے سے اختلاف پایا جاتا ہے۔ 📌  ولكن الاولى السير على مذهب أهل البلد وقد أفتى بذلك المجلس العلمي الاعلى بالمغرب.لیکن سب سے بہتر یہی ہے کہ مقامی مذهب کے مطابق عمل کیا جائے، جیسا کہ المغرب میں اعلیٰ علمی مجلس نے اس پر فتویٰ دیا ہے۔ 📌  هذا في إمامة المرأة للنساء ، أما إمامتها للرجال فلا تصح باتفاق المذاهب الأربعة ، وما روي عن الطبري وأبي ثور في جواز ذلك مهجور متروك ..یہ خواتین کی امامت کے حوالے سے ہے؛ جبکہ مردوں کی امامت کے لیے عورت کی امامت تمام چار مذاہب کے اتفاق سے قبول نہیں کی جاتی، اور الطبری اور ابی ثور کی جانب سے دی گئی روایت اس جواز میں مهجور متروک ہے۔ 📌  إلا إنه قال بعض فقهاء الحنابلة بجواز إمامتها لأهل بيتها ومحارمها واستدلوا بحديث أم ورقة وأجاب الجمهور على التسليم بصحته: أنه حادثة عين لا تعمم .البتہ، کچھ حنابلی فقہاء نے اہلِ بیت اور محارم کے لیے عورت کی امامت کو جواز قرار دیا، اور حدیث ام ورقة سے استدلال کیا، جبکہ الجمهور نے اس کی صحت تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مخصوص واقعہ ہے جو عام نہیں ہوتا۔  📜 والله أعلم.اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ ✍️الشيخ الفقيه نضال الشايب [...]
عربی متن اردو ترجمہ باب ما جاء عن السلف والعلماء في الرجوع إلى عمل أهل المدينة باب: سلف صالحین اور علماء سے منقول احادیث جوعملِ اہلِ مدینہ کی پیروی کے بارے میں ہیں في وجوب الرجوع إلى عمل أهل المدينة وكونه حجة عندهم وإن خالف الأكثر عملِ اہلِ مدینہ کی پیروی کے وجوب اور ان کے نزدیک اس کے حجت ہونے کے متعلق، چاہے یہ جمہور کے خلاف کیوں نہ ہو روي أن عمر بن الخطاب رضي الله تعالى عنه قال على المنبر: احرج بالله على رجل روى حديثًا العمل على خلافه. روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر فرمایا: “میں اللہ کا واسطہ دے کر اُس شخص کو روکتا ہوں جو ایسی حدیث بیان کرے عمل جس کے خلاف ہو۔“ قال ابن القاسم وابن وهب رأيت العمل عند مالك أقوى من الحديث ابن قاسم اور ابن وہب نے کہا: “ہم نے امام مالک کے نزدیک عمل کو حدیث سےزیادہ مضبوط(مقدم)  پایا۔“ قال مالك: وقد كان رجال من أهل العلم من التابعين يحدثون بالأحاديث وتبلغهم عن غيرهم فيقولون ما نجهل هذا ولكن مضى العمل على غيره. امام مالک نے فرمایا: “تابعین میں سےکچھ  اہل علم افراد ایسے تھے جو احادیث روایت کرتے تھے، لیکن جب انہیں دوسرے لوگوں سے یہ علم ہوتا کہ عمل اس حدیث کے برخلاف ہے، تو وہ کہتے: ‘ہم اس حدیث سے ناواقف نہیں ہیں، لیکن عمل اس کے مخالف ہے۔‘” قال مالك: رأيت محمد بن أبي بكر ابن عمر بن حزم وكان قاضيًا، وكان أخوه عبد الله كثير الحديث رجل صدق. امام مالک نے کہا: “میں نے محمد بن ابی بکر ابن عمر بن حزم کو دیکھا جو قاضی تھے، اور ان کے بھائی عبداللہ بہت سی احادیث جاننے والے، سچے انسان تھے۔“ فسمعت عبد الله إذا قضى محمد بالقضية قد جاء فيها الحديث مخالفًا للقضاء يعاتبه، ويقول له: ألم يأت في هذا حديث كذا؟ فيقول بلى. فيقول أخوه فما لك لا تقضي به؟ فيقول فأين الناس عنه، يعني ما أجمع عليه من العلماء بالمدينة، يريد أن العمل بها أقوى من الحديث. میں نے عبداللہ کو سنا جب محمد کوئی ایسا فیصلہ کرتے جس کے متعلق حدیث موجود ہوتی لیکن وہ اس کے خلاف فیصلہ کرتے، تو عبداللہ ان سے ملامت کرتے اور کہتے: ‘کیا اس بارے میں یہ حدیث نہیں آئی؟‘ محمد جواب دیتے: ‘ہاں، لیکن اس پر(عمل کرنے والے)  لوگ کہاں ہیں؟ ‘ یعنی علماء مدینہ کا اجماع اس حدیث پر عمل سے زیادہ مضبوط ہے۔ قال ابن المعذل سمعت إنسانًا سأل ابن الماجشون لمَ رويتم الحديث ثم تركتموه؟ قال: ليعلم أنا على علم تركناه. ابن معذل نے کہا: “میں نے کسی کو ابن ماجشون سے یہ سوال کرتے سنا: ‘تم نے حدیث بیان کی اور پھر اسے کیوں ترک کیا؟‘ انہوں نے جواب دیا: ‘تا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ ہم نے علم کے ساتھ اسے ترک کیا۔'” قال ابن مهدي: السنة المتقدمة من سنة أهل المدينة خير من الحديث. وقال أيضًا إنه ليكون عندي أو نحوه. ابن مہدی نے کہا: “اہل مدینہ کی متقدمہ(پہلے لوگوں کی)  سنت حدیث سے بہتر ہے۔“ انہوں نے مزید کہا:” یہی میرے نزدیک ہے یا اس کے قریب کچھ۔” وقال ربيعة ألف عن ألف أحب إلي من واحد عن واحد لأن واحدًا واحد ينتزع السنة من أيديكم. ربیعہ نے کہا: “ہزار آدمیوں کی روایت ایک آدمی کی روایت سے زیادہ پسندیدہ ہے، کیونکہ ایک آدمی کی روایت سنت کو تمہارے ہاتھ سے نکال سکتی ہے۔“ قال ابن أبي حازم كان أبو الدرداء يسأل فيجيب فيقال أنه بلغنا كذا وكذا بخلاف ما قال. فيقول: وأنا قد سمعته ولكني أدركت العمل على غير ذلك. ابن ابی حازم نے کہا: “حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے کوئی مسئلہ پوچھا جاتا اور وہ جواب دیتے، پھر کہا جاتا: ‘ہمیں اس کے خلاف یہ اور یہ روایت پہنچی ہے۔‘” وہ جواب دیتے: ‘میں نے بھی یہ حدیث سنی ہے، لیکن میں نے اس کے برخلاف عمل پایا ہے۔'” قال ابن أبي الزناد كان عمر بن عبد العزيز يجمع الفقهاء ويسألهم عن السنن والأقضية التي يعمل بها فيثبتها وما كان منه لا يعمل به الناس ألغاه، وإن كان مخرجه من ثقة. ابن ابی الزناد نے کہا: “حضرت عمر بن عبدالعزیز فقہاء کو جمع کرتے اور ان سے اُن سنن اور فیصلوں کے بارے میں سوال کرتے جن پر لوگ عمل کر رہے تھے، اور انہیں محفوظ کر لیتے۔ اور جو عمل میں نہ ہوتا، اگرچہ وہ ثقہ راوی سے منقول ہوتا، اسے ترک کر دیتے۔“ وقال مالك: انصرف رسول الله ﷺ من غزوة كذا في نحو كذا، وكذا ألفًا من الصحابة، مات بالمدينة منهم نحو عشرة آلاف وباقيهم تفرق بالبلدان. فأيهما أحرى أن يتبع ويؤخذ بقولهم؟ من مات عندهم النبي ﷺ وأصحابه الذين ذكرت؟ أو مات عندهم واحد أو اثنان من اصحاب النبي ﷺ؟ امام مالک نے فرمایا: “رسول اللہ ﷺ فلاں غزوہ سے واپس آئے، اور آپ کے ساتھ اتنے اور اتنے صحابہ تھے۔ ان میں سے تقریباً دس ہزار نے مدینہ میں وفات پائی، اور باقی دنیا کے مختلف شہروں میں بکھر گئے۔“   تو کون زیادہ حقدار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے؟ وہ لوگ جن کے درمیان رسول اللہ ﷺ اور آپ کے صحابہ نے وفات پائی یا وہ جن کے پاس نبی ﷺ کے ایک یا دو صحابہ موجود تھے؟” قال عبيد الله بن عبد الكريم: قبض رسول الله ﷺ عن عشرين ألف عين تطرف. عبیداللہ بن عبد الکریم نے کہا: “رسول اللہ ﷺ نے اس دنیا سے پردہ فرمایا اور آپ کے بعد بیس ہزار آنکھیں جھپک رہی تھیں (یعنی بیس ہزار صحابہ موجود تھے)۔“   ماخذ : ترتيب المدارك و تقريب المسالك لمعرفة أعلام مذهب مالك [...]
اردو ترجمہ عربی متن مالک بن انس رضی اللہ تعالٰی عنہ  کا خط لیث بن سعد رضی اللہ تعالی عنہ کے نام رسالة مالك إلى الليث بن سعد في هذا مالک بن انس کی طرف سے لیث بن سعد کے نام۔ من مالك بن أنس إلى الليث بن سعد السلام علیکم، میں اُس اللہ کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ سلام عليكم، فإني أحمد الله إليك الذي لا إله إلا هو. بعد ازاں، اللہ ہمیں اور آپ کو اپنی اطاعت میں پوشیدہ اور ظاہر دونوں حالتوں میں محفوظ رکھے اور ہم دونوں کو ہر ناپسندیدہ چیز سے عافیت عطا فرمائے۔ أما بعد عصمنا الله وإياك بطاعته في السر والعلانية وعافانا وإياك من كل مكروه. جان لیجئے، اللہ آپ پر رحم فرمائے، کہ مجھے یہ اطلاع ملی ہے کہ آپ لوگوں کو ایسے مسائل میں فتوی دیتے ہیں جو ہمارے یہاں اہل مدینہ کے عمل کے خلاف ہیں۔ اعلم رحمك الله أنه بلغني أنك تفتي الناس بأشياء مخالفة لما عليه جماعة الناس عندنا اور آپ کی امامت، فضیلت، اور اپنے شہر کے لوگوں میں آپ کے مقام و مرتبہ کے پیش نظر، وببلدنا الذي نحن فيه وأنت في إمامتك وفضلك ومنزلتك من أهل بلدك اور ان لوگوں کی آپ سے وابستگی اور انحصار کے سبب جو آپ سے رجوع کرتے ہیں، وحاجة من قبلك إليك واعتمادهم على ما جاءهم منك، آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنے بارے میں خوف کریں اور اس راستے کی پیروی کریں جس میں نجات کی امید ہو۔ حقيق بأن تخاف على نفسك وتتبع ما ترجو النجاة باتباعه، بے شک اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فإن الله تعالى يقول في كتابه: "اور مہاجرین اور ان کے مددگار (انصار) میں سے سبقت لے جانے والے" والسابقون الأولون من المهاجرين والأنصار. (التَّوْبَة، 9 : 100) الآية. اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وقال تعالى: " پس آپ میرے بندوں کو بشارت دے دیجئےo جو لوگ بات کو غور سے سنتے ہیں، پھر اس کے بہتر پہلو کی اتباع کرتے ہیں" فبشر عبادي الذين يستمعون القول فيتبعون أحسنه…. (الزُّمَر، 39 : 17-18) الآية. بے شک لوگ اہل مدینہ کے پیروکار ہیں، فإنما الناس تبع لأهل المدينة، وہیں ہجرت کی گئی اور وہیں قرآن نازل ہوا، إليها كانت الهجرة وبها نزل القرآن وہیں حلال کو حلال اور حرام کو حرام قرار دیا گیا وأحل الحلال وحرم الحرام جب رسول اللہ ﷺ ان کے درمیان موجود تھے اور وحی اور نزول ان کے سامنے ہو رہا تھا۔ إذ رسول الله بين أظهرهم يحضرون الوحي والتنزيل اور وہ انہیں حکم دیتے تھے تو وہ ان کی اطاعت کرتے، اور ان کے لیے سنت قائم کرتے تو وہ اس کی پیروی کرتے۔ ويأمرهم فيطيعونه ويسن لهم فيتبعونه، یہاں تک کہ اللہ نے آپ ﷺ کو اپنے پاس بلا لیا اور آپ کو اپنی رحمت اور برکات سے نوازا۔ حتى توفاه الله واختار له ما عنده صلوات الله عليه ورحمته وبركاته. پھر آپ ﷺ کے بعد اُن لوگوں نے آپ ﷺ کی پیروی کی، جنہوں نے خلافت سنبھالی۔ ثم قام من بعده أتبع الناس له من أمته ممن ولي الأمر من بعده تو جو کچھ اُن پر نازل ہوا، جس کا انہیں علم تھا، انہوں نے اس پر عمل کیا۔ فما نزل بهم مما علموا أنفذوه، اور جس چیز کا اُن کے پاس علم نہیں تھا، اُس کے بارے میں انہوں نے پوچھا۔ وما لم يكن عندهم فيه علم سألوا عنه، اور پھر اجتہاد اور اپنے تازہ تجربات کی بنیاد پر جو مضبوط ترین رائے ملی، اسے اختیار کیا۔ ثم أخذوا بأقوى ما وجدوا في ذلك في اجتهادهم وحداثة عهدهم، اگر کوئی مخالف انہیں غلط کہتا یا کوئی اور کہتا کہ دوسری رائے زیادہ قوی ہے، تو وہ اُس کی بات کو ترک کر دیتے اور اس کے بجائے مدینہ والوں کے عمل کو ترجیح دیتے۔ وإن خالفهم مخالف أو قال امرؤ غيره أقوى منه وأولى ترك قوله وعمل بغيره، پھر تابعین بھی اسی طریقے پر چلے اور ان سنتوں کی پیروی کی۔ ثم كان التابعون من بعدهم يسلكون تلك السبيل ويتبعون تلك السنن، پس اگر مدینہ میں کوئی مسئلہ واضح طور پر عمل میں ہو تو میں کسی کو اس کے خلاف نہیں دیکھتا۔ فإذا كان الأمر بالمدينة ظاهرًا معمولًا به لم أر لأحد خلافه کیونکہ یہ وہ وراثت ہے جس کا دعویٰ یا انتحال کسی کے لیے جائز نہیں ہے۔ للذي في أيديهم من تلك الوراثة التي لا يجوز لأحد انتحالها ولا ادعاؤها، اور اگر دوسرے شہروں کے لوگ یہ کہیں کہ "یہ ہمارا عمل ہے" اور "یہی وہ طریقہ ہے جس پر ہمارے بزرگ چلے ہیں"۔ ولو ذهب أهل الأمصار يقولون هذا العمل ببلدنا وهذا الذي مضى عليه من مضى منا، تو انہیں اس میں کوئی یقین حاصل نہیں ہوگا، اور نہ ہی ان کے لیے وہ چیز جائز ہوگی۔ لم يكونوا من ذلك على ثقة، ولم يكن لهم من ذلك الذي جاز لهم. پس دیکھو، اللہ تم پر رحم فرمائے، اس بات پر جو میں نے تمہارے لیے اپنے بارے میں لکھا ہے۔ فانظر رحمك الله فيما كتبت إليك فيه لنفسك اور جان لیجیے کہ میرا مقصد اس مکتوب میں صرف اللہ کی خاطر نصیحت اور آپ کی بھلائی ہے۔ واعلم أني أرجو أن لا يكون دعائي إلى ما كتبت به إليك إلا النصيحة لله تعالى وحده، اور آپ پر میرا جو گمان ہے، اس کو دیکھتے ہوئے، میرے خط کو اُس کی صحیح قدر کے مطابق قبول کریں۔ والنظر لك والظن بك، فانزل كتابي منك منزلته، کیوں کہ اگر آپ ایسا کریں گے تو آپ جان جائیں گے کہ میں نے آپ کو نصیحت کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ فإنك إن فعلت تعلم أني لم آلك نصحًا. اللہ ہمیں اور آپ کو ہر معاملے میں اپنی اور اپنے رسول ﷺ کی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ وفقنا الله وإياك لطاعته وطاعة رسوله في كل أمر وعلى كل حال. والسلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ والسلام عليك ورحمة الله،   وكتب يوم الأحد لتسع مضين من صفر. أتينا بها على وجهها بسرد فوائدها وهي صحيحة مروية.یہ خط اتوار کے دن، نویں صفر کو لکھا گیا۔ ہم نے اس کو اس کے فوائد کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے صحیح روایت کے ساتھ نقل کیا۔   اور یہ لیث رحمہ اللہ تعالٰی کا اس خط کا جواب ہے: وكان من جواب الليث عن هذه الرسالة: آپ کو معلوم ہوا ہے کہ میں ایسے مسائل میں فتویٰ دیتا ہوں جو آپ کے علاقے کے لوگوں کے عمل کے خلاف ہیں، وإنه بلغك عني أني أفتي بأشياء مخالفة لما عليه جماعة الناس عندكم اور مجھے اپنی ذات کے بارے میں خوف کرنا چاہیے کیونکہ مجھ سے پہلے لوگوں نے میرے فتاویٰ پر انحصار کیا ہے۔ وأنه يحق علي الخوف على نفسي لاعتماد من قبلي فيما أفتيهم به، اور یہ کہ لوگ اہل مدینہ کے پیروکار ہیں، جہاں ہجرت کی گئی اور جہاں قرآن نازل ہوا۔ وأن الناس تبع لأهل المدينة التي إليها كانت الهجرة وبها نزل القرآن، آپ نے جو کچھ اس بارے میں لکھا، ان شاء اللہ، میں نے اسے قبول کیا، وقد أصبت بالذي كتبت من ذلك إن شاء الله، اور یہ بات میرے لیے ناپسندیدہ نہیں، ووقع مني بالموقع الذي لا أكره بلکہ میں علمائے مدینہ کی علمی فضیلت کو بہت زیادہ ترجیح دیتا ہوں اور ان کے فتاویٰ کو بہت اہمیت دیتا ہوں، الحمد للہ۔ ولا أشد تفضيلًا مني لعلم أهل المدينة الذين مضوا ولا آخذ بفتواهم مني والحمد لله، اور جہاں تک آپ نے رسول اللہ ﷺ کے مدینہ میں قیام اور آپ کے صحابہ کے درمیان قرآن کے نزول کا ذکر فرمایاہے، وأما ما ذكرت من مقام رسول الله ﷺ بالمدينة ونزول القرآن عليه بين ظهراني أصحابه اور جو کچھ اللہ نے انہیں سکھایا، اور یہ کہ لوگ ان کے تابع ہو گئے، یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا کہ آپ نے ذکر کیا۔ وما علمهم الله منه، وإن الناس صاروا تبعًا لهم فكما ذكرت. میں نے اس خط کو مختصر کیا اور صرف وہ باتیں بیان کیں جو ضروری تھیں۔ أنا اختصرت هذا وأتيت منها بموضع الحاجة اور توفیق اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ وبالله التوفيق. ماخذ : ترتيب المدارك و تقريب المسالك لمعرفة أعلام مذهب مالك [...]
پہلے، ایک شخص کو زمین پر نماز پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے، بجائے اس کے کہ وہ ہوا میں نماز ادا کرے، یہاں تک کہ اگر اس کے لیے نمازوں کو جمع کرنے کے اصول کے مطابق جمع کرنا پڑے۔ اگر وہ زمین پر نماز نہیں پڑھ سکتا، تو اسے چاہیے کہ وہ ہوائی جہاز کے عملے سے اجازت لے کر پیچھے جا کر قبلہ کی طرف رخ کرے اور نماز کو ممکنہ حد تک مکمل ادا کرے، یعنی رکوع اور سجدہ کے ساتھ۔ امام خلیل فرماتے ہیں: “(یہ ضروری ہے) جب تک انسان محفوظ ہو (اور قادر ہو)… کہ قبلہ کی طرف رخ کرے۔” اور وہ مزید فرماتے ہیں: “فرض نماز میں کھڑے ہونا ضروری ہے، سوائے اس کے کہ اس میں مشقت ہو۔” ایک مشقت یہ ہو سکتی ہے کہ نماز کے وقت میں پرواز کے دوران جھٹکے لگ رہے ہوں یا ہوائی کمپنی نماز کی اجازت نہ دے رہی ہو، تو اگر وہ پچھلی جگہ پر بھی نماز ادا نہ کر سکیں، تو پھر اپنی سیٹ پر بیٹھ کر بغیر قبلہ کی طرف رخ کیے نماز پڑھ سکتے ہیں۔ انہیں کوشش کرنی چاہیے کہ جہاں جہاں نماز میں کھڑے ہونے کا حکم ہے وہاں کھڑے ہو جائیں۔ رکوع کے لیے، کھڑے ہوتے ہوئے تھوڑا جھک جائیں، اور سجدے کے لیے، بیٹھے ہوئے آگے کی طرف جھک جائیں۔ راقم: استاد طارق پٹانمتصحیح: شیخ رامی نصور [...]
اسلامی متون کی مختلف طریقوں سے درجہ بندی کی جا سکتی ہے۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ انہیں تشریح کی سطح کے لحاظ سے تقسیم کیا جائے: متن (جمع: متون) – یہ وہ اصل متن ہے جس پر تبصرہ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ عموماً یہ متون مختصر اور جامع ہوتے ہیں تاکہ ان کا خلاصہ اور وضاحت ممکن ہو۔ شرح (جمع: شروح) – یہ متن کی تشریح ہے اور عام طور پر یہ درج ذیل اقسام میں سے کسی ایک میں آتی ہیں: عبارات کی وضاحت پر مبنی شروح – اس قسم کی شروح کا مقصد متن کے الفاظ اور اصطلاحات کی وضاحت کرنا ہوتا ہے۔ یہ متون گرامر کی وضاحت اور اصطلاحات کی تعریف پر توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ مسائل کی تفصیل پر مبنی شروح – اس قسم کی شروح متن میں ذکر کردہ احکام کی تفصیل میں جاتی ہیں، مثالوں کے ساتھ وضاحت کرتی ہیں اور بعض اوقات استثنائیات یا شرائط بیان کرتی ہیں۔ بعض متون میں یہ سطح اور پہلی سطح ایک ہی شرح میں مل جاتی ہیں۔ اعلیٰ درجے کی شروح – ان شروح میں عام طور پر مختلف مسائل پر بحثیں ہوتی ہیں اور متن میں بیان کردہ مسائل پر مختلف آراء اور دلائل پیش کیے جاتے ہیں، ساتھ ہی ان اقوال کے دلائل اور مصادر کا بھی ذکر ہوتا ہے۔ حاشیہ (جمع: حواشی) – وہ تشریحات جو شروحات پر لکھی جاتی ہیں، جنہیں سپر کمنٹری یا حاشیہ کہا جاتا ہے۔ یہ متون عام طور پر شرح کی حمایت میں مزید تفصیل دیتے ہیں یا اسے وسعت دیتے ہیں۔ یا یہ ایک تنقیدی حاشیہ ہو سکتا ہے جس میں مصنف شرح کی غلطیوں کی نشاندہی کرتا ہے یا دونوں چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ تقریر (جمع: تقریرات) – یہ حاشیہ پر تشریح ہے، عموماً یہ بہت مختصر نوٹس ہوتے ہیں جو حاشیہ پر دیے جاتے ہیں اور ان کا مقصد کتاب کے ہر حصے پر تبصرہ کرنا نہیں ہوتا۔ نوٹ کریں کہ حاشیہ کے دو استعمالات ہیں۔ پہلا تو وہی ہے جو اوپر بیان کیا گیا ہے، اور دوسرا پرانا استعمال ہے جس میں اسے ایک ایسی شرح کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا جو متن کے ہر حصے پر تبصرہ نہ کرتا ہو۔ اسی وجہ سے امام حطاب کی شرحِ مختصر خلیل کو بعض اوقات حاشیہ کہا جاتا ہے۔ راقم: الشیخ رامی النصور [...]
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سوال: میرے والد کو گود لیا گیا تھا اور جب وہ تقریباً 7 سال کے تھے تو ان کی والدہ (جنہوں نے انہیں گود لیا تھا) حاملہ ہوئیں اور انہوں نے میرے والد کو چمچ کے ذریعے اپنا دودھ پلایا۔ کیا اس سے وہ ان کی محرم بن گئیں؟ اور کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے چچا اب میرے محرم ہیں؟ جزاکم اللہ خیراً جواب: قرآن کریم کی سورۃ البقرہ (2:233) میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: “اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال تک دودھ پلائیں۔” یہاں مذکورہ سال سے مراد قمری سال ہیں۔ اس آیت سے فقہاء نے یہ اصول اخذ کیا کہ رضاعت کے ذریعے محرم (یعنی نکاح سے ممانعت والا) رشتہ قائم ہونے کی زیادہ سے زیادہ مدت دو سال ہے۔ کچھ فقہاء، خصوصاً مالکی فقہاء، نے اس دو سال کی مدت میں دو ماہ کا اضافہ کیا ہے۔ یہ اصول اس قاعدے پر مبنی ہے کہ “کسی چیز کے قریب ہونا بھی اس کا ہی حکم رکھتا ہے۔” اس بنا پر دو ماہ کو بھی دو سال کے قریب تصور کرتے ہوئے اسی حکم میں شامل کیا گیا ہے۔ اس مدت کے بعد رضاعت محرم رشتہ قائم کرنے کا سبب نہیں بنتی۔ لہٰذا، آپ کے والد اس عورت کے محرم نہیں سمجھے جائیں گے جس نے انہیں سات سال کی عمر میں دودھ پلایا تھا۔ چونکہ محرم رشتہ قائم نہیں ہوا، اس لیے آپ کے “چچا” یعنی اس عورت کے بیٹے کو بھی آپ کا محرم نہیں سمجھا جائے گا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مالکی فقہاء اس امر کو ضروری قرار نہیں دیتے کہ دودھ بچے تک براہ راست ماں کے سینے سے پہنچے۔ اگر دودھ کسی بوتل، سرنج، چمچ یا کسی اور ذریعے سے پلایا جائے تو بھی یہ کافی ہوگا، بشرطیکہ یہ دو سال اور دو ماہ کی مقررہ مدت کے اندر ہو۔ واللہ اعلم۔ http://seekersguidance.org/ans-blog/2013/11/16/developing-a-mahram-relationship-through-nursing-in-maliki-fiqh/ شیخ رامی النصور [...]
چونکہ انسان اپنے تمام معاملات میں خود مختار نہیں ہو سکتا، وہ بیک وقت کسان، چکی چلانے والا اور نان بائی نہیں بن سکتا، اور ان تمام ضروریات کے لیے دوسروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ اس ضرورت کے تحت، ان کے درمیان جھگڑے اور اختلافات پیدا ہوں گے، اور اس لیے ایک ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے درمیان فیصلہ کرے اور انہیں ایک دوسرے پر ظلم کرنے سے روکے۔ اسی وجہ سے خلافت کا قیام ضروری ہے، کیونکہ خلیفہ کا دائرہ کار قاضی سے زیادہ وسیع ہوتا ہے۔ یہ مقصد ایک فرد یا جماعت کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے، اور اسی لیے یہ فرض کفایہ ہے۔ ماخذ قال خليل: لما كان الإنسان لا يستقل بأمور دنياه، إذ لا يمكن أن يكون حَرَّاثَاً طَحَانَاً خبازاً إلى غير ذلك من الصنائع المفتقر إليها، احتاج إلى غيره، ثم بالضرورة قد يحصل بينهما التشاجر والخصام لاختلاف الأغراض؛ فاحتيج إلى من يفصل تلك الخصومات، ويمنع بعضهم من غرضه، فلهذا وجب إقامة الخليفة، لكن نظر الخليفة أعم إذا جد ما ينظر فيه القاضي، ولما كان هذا الغرض يحصل بواحد وجماعة كان فرض كفاية. الشَّيخ خَلِيل بن إسحاق الجندي۔ التوضيح: شرح مختصر ابن الحاجب، دار ابن حزم، 2012، جلد 5، صفحہ 707. [...]
بسم اللہ الرحمن الرحیم اگر کوئی شخص مخالف جنس کو چھوتا ہے، اور وہ ایسی ہو جن سے عمومی طور پر لذت محسوس کی جاتی ہو، اور اس کے چھونے کا مقصد لذت حاصل کرنا ہو یا لذت حاصل ہو جائے، تو اس صورت میں وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اگر آپ کسی ایسی عورت کو چھوتے ہیں جن سے عمومی طور پر لذت حاصل نہیں کی جاتی، جیسے کوئی قریبی رشتہ دار (محرم)، تو اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔ اگر آپ کسی غیر محرم عورت یا اپنی بیوی کو چھوتے ہیں، تو درج ذیل چار میں سے تین صورتوں میں آپ کا وضو ٹوٹ جائے گا: اگر آپ نے لذت حاصل کرنے کی نیت سے چھوا اور لذت محسوس ہوئی: وضو ٹوٹ جائے گا۔ اگر آپ نے لذت حاصل کرنے کی نیت سے چھوا لیکن لذت محسوس نہیں ہوئی: پھر بھی وضو ٹوٹ جائے گا۔ اگر آپ نے بغیر نیتِ لذت کے چھوا لیکن حادثاتی طور پر لذت محسوس ہو گئی: وضو ٹوٹ جائے گا۔ اگر آپ نے بغیر نیتِ لذت کے چھوا اور لذت محسوس نہیں ہوئی: وضو نہیں ٹوٹے گا۔ لذت سے کیا مراد ہے؟اسے متعین کرنا مشکل ہے، لیکن اسےاندرونی تحریکات جیسے دل کی دھڑکن میں تیزی وغیرہ سے مشابہ سمجھا جا سکتا ہے۔ چھونے سے کیا مراد ہے؟جیسا کہ امام خلیل فرماتے ہیں، چھونے میں عورت کے جسم کا کوئی بھی حصہ شامل ہے، چاہے وہ بال ہوں، ناخن ہوں، اور چاہے درمیان کوئی کپڑا یا رکاوٹ حائل ہو یا نہ ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔ View this post on Instagram A post shared by 𝙈𝙪𝙝𝙖𝙢𝙢𝙖𝙙 𝙏𝙖𝙡𝙝𝙖 𝙂𝙤𝙝𝙖𝙧 𝙈𝙖𝙡𝙞𝙠𝙞 (@malikigohar) ماخذ (وَ) النَّوْعُ الثَّانِي (لَمْسٌ) مِنْ بَالِغٍ لَا مِنْ صَغِيرٍ وَلَوْ رَاهَقَ وَوَطْؤُهُ مِنْ جُمْلَةِ لَمْسِهِ فَلَا يَنْقُضُ وَإِنْ اُسْتُحِبَّ لَهُ الْغُسْلُ كَمَا سَيَأْتِي (يَلْتَذُّ صَاحِبُهُ) وَهُوَ مَنْ تَعَلَّقَ بِهِ اللَّمْسُ فَيَشْمَلُ الْمَلْمُوسَ (بِهِ عَادَةً) خَرَجَ بِهِ الْمَحْرَمُ عَلَى قَوْلٍ وَسَيَأْتِي لِلْمُصَنِّفِ وَخَرَجَ الصَّغِيرَةُ الَّتِي لَا تُشْتَهَى وَغَيْرُ الْأَمْرَدِ مِمَّنْ طَالَتْ لِحْيَتُهُ وَجَسَدُ الدَّوَابِّ فَلَا نَقْضَ فِي الْكُلِّ وَلَوْ قَصَدَ وَوَجَدَ (وَلَوْ) كَانَ اللَّمْسُ (لَظُفْرٍ أَوْ شَعْرٍ) أَوْ سِنٍّ مُتَّصِلَةٍ لِأَنَّ الْمُنْفَصِلَ لَا يُلْتَذُّ بِهِ عَادَةً وَدَخَلَ فِي كَلَامِهِ الْأَمْرَدُ مَنْ نَبَتَ عَذَارَاهُ، فَإِنَّهُ يُلْتَذُّ بِهِ عَادَةً (أَوْ) كَانَ اللَّمْسُ فَوْقَ (حَائِلٍ) وَظَاهِرُهَا الْإِطْلَاقُ (وَأُوِّلَ) الْحَائِلُ (بِالْخَفِيفِ) أَيْ حُمِلَ عَلَيْهِ وَهُوَ الَّذِي يَحُسُّ اللَّامِسُ فَوْقَهُ بِطَرَاوَةِ الْجَسَدِ بِخِلَافِ الْكَثِيفِ (وَ) أُوِّلَ (بِالْإِطْلَاقِ) أَيْ وَلَوْ كَثِيفًا إبْقَاءً لَهَا عَلَى ظَاهِرِهَا وَمَحَلُّهُمَا مَا لَمْ يَضُمَّ أَوْ يَقْبِضْ بِيَدِهِ عَلَى شَيْءٍ مِنْ الْجَسَدِ وَإِلَّا اُتُّفِقَ عَلَى النَّقْضِ (إنْ قَصَدَ) صَاحِبُ اللَّمْسِ مِنْ لَامِسٍ وَمَلْمُوسٍ بِلَمْسِهِ (لَذَّةً) وَجَدَهَا أَوْ لَا (أَوْ) لَمْ يَقْصِدْ وَ (وَجَدَهَا) حِينَ اللَّمْسِ لَا إنْ وَجَدَهَا بَعْدَهُ مِنْ التَّفَكُّرِ وَلَا يَنْقُضُ وَلَا يُشْتَرَطُ فِي اللَّمْسِ أَنْ يَكُونَ بِعُضْوٍ أَصْلِيٍّ أَوْ لَهُ إحْسَاسٌ بَلْ مَتَى قَصَدَ أَوْ وَجَدَ وَلَوْ بِعُضْوٍ زَائِدٍ لَا إحْسَاسَ لَهُ نُقِضَ بِخِلَافِ مَنْ مَسَّ بِعُودٍ أَوْ ضَرَبَ شَخْصًا بِكُمٍّ قَاصِدًا اللَّذَّةَ فَلَا نَقْضَ (لَا) إنْ (انْتَفَيَا) أَيْ الْقَصْدُ وَاللَّذَّةُ فَلَا نَقْضَ [...]
ایک عورت حیض کی حالت میں قرآن مجید زبانی یاد سے یا کسی غیر مصحف چیز جیسے فون یا ٹیبلٹ سے پڑھ سکتی ہے۔ اگر وہ قرآن کی معلمہ یا طالبہ ہے، تو وہ قرآن کو چھو سکتی ہے۔ جب حیض ختم ہو جائے تو یہ رخصتیں ختم ہو جاتی ہیں اور وہ غسل کرنے سے پہلے نہ قرآن چھو سکتی ہے اور نہ ہی تلاوت کر سکتی ہے۔ ایک اہم شرط: اگر جنابت اور حیض کو جمع ہو جائیں تو جنابت کے احکام حیض کے احکام پر غالب آ جائیں گے اور یہ رخصتیں لاگو نہیں ہوں گی؛ وہ نہ قرآن پڑھ سکتی ہے اور نہ مصحف کو چھو سکتی ہے۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ماخذ: الْحَائِضَ إذَا كَانَتْ جُنُبًا وَاغْتَسَلَتْ حَالَ الْحَيْضِ مِنْ الْجَنَابَةِ ثُمَّ انْقَطَعَ الْحَيْضُ فَهَلْ يَجُوزُ لَهَا الْقِرَاءَةُ قَبْلَ الْغُسْلِ مِنْ الْحَيْضِ أَوْ لَا؟ فَعَلَى الْمَشْهُورِ تُمْنَعُ مِنْ الْقِرَاءَةِ، وَتَجُوزُ لَهَا الْقِرَاءَةُ عَلَى مُقَابِلِهِ… (قَوْلُهُ: وَمَسُّ مُصْحَفٍ) أَيْ مَا لَمْ تَكُنْ مُعَلِّمَةً أَوْ مُتَعَلِّمَةً وَإِلَّا جَازَ مَسُّهَا لَهُ… والمُعْتَمَدُ مَا قَالَهُ عَبْدُ الْحَقِّ وَهُوَ أَنَّ الْحَائِضَ إذَا انْقَطَعَ حَيْضُهَا لَا تَقْرَأُ حَتَّى تَغْتَسِلَ جُنُبًا كَانَتْ أَوْ لَا. الدسوقي، حیض میں عورت کے لیے کیا جائز نہیں (دار الفکر، جلد 1، صفحہ 174). [...]
مالکی مسلک میں موجود آراء کو درج ذیل اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے: متفق علیہ: وہ رائے جس پر مسلک کے اندر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے۔ راجح: وہ رائے جو اپنے دلائل کی بنا پر زیادہ مضبوط ہو۔ مشہور: وہ رائے جس کو مسلک کے اکثر علماء نے اختیار کیا ہو۔ مساوی: وہ آراء جو قوت میں برابر ہوں۔ ضعیف: وہ رائے جو راجح کے برعکس کمزور ہو۔ شاذ: وہ رائے جو مشہور کے برعکس ہو یعنی نادر یا عجیب ہو۔ العلامۃ المحقق محمد النابغہ الغلاوی الشنقیطی اپنی بوطلیحیہ میں اس ترتیب کو بیان کرتے ہوئے فتویٰ دینے کا طریقہ کار یوں بیان کرتے ہیں: “فما به الفتوى تجوز المتفق * عليه فالراجح سوقه نفق” “فبعده المشهور فالمساوي * إن عدم الترجيح في التساوي” یعنی فتویٰ دینے کی ترتیب بھی اسی طرح ہوگی جیسا کہ مذکورہ بالا 1 سے 4 اقسام ہیں۔ تاہم یہاں ایک مسئلہ سامنے آتا ہے کہ بعض علماء مشہور کو راجح پر فوقیت دیتے ہیں، جبکہ بوطلیحیہ اور اصول الفقہ کی کتب راجح کو ترجیح دینے کا حکم دیتی ہیں۔ تو کیا یہ ایک تضاد ہے؟ أبي القاسم بن سعيد العميري رحمہ اللہ کی رسالة في الفتوى بغير المشهور والعمل به – جس میں مشہور کے علاوہ کسی اور رائے پر فتویٰ دینے اور اس پر عمل کرنے کی اجازت کا مسئلہ زیر بحث ہے – کی تردید میں، محمد بن عبد السلام البيجري رحمہ اللہ (المتوفیٰ 1169 ہجری) نے مشہور کی تعریف پر ایک گفتگو پیش کی۔ انہوں نے مسلک کے عظیم عالم ابن بشیر رحمہ اللہ کا قول نقل کیا کہ “علماء نے مشہور کی تعریف میں دو آراء پر اختلاف کیا ہے؛ پہلی یہ ہے کہ وہ رائے جس کا دلیل زیادہ مضبوط ہو۔ دوسری یہ کہ وہ رائے جسے زیادہ شہرت حاصل ہو۔” پہلی رائے وہی ہے جو راجح کی تعریف کے مطابق ہے، جبکہ دوسری مشہور کی تعریف کے مطابق ہے۔ ابن عبد السلام اس پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ پہلی تعریف مجتہد سے متعلق ہے، جبکہ دوسری مقلد سے۔ اور اسی بنیاد پر مشہور کی تعریف میں یہ فرق محض لفظی ہے کیونکہ دلائل پر غور کرنا صرف مجتہد کا کام ہے، جبکہ مقلد کو اپنے مسلک کے اکثریتی علماء کی پیروی کرنی چاہیے۔ اس طرح مذکورہ بالا مسئلہ میں کوئی تضاد نہیں ہے، خاص طور پر چونکہ اصول الفقہ کی کتب ان طلبہ کی رہنمائی کے لیے لکھی گئی ہیں جو اجتہاد کے درجے تک پہنچنا چاہتے ہیں، لہٰذا یہ مجتہدین سے مخاطب ہیں۔ جہاں تک علماء اور مفتیوں کا تعلق ہے جو مشہور کو ترجیح دیتے ہیں، وہ اس لیے کہ جو افراد براہ راست قرآن و سنت سے اجتہاد کرنے کا حق نہیں رکھتے، ان کے لیے اپنے مسلک کے مجتہدین کی پیروی کرنا لازم ہے، جو ان کے لیے دلیل بن جاتی ہے۔ اب یہ جاننا باقی رہتا ہے کہ مسلک میں مجتہدین کے درجے کیا ہیں، خصوصاً جب کسی رائے کو مشہور قرار دینا ہوتا ہے۔ علامہ حطاب اپنی مشہور شرح مختصر خلیل میں فرماتے ہیں: “اگر مشہور قرار دینے والے ایک ہی سطح کے نہ ہوں تو زیادہ علم رکھنے والے کی رائے کو فوقیت دی جائے گی۔” پھر وہ ابن الفرات سے نقل کرتے ہیں: “ابن رشد کی تشہیر ابن بزيزة التونسي پر مقدم ہے، اور ابن رشد، المازری اور عبد الوہاب سب برابر ہیں۔” [...]
امام مالک رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے: “دین کے بارے میں بحث و مباحثہ علم کے نور کو بندے کے دل سے ختم کر دیتا ہے۔” ایک آدمی نے ان سے پوچھا: “ایک شخص کے پاس سنت کا علم ہو تو کیا اسے سنت کا دفاع کرنا چاہیے اور اس پر بحث کرنی چاہیے؟” امام مالک نے جواب دیا: “نہیں، بلکہ اسے لوگوں کو سنت کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے؛ اگر وہ اسے قبول کر لیں تو ٹھیک ہے، اور اگر نہیں، تو وہ خاموش رہے۔” ابن وہب بیان کرتے ہیں: “میں نے امام مالک کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جب ان کے پاس کوئی شخص آتا جو اپنی خواہشات کی پیروی کرتا تو وہ فرماتے: ‘جہاں تک میرا تعلق ہے، میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل پر ہوں۔ لیکن تم شک میں ہو، اس لیے جاؤ، کسی اور شک کرنے والے کو تلاش کرو اور اس کے ساتھ بحث کرو۔’ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: ‘(اے حبیبِ مکرّم!) فرما دیجئے: یہی میری راہ ہے، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں، پوری بصیرت پر (قائم) ہوں، میں (بھی) اور وہ شخص بھی جس نے میری اتباع کی، اور اللہ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں’ (سورۃ یوسف: 108)۔” ماخذ وكان مالك يقول: المراء والجدال في العلم يذهب بنور العلم من قلب العبد. وقيل له: الرجل له علم بالسنة أيجادل عنها؟ قال: لا ولكن ليخبر بالسنة فإن قبل منه وإلا سكت. قال بن وهب: وسمعت مالكاً يقول إذا جاءه أحد من أهل الأهواء أما أنا فعلى بينة من ربي. وأما أنت فشاك فاذهب إلى شاك مثلك فخاصمه ثم قرأ: ” قل هذه سبيلي أدعو إلى الله على بصيرة أنا ومن اتبعني وسبحان الله وما أنا من المشركين ” يوسف ١٠٨. الامام القاضی ابراہیم بن نور الدین المعروف بابن فرحون المالکی . “الديباج المذهب في معرفة أعيان المذهب”، دار التراث؛ المجلد 1، الصفحات 115. راقم: الدکتور شادی المصری [...]

وضو کے احکام

وضو کے لیے کون سا پانی استعمال کیا جا سکتا ہے؟

وضو کے لیے کون سا پانی استعمال کیا جا سکتا ہے؟

وضو اور غسل کے لیے کون سا پانی جائز ہے؟ طَہُور، طَاہِر اور نَجِس پانی کی آسان اور جامع وضاحت مالکی فقہ کی روشنی میں۔ …
masah on socks

کیا وضو میں جرابوں پر مسح کیا جا سکتا ہے؟

وضو میں عام جرابوں پر مسح جائز نہیں، صرف چمڑے کی خف پر مسح کی اجازت ہے بشرطیکہ وضو کے ساتھ پہنے ہوں۔ وضو کی شرائط جانیں۔ …
پلاسٹر کے ساتھ وضو

جب جسم پر پلاسٹر (کاسٹ) ہو تو وضو کیسے کیا جائے؟

جب جسم پر پلاسٹر یا کاسٹ ہو تو وضو کس طریقے سے کیا جائے، مسح اور تیمم کے احکام کے ساتھ وضاحت پیش کی گئی ہے۔ …
breaking wudu Maliki Fiqh

وضو توڑنے والی چیزیں کیا ہیں؟

مالکی فقہ کے مطابق وضو ٹوٹنے والے امور کا جامع خلاصہ، جس میں اخراجات، نیند، لمس، شک اور دیگر نواقضِ وضو کی وضاحت شامل ہے۔ …
کیا مخالف جنس کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

کیا مخالف جنس کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

خالف جنس کو لذت کی نیت سے یا لذت پانے پر چھونا وضو توڑ دیتا ہے، چاہے درمیان رکاوٹ ہو یا نہ ہو۔ تاہم، لذت کی نیت اور حصول دونوں نہ ہوں تو وضو نہیں ٹوٹتا۔ واللہ اعلم۔ …
وضو کے بعد اعضاء کا خشک کرنا مکروہ

کیا مالکی مذہب میں وضو کے بعد اعضاء کا خشک کرنا مکروہ ہے؟

امام مالک نے وضو کے بعد اعضاء کو خشک نہ کرنے جیسی غیر ثابت شدہ عادات کو ناپسند فرمایا کیونکہ یہ دین میں شدت (غلو) کا باعث بنتی ہیں اور جان بوجھ کر نقصان پہنچانا بھی حرام ہے۔ …

غسل و جنابت کے احکام

وضو کے لیے کون سا پانی استعمال کیا جا سکتا ہے؟

وضو کے لیے کون سا پانی استعمال کیا جا سکتا ہے؟

وضو اور غسل کے لیے کون سا پانی جائز ہے؟ طَہُور، طَاہِر اور نَجِس پانی کی آسان اور جامع وضاحت مالکی فقہ کی روشنی میں۔ …
غسل کا طریقہ مالکی

غسل کا مکمل طریقہ

غسل کا مستند اور درست طریقہ مالکی مذہب کے مطابق ترتیب بہ ترتیب فرائض اور سنن کا جامع طریقہ مالکی فقہ کا اہم اصول: مالکی مذہب میں غسل کے دوران پانی بہانے کے ساتھ ساتھ پورے جسم پر ہاتھ پھیرنا …
دورانِ جنابت ممنوعات کا بیان

دورانِ جنابت ممنوعات کا بیان

لَا يَحِلُّ لِلْجُنُبِ دُخُولُ الْـمَسْجِدِ ، وَلَا قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ إِلاَّ الآيَةُ وَنَحْوُهَا للتَّعَوُّذِ وَنَحْوِهِ جنبی شخص کے لئے حرام ہے کہ مسجد میں داخل ہو یا قرانِ مجید فرقانِ حمید کی تلاوت کرے سوائے ان آیاتِ مبارکہ کے جو حفاظت …
غسل کا بیان مالکی مذہب اردو

غسل کا بیان

يَجِبُ الْغُسْلُ مِنْ ثَلاَثَةِ أَشْيَاءٍ  الـْجَنَابَةِ وَالـْحَيْضِ وَالنَّفَاسِ وَمَنْ رَأى فِي مَنَامِهِ كَأَ نَّهُ يُجَامِعُ وَلَـمْ يَخْرُجُ مِنْهُ مَنِيٌّ فَلاَ شَيْءَ عَلَيْهِ . تین چیزوں کی وجہ سے غسل فرض ہوتا ہے۔ جنابت حیض نفاس اور اگر کسی خواب میں …

حیض و نفاس کے احکام

کیا حائضہ عورت قرآن کو چھو اور پڑھ سکتی ہے؟

کیا حائضہ عورت قرآن کو چھو اور پڑھ سکتی ہے؟

ایک عورت حیض کی حالت میں قرآن مجید زبانی یاد سے یا کسی غیر مصحف چیز جیسے فون یا ٹیبلٹ سے پڑھ سکتی ہے۔ …
دورانِ حیض مسائلِ نماز و روزہ

دورانِ حیض مسائلِ نماز و صیام

حیض کے اختتام پر غسل کرنا ضروری ہے۔ حیض کی وجہ سے نمازوں کی قضا نہیں، لیکن روزے کی قضا واجب ہے۔ حیض ختم ہونے پر مخصوص نمازوں اور روزے کے احکام پر عمل کریں۔ …
دورانِ حیض جائز و نا جائز

حیض کے دوران کیا ناجائز اور جائز ہے؟

حیض کے دوران نماز، روزہ، طواف، مصحف کو چھونا، اور مسجد میں داخل ہونا ناجائز ہے۔ تاہم، ذکر، دعا، اور قرآن کی تلاوت جائز ہیں۔ …
حیض کی مدت کے حساب کے اوزار اور ان کا استعمال

حیض کی مدت کے حساب کے اوزار اور ان کا استعمال

حیض کی مدت کو ٹریک کرنے کے جدید طریقے، عبادات کا حساب اور علماء سے مشاورت کا فائدہ۔ …
حیض کی مدت کا حساب کیسے لگائیں

حیض کی مدت کا حساب کیسے لگائیں؟

حیض کی مدت کا حساب خون شروع ہونے سے لے کر اختتام تک دنوں کی گنتی سے کیا جاتا ہے، جہاں 15 دن سے کم خون حیض ہے اور زیادہ خون استحاضہ۔ مبتداۃ، معتادۃ اور حاملہ خواتین کے لیے الگ …
حیض کی تعریف مالکی فقہ کے مطابق

حیض کی تعریف

حیض کو عمومی زبان میں ماہواری یا “پیریڈز” کہا جاتا ہے، مگر فقہ میں اس کی ایک مخصوص تعریف ہے جو اس کو طبی تعریف سے ممتاز کرتی ہے۔ …

تیمم کے احکام

تیمم کے چند احکام

تیمم کے چند احکام

اگر دورانِ نماز پانی کی موجودگی کا پتا چل جائے تو تیمم کا حکم کیا ہو گا۔ …
تیمم کے فرائض، سنت و فضائل(مالکی)

تیمم کے فرائض، سنت و فضائل

اس مراسلہ میں تیمم کے فرائض ، سنتیں اور فضائل بیان کئے گئے ہیں …
تیمم کا طریقہ (مالکی)

تیمم کرنے کا طریقہ (مالکی)

مالکی فقہ کے مطابق تیمم کا مکمل طریقہ کیا ہے؟ …
تیمم کی اجازت

مالکی فقہ میں تیمم کی اجازت کس کو ہے

تیمم نام ہے پانی کی غیر موجودگی میں جنسِ زمین میں سے کسی پاک چیز کے ذریعے طہارت حاصل کرنا۔ …

نماز کے احکام

فوت شدہ نمازوں کی قضا کیسے کی جائے؟

فوت شدہ نمازوں کی قضا کیسے کی جائے؟

فوت شدہ نمازوں کی قضا مالکی فقہ میں فوری ادا کی جاتی ہے۔ ترتیب، تعداد، سفر، جمعہ اور نوافل سے متعلق اہم احکام جانئے۔ …
مالکی مذہب میں اذان کیسے دی جاتی ہے؟

مالکی مذہب میں اذان کیسے دی جاتی ہے؟

مالکی فقہ کے مطابق اذان کا صحیح طریقہ، ترجیع، اذان کے الفاظ، مستحبات اور مکروہ امور کی جامع اور آسان وضاحت۔ …
Tashahud-maliki

تشہد میں کیسے بیٹھوں، انگلی کو کیسے حرکت دوں، اور تشہد کیسے پڑھوں؟

نماز میں صحیح بیٹھنا، طمأنینہ اور تشہد کی ادائیگی اہم ہے۔ اس مضمون میں مالکی فقہ کے مطابق مکمل طریقہ آسان انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ …
what is witr and shaf

وتر کیا ہے اور میں اسے کیسے ادا کروں؟

مالکی مذہب کے مطابق نمازِ وتر اور شفع کا درست طریقہ، وقت اور احکام جانیں۔ کیا وتر کے بعد نفل پڑھ سکتے ہیں؟ مکمل تفصیل پڑھیے۔ …
qunut Subh Prayer

قنوت کیا ہے اور میں اسے کیسے ادا کروں؟

مالکی مذہب کے مطابق نماز فجر میں قنوت کا درست طریقہ، مسنون دعا اور شرعی مسائل جانیں۔ کیا قنوت رکوع سے پہلے ہے یا بعد میں؟ مکمل تفصیل پڑھیے۔ …
نماز وتر اور اس کے احکام مالکی فقہ اردو

وتر کیا ہے اور اسے کیسے پڑھا جاتا ہے؟

شفع اور وتر کیا ہیں؟ وتر وہ نماز ہے جو دن کی تمام نمازوں کا اختتام کرتی ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ دن کی آخری نماز وتر ہو۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ عربی …
Loading...

روزوں کے احکام

روزے میں قے سے مغلوب ہونے کا کیا حکم ہے؟

روزے کی حالت میں قے کا حکم

استاذ: بشیر بن بابا علی ولد بابا علی فقہ امام مالکؒ کے مطابق باب: احکامِ صیام جو شخص روزے کی حالت میں قے سے مغلوب ہو جائے، اس کا کیا حکم ہے؟ اور کیا وہ قے کے سبب روزہ ٹوٹ …
کیا انجیکشن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

کیا انجیکشن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

مالکی فقہاء میں اختلاف ہے کہ آیا انجیکشن سے روزہ ٹوٹتا ہے یا نہیں۔ زیادہ مضبوط رائے یہ ہے کہ انجیکشن، چاہے غذائیت بخش ہو یا نہ ہو، روزہ نہیں توڑتا بشرطیکہ کچھ معدے تک نہ پہنچے۔ …
یومِ شک کا روزہ رکھنا کیسا؟ مالکی مذہب اردو ، مالکی مذہب پاکستان

مالکی مذہب کے مطابق یومِ شک کا روزہ رکھنے کے احکام کیا ہیں

یومِ شک اپنی اضافی ترکیب کے ساتھ ایک فقہی اصطلاح ہے، اس سے مراد شعبان کی تیسویں تاریخ یا شعبان کی انتیسویں تاریخ کے بعد کا دن ہے، جبکہ شرعاً معتبر ثبوت کے ساتھ اس دن رمضان کے چاند کی …
اعتکاف کے احکام (مالکی)

اعتکاف کے احکام (مالکی)

اس مراسلہ میں اسلام میں اعتکاف کیا ہے؟ اعتکاف کی کم سے کم مقدار کتنی ہے؟ اعتکاف کے لئے مسجد میں کب داخل ہونا ہے اور کب نکلنا ہے؟ اعتکاف کب فاسد ہوتا ہے؟ اور اعتکاف سے متعلق دیگر احکامات …
کن چیزوں سے روزہ ٹوٹتا ہے اور کن سے روزہ نہیں ٹوٹتا؟

کن چیزوں سے روزہ ٹوٹتا ہے اور کن سے روزہ نہیں ٹوٹتا؟

اس مراسلہ میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جن سے روزہ ٹوٹتا ہے؟ وہ کون سی چیزیں ہیں جن سے نہیں ٹوٹتا؟ وہ حالات جہاں روزہ ٹوٹنے پر قضا اور کفارا واجب ہیں۔ وہ حالات …
صیامِ رمضان کے احکام کیا ہیں؟ جو صیامِ رمضان کے واجب ہونے کا قائل نہ ہو، اس کا کیا حکم ہے؟ رمضان کے روزوں کے فرائض کیا ہیں اور اس کی فرضیت کی شرائط کیا ہیں؟

صیامِ رمضان کے احکام کیا ہیں؟

صیامِ رمضان کے احکام کیا ہیں؟ جو صیامِ رمضان کے واجب ہونے کا قائل نہ ہو، اس کا کیا حکم ہے؟ رمضان کے روزوں کے فرائض کیا ہیں اور اس کی فرضیت کی شرائط کیا ہیں؟ …

قربانی کے احکام

مالکی فقہ میں احرام سے نکلنے کے لیے کتنے بال کاٹنے چاہییں؟

مالکی فقہ میں احرام سے نکلنے کے لیے کتنے بال کاٹنے چاہییں؟

اگر کوئی شخص حج یا عمرہ کے احرام سے نکلنے کے لیے اپنا سر منڈوانا نہ چاہے، تو دونوں جنسوں (مرد اور عورت) کے لیے لازم ہے کہ پورے سر سے بال کاٹیں۔ مرد کے لیے بہتر یہ ہے کہ …
کیا میں قربانی کے خرچ کو دوسروں کے ساتھ تقسیم کر سکتا ہوں؟

کیا میں قربانی کے خرچ کو دوسروں کے ساتھ تقسیم کر سکتا ہوں؟

عید الاضحیٰ کے موقع پر ہر شخص (جو غلام نہ ہو) کے لیے سنت مؤکدہ ہے کہ وہ اپنی طرف سے قربانی کرے۔ کسی قربانی کی قیمت کو دوسروں کے ساتھ تقسیم کرنا جائز نہیں ہے۔ اگر کئی لوگ مل …
ذبح کے شرائط و احکام

ذبح کے شرائط و احکام

ذبح کے شرائط ________________________________________ تمییز (سمجھ بوجھ) جو شخص نابالغ ہو، یا مجنون، یا بیہوش، یا نشے میں ہو، اس کا ذبح کرنا درست نہیں۔ ________________________________________ اسلام یا اہل کتاب ہونا ذابح (ذبح کرنے والا) مسلمان یا اہل کتاب ہونا …
قربانی کے مسائل مالکی مذہب اردو

قربانی کے مسائل (مالکی)

عید کے لیے جانور کی قربانی کرنا ایک سنت ہے جو اس کی استطاعت رکھنے والوں پر واجب ہے۔ اور بالکل اسی طرح قربانی کے مسائل کا علم حاصل کرنا بھی ضروری ہے۔ …

زکوٰۃ کے احکام

Zakat Fitr Sadqa Maliki Fiqh

زکوٰۃ الفطر (صدقہ فطر) کے احکام و مسائل

زکوٰۃ الفطر، جسے اسلامی فقہی اصطلاح میں “صدقۃ الفطر”، “زکوٰۃ الابدان” (بدن کی زکوٰۃ) یا “زکوٰۃ النفوس” (جان کی زکوٰۃ) بھی کہا جاتا ہے، دینِ اسلام کا ایک اہم مالی و بدنی فریضہ ہے جو رمضان المبارک کے روزوں کے …
مصارفِ زکوۃ کون ہیں

مصارفِ زکوٰۃ

زکوٰۃ اسلام کا ایک اہم فریضہ ہے جس کا مقصد معاشرے میں مالی توازن کو برقرار رکھنا اور ضرورت مند افراد کی مدد کرنا ہے۔ …
زکوۃ کے اموال اور نصاب کی تفصیلات

مالکی فقہ کے مطابق زکوۃ کے اموال اور نصاب کی تفصیلات

زکوٰۃ، اسلام کا رکن، مالکی فقہ میں سونا، جانور، اور زرعی پیداوار پر واجب ہے، ہر ایک کے لیے مخصوص نصاب مقرر ہے۔ یہ مضمون ان اصولوں کی وضاحت کرتا ہے۔ …
مالکی فقہ کے مطابق زکوٰۃ کی شرائط کا بیان

مالکی فقہ کے مطابق زکوٰۃ کی شرائط کا بیان

مالکی فقہ کے تحت زکات صرف مسلمان، آزاد اور نصاب کے مالک افراد پر فرض ہے، نیت اور قمری سال کا گزرنا لازمی ہیں، اور اگر عادل امیر نہ ہو تو زکات خود تقسیم کرنی چاہئے۔ …

متفرقات

how to do istikhara

میں استخارہ کیسے کروں؟

استخارہ کا مسنون طریقہ، دعا اور صحیح وقت جانیں۔ کیا خواب نظر آنا ضروری ہے؟ مالکی فقہ کے مطابق مکمل رہنمائی اور دعائے استخارہ پڑھیے۔ …
عملِ اہلِ مدینہ : سلف کے علم و عمل کی روشنی میں

عملِ اہلِ مدینہ : سلف کے علم و عمل کی روشنی میں

سلف صالحین اور علماء کی روایات کے ذریعے عملِ اہلِ مدینہ کی فوقیت کو سمجھیں۔ یہ مضمون اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ کیسے عمل کو حدیث پر ترجیح دی گئی ہے۔ …
امام مالک اور لیث بن سعد کے درمیان خط و کتابت: اہل مدینہ کے عمل کی پیروی پر علمی مکالمہ

امام مالک اور لیث بن سعد کے درمیان خط و کتابت: اہل مدینہ کے عمل کی پیروی پر علمی مکالمہ

مالک بن انس کا لیث بن سعد کے نام خط: اہل مدینہ کے عمل اور فتووں کی اہمیت پر مکالمہ۔ …
ہوائی جہاز میں نماز کیسے ادا کریں؟

ہوائی جہاز میں نماز کیسے ادا کریں؟

ہوائی جہاز میں نماز کے لیے زمین پر نماز کو ترجیح دیں، بصورتِ دیگر …
اسلامی متون کی درجہ بندی

اسلامی متون کی درجہ بندی کیسے کی جاتی ہے؟ – شیخ ہارون صالح

اسلامی متون کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے: 1) متن، 2) شرح، 3) حاشیہ۔ شرح خود مختلف اقسام میں آتی ہے، جن میں وضاحت، تفصیل، اور اعلیٰ سطح کی شروح شامل ہیں۔ …
مالکی فقہ میں رضاعت کے ذریعے محرم رشتہ کا قیام

مالکی فقہ میں رضاعت کے ذریعے محرم رشتہ کا قیام

مالکی فقہ میں رضاعت سے محرم رشتہ دو سال اور دو ماہ کی مدت میں قائم ہوتا ہے۔ سات سال کی عمر میں دودھ پلانے سے محرم رشتہ نہیں بنتا، چاہے دودھ چمچ یا کسی اور ذریعے سے دیا گیا …
Loading...